Daily Mashriq

فوجی عدالتوں کی مخالفت کیوں ؟

فوجی عدالتوں کی مخالفت کیوں ؟

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام اور ان کی مدت کی توسیع کی مخالفت اور اسے سول عدالتوں کی توہین قرار دینے کے اقدام کی اس امر پر حمایت نہیں کی جاسکتی کہ فوجی عدالتوں کا قیام ایک خاص قسم کے حالات میں اشد ضرورت کے تحت عمل میں لایا گیا اور جب تک دہشت گردوں کو ان کے آخری انجام تک پوری طرح سے نہیں پہنچا یا جاتا ان عدالتوں کی موجودگی اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ عام عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات بر سہا برس چلتے ہیں اکثر مقدمات میں ناکافی شواہد اور ناقص تفتیش کے باعث منصف کو قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے طو عا ً و کر ھا ً ہی ملزموں کے حوالے سے نرمی کا رویہ اپنانا پڑتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال صرف دہشت گردوں کے خلاف مقدمات ہی میں نہیں بلکہ فرقہ واریت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے ملزمان کو بھی اس سقم کے باعث فوائد ملتے رہے ہیں۔ اگر پارلیمان کے اراکین اور حکومت کو اس ضرورت کا احساس ہوتا اور وہ بروقت قانون سازی کرکے قوانین شہا دت کو سنگین حالات کے موافق بناتے اور پولیس اور تفتیشی اداروں کو منظم اور فعال بنانے کی سنجید ہ سعی کی جاتی تو فوجی عدالتوں کے قیام کی نوبت ہی نہ آتی ۔اب جبکہ فوجی عدالتوں کے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے سے صورتحال میں تبدیلی کا احساس ہونے لگا اور ملک کے امن و امان کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے تو فوجی عدالتوں سے کراہت کے اظہار کا کوئی جواز نہیں ۔ جب تک دہشت گردی کے خطرات اور دہشت گردوں کی موجود گی کا احساس باقی ہے تو ان عدالتوں کو توسیع ملنی چاہیئے یا پھر سول عدالتوں کو قانون سازی کرکے اس قابل بنایا جا ئے کہ دہشت گردوں کو سزا دینے میں کوئی خلا محسوس نہ ہو ۔
افسو سناک طرز عمل
صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کی تقریب میں نوجوان کا ممبر اسمبلی کو تھپڑ مار کر اپنا کوئی بدلہ چکانا اور ایک ممبر صوبائی اسمبلی کا حامیوں کے ساتھ صوبائی وزیر تعلیم کی تقریب پر دھاوا دونوں ایسے طرز عمل ہیں جن کی کوئی گنجائش نہیں ۔ سیاست برداشت اور رواداری کا نام ہے اور اسی ماحول ہی میں سیاست ممکن ہے۔محولہ واقعات سے بہر حال یہ بات تو سامنے آتی ہے کہ اب جیسا کرو گے ویسا بھروگے کے دن آگئے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے حساب برابر کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ اگر چہ اسے عدم برداشت سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا مگر مصلحت کا شکار ہو کر بھگتنے کی روایت کا خاتمہ مثبت طرز تبدیلی بھی ہے ۔اس طرح کے واقعات سے ان لوگوں کی آنکھیں کھلیں گی جو عوام کو کالانعام ہی سمجھتے ہیں ۔اب عوام کالا نعام نہیں بلکہ باشعور ہو چکے ہیں خاص طور پر نوجوان طبقہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں آگے آگے ہے ۔یہ ماحول ظلم اور نا انصافی کے سد باب کا شافی طریقہ ہے جہاں تک سیاست شائستگی اور عدم تشددکا معاملہ ہے اس کی ضرورت واہمیت معاملات کی حد تک بہت ضروری ہے۔ آخر یہ سیاسی عناصر کی مجبوری کیوں بن گئی ہے کہ وہ حکومتی وسائل سے تکمیل شدہ منصوبوں کو ذاتی کاوشوں کا رنگ دے کر اس کو اپنے مقاصد کے لئے کیش کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ہمارے تئیں شائستہ سیاست اور اخلاق کا تقاضا اور پختون روایات ہی ہیں کہ ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور اجتماعی معاملات کو اجتماعی رہنے دیا جائے اور اگر کسی فریق کی جانب سے ایسا نہیں کیا جاتا تو دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ یلغار پر اتر آئے ۔
زبانوں کی ترویج اور تحفظ پر توجہ کی ضرورت
پشتواکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی طرف سے پشتورسم الخط کے حوالے سے ورکشاپ کی اختتامی تقریب میںرئیس الجامعہ یہ مشورہ اپنی جگہ معنی رکھتا ہے کہ زبان کی ترویج کے لئے ضروری ہے کہ اسے مارکیٹ کی زبان بنایا جائے۔ اس مشورے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مارکیٹ کی زبان بازاری زبان نہیں ہوتی بلکہ تبدیل ہوتے حالات کے مطابق زبان کو ڈھالنا ہے جس کے لئے زبان میں وسعت اور نئے الفاظ کو سمو دینا اور نئے الفاظ متعارف کرانا ہے جہاں تک زبان میں تبدیلی کا تعلق ہے یہ ایک فطری عمل ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو ہمارے ہاں تقریبا ًتمام زبانوں میں تغیر وتبدل ہی واقع نہیں ہو رہا ہے بلکہ نئی نسل مادری زبانوں سے غافل اور قدرے لا تعلق بھی نظر آتی ہے۔ دیگر زبانیں سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں بلکہ احسن بات ہے مگر اپنی زبان ثقافت کے تحفظ کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔

اداریہ