Daily Mashriq


سب اچھا کہاں اور کس شعبہ میں ہے ؟

سب اچھا کہاں اور کس شعبہ میں ہے ؟

انتہا پسندی کا بیانیہ کس نے لکھا ، مقا صد کیا تھے ، فائدہ کس کو ہوا اور نقصان وہ توظاہر ہے کہ اس ملک کے عوام کو ہی پہنچا ۔ مگر جس سوال کو ہمارے اہل دانش نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لئے یہی کچھ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں ۔ جو ہمارے لئے لکھا بویا گیا اور کاٹا بھگتا ہم نے ؟ ۔ ہمارے اس سماج کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اب ایک قسم کی انتہاپسندی کے علمبر دار دوسری قسم کی انتہا پسند ی کی اس شد و مد سے مذمت کرتے ہیں جیسے پہلی قسم کی انتہا پسندی ہا ضمے کا چورن ہو ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سازش کے تحت بوئی گئی نفرتیںعشرے کھوٹے کر جائے اہل دانش بھی چپ کا روزہ توڑنے کو تیار نہیں ۔ معاف کیجئے گا ابتدائی سطور کچھ خشک خشک سی لکھی گئیں۔ ہمارے چار اور یہی صورتحال ہے ۔ سوشل میڈیا پر ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو حب الوطنی کے بھاشن دینے والے فیس بکی مجاہد ین کی اکثریت یہ نہیں جانتی کہ حب الوطنی ہے کیا ۔ جنس بازار ہے یا دہقان کے کھیتوں میں کاشت ہوتی ہے ۔ خدا کے بندو حب الوطنی دھرتی سے محبت اور زمین زادوں کے لئے شرف انسانی کا جذبہ رکھنے سے عبارت ہے ۔ اور وں کا احترام قانون کا تقاضہ ہے مگر کیا زمین زادوں کے احترام کا بھی کوئی قانون ہے ؟ َ۔ مسائل بکھرے ہوئے ہیں پر ستم یہ ہے کہ ہر حکومت اپنے دور کی ناکامیوں کو چھپا نے کے لئے پہلی حکومت یا حکومتوں کو کوسنے کے راٹ درباری سے محبت کے مرض میں مبتلا ہے ۔ چاروں صوبوں میں یہی حال ہے ۔ اور وفاق کا تو با و ا آدم ہی نرالا ہے ۔ میاں صاحب کی تجربہ کار ٹیم ساڑھے تین برسوں میں کیا کرپا ئی ؟اس سوال کو سمجھنے کے لئے سقراطی بقراطی کی ضرورت ہر گز نہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی خاندان اور برادری کے افراد نے اقتدار کے اتنے مزے نہیں لئے جتنے اس دور میں لئے جارہے ہیں ۔ طرفہ تماشایہ ہے کہ حساس امور پرسوالات اُٹھا نے والوں کو جواب میں گالیاں پڑتی ہیں ۔ تجربہ کار ٹیم نے پی آئی اے کا جو حشر کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ بظاہر ریلوے کے خسارے میں کمی کے دعوے ہیں مگر زمینی حقیقت کچھ اور ہے نواز شات کے سلسلہ نادر شاہی کو سمجھنا ہو تو اس ایک بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ پنجاب میں ایک کلچرل کمپنی تخلیق کی گئی ہے پی ٹی وی کے سابق چیئر مین محمدمالک اس کے چیئر مین ہیں ایک ارب روپے کا فنڈ مختص ہوا اس کمپنی کے لئے۔ 60کروڑ روپے کمپنی کی تخلیق کے ساتھ ہی جاری کر دیئے گئے ۔ کمپنی کا آڈٹ کون کرے گا قانون میں اس کی گنجائش نہیں اور 60کروڑ روپے جاری کس لئے کیئے گئے ۔ سوال کرنے کی کس کو پڑی سوال کرنے کا فائدہ۔ ایک لشکر ہے نون لیگ کے پاس مخالفین اور ناقدین کی بھد اڑانے کے لئے ۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دوسرے صوبوں میں راوی چین لکھتا ہے ۔ ابتری ہر طرف ہے ۔ چند ماہ قبل بلوچستان کے سیکر ٹری خزانہ کے گھر سے 70یا 73کروڑ روپے سکہ رائج الوقت بر آمد ہوئے ۔ چند دن بعد یہ رقم 63کروڑ پر آن کو رک گئی 7یا 10کروڑ روپے کی رقم کہا ں گئی ۔ مگر اب تو وہ سیکرٹری دو ارب روپے میں نیب سے معاملات طے کر چکے۔ اس صورتحال پر بہت سارے دوستوں اور بالخصوص ہمارے فقیر راحموں کہتے ہیں کہ 10کروڑ کی کرپشن کرنے دی جائے سات کروڑ دے کر پلی بارگیننگ کر لیں گے عجیب قانون ہے ۔انسدا د کرپشن کا نیب کے حوالے سے کرپشن کیجئے اورپکڑے جانے پر معاملات پلی بارگین کے ذریعے طے کر لیجئے ۔ ماضی کا قصہ ہے بہت پرانی بات نہیں ہمارے کمانڈو صدر جنرل پرویز مشرف کے دور کا ۔ان سے پہلے دور میں ایک ایڈ مرل نے( منصورالحق اسم گرامی تھا ) 9ارب روپے کا فراڈ کیا۔ لمبی چوڑی تحقیقات کے بعد انہیں گرفتار کر کے امریکہ سے لایا گیا کہا گیا 16کروڑتحقیقات پر خرچ ہوئے ہیں ۔ بڑے دعوے ہوئے ۔ہا ہا کاری مچی ۔لیکن انت یہ ہوا کہ جناب محترم منصور الحق 26کروڑ روپے کی پلی بارگین کر کے گھر کو سدھا ر ے ۔ خسارے کا سودا تو بالکل نہیں تھا ۔ 8ارب 14کروڑ روپے جیب میں ڈالے رخصت ہوئے اب گا لف کھیلتے اور پوترے نہلا تے ہیں ۔ بہت اد ب سے عرض کروں ، حضور!یہ انسداد کرپشن کا ادارہ ہے نیب یا کرپشن کی ترغیب دینے کا۔ نیب والے کہتے ہیں ادارے کے قیام سے اب تک لگ بھگ ایک کھرب روپے کے قریب لوٹی ہوئی دولت واپس لائے ۔ لائیں ہوں گے آپ کا فرض ہے اسی کام کی تنخواہ لیتے ہیں ۔ خدائی فوجدار تو بالکل نہیں ۔ مہربانی کیجئے کبھی اس ملک کے بد قسمت لوگوں کو جو ملک کے اصلی مالک ہیں ( یہاں محمد مالک یا مالک فلم ہرگز مراد نہیں ) کو بھی یہ بتا دیا جائے کہ کرپشن کی اصل رقم کا تناسب نکالتے وقت فار مولہ ۔ ایڈ مرل (ر)منصور الحق والا ہوگا یا مشتاق رئیسانی سیکر ٹری خزانہ بلوچستان والا؟کرپشن کے عظیم الشان معرکوں اور انسداد کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات ہر دو کے نتیجے میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔ افراد کی کرپشن پر نظام گالیاں کھا رہا ہے ۔ کسی کو سوچنے کی تو فیق نہیں ہو رہی ہے کہ اگر اصلاح کی سنجیدہ کو ششیں نہ ہو سکیں تو نتیجہ کیا نکلے گا ۔ کبھی ٹھنڈے دل سے غور کیجئے پانچ دس ہزار کی رشوت لینے والے عام سرکاری اہلکارکا کیا قصور ہے ۔ وہ گرفتار بھی ہو ذلیل بھی ؟ اربوں کی کرپشن اگر کروڑوں کی پلی بارگین سے حلال ہو سکتی ہے تو قانون بنا دیجئے پانچ دس ہزار کی کرپشن کو خیر ات امداد پانچ دس لاکھ کی کرپشن کو صدقہ سمجھا جائے گا ۔ معاف کیجئے گا ملک ایسے چلتے ہیں نا آگے بڑھتے ہیں کہ با لا دست طبقات کے لئے ایک قانون ہو اور عام آدمی کے لئے دوسرا قانون ۔ اس امتیازی قانون سے قانون کی عملداری پر یقین ٹوٹ رہا ہے ۔ فائدہ ہمہ قسم کے شدت پسند اٹھا رہے ہیں ۔ غور وفکر کا وقت نکال لیجئے ، قبل اس کے کہ وقت لمحہ موجود کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بنا دے مان لیجئے کے سب اچھا ہر گز نہیں ہے ۔

متعلقہ خبریں