کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

بیٹے کو کفن چور باپ بخشو انے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی بس کفن چوری کرتے ہوئے مردوں کو تھوڑی سی تکلیف دینا پڑتی تھی اور لوگ اس کے باپ کو دعائیں دینے لگے تھے ، ایسی ہی حرکت دودھ بنانے والی( جی ہاں بنانے والی ) کمپنیوں کے مالکان پر انے دور کے ان دودھ فروشوں کو فرشتہ ثابت کرنے کے لئے کر رہے ہیں جو دودھ میں صرف پانی کی ملاوٹ کر کے خالص کے بجائے ناخالص دودھ عوام پر فروخت کرتے تھے ۔ ان میں بھی اکثر ایسے تھے جو گاہکوں کے آگے قسمیہ کہتے تھے کہ انہوں نے دودھ میں پانی نہیں ملایا ۔ اور ان کا دعویٰ بالکل درست ہوتا تھا کیونکہ وہ دودھ میں پانی ہر گز شامل نہیں کرتے تھے بلکہ دوہنے والے برتن میں پہلے ہی پانی ڈال کر اس میں دودھ دوہتے تھے اور ان کا کہا مستند ہے میرا فرمایا ہوا کے زمرے میں شامل ہوتا تھا وہ پانی میں دودھ ملاتے تھے ۔سپریم کورٹ نے ناقص دودھ اور مضر صحت پانی کے معاملے پر ایک مقدمے میں جو ریمارکس دیئے ہیں وہ چشم کشابھی ہیں اور ملک کے متعلقہ اداروں بلکہ وزارت صحت کے لئے غور طلب بھی ، پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے سامنے نامی گرامی کمپنیوں اور شیر فروشوں کے کرتوتوں کی جو رپورٹ پیش کی ہے اس پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ زہر یلا دو دھ پلا کر شہریوں کو مارنے کی کوشش نہ کی جائے ، عدلیہ بچوں کو زہر یلا دودھ پلانے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈز نے عدالت کو بتایا کہ معروف کمپنی کے دودھ سے فارمولین نکلا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو مردہ جسم کو محفوظ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ عبیداللہ علیم نے کہا تھا 

کوئی اور تونہیں ہے پس خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں
نہ یہ معاملہ اتنا سادہ ہے نہ ہی صرف پنجاب تک محدود ہے اپنے صوبے کے دیگر شہروں کو اگر ہم چھوڑ بھی دیں اور صرف صوبائی دارالحکومت پشاور ہی کو دیکھیں تو نہ صرف یہ کہ سپریم کورٹ میں جن کمپنیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے محولہ زہر یلے دودھ کی سپلائی یہاں بھی ہوتی ہے بلکہ شہر بھر میں شیر فروشوں کے ہاں جو کھلا دودھ ملتا ہے ان میں بھی شاید ہی خوف خدا رکھنے والا کوئی ہو جو واقعی خالص دودھ فروخت کرتا ہو وگر نہ فارمولہ دودھ ہر جگہ دھڑلے سے فروخت ہو رہا ہے ۔اور ہر دکان پر دو دو تین تین کوالٹی کا دودھ ملتا ہے ، اس کے باوجود اس دودھ میں کپڑے دھونے ولا ڈٹر جنٹ اور یوریا ملاکر اسے گاڑھا کر کے اصلی دودھ کے نام پر گاہکوں کی زندگیوں سے کھیلنے کایہ گھنائونا کاروبار جاری و ساری ہے ۔ مگر محکمہ صحت کا عملہ اپنی جیبیں بھر کر نہ صرف عوام کی صحت سے کھیل رہا ہے بلکہ اپنی عاقبت بھی خراب کررہا ہے ۔ اور وہ جو کسی زمانے میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا سلسلہ ہوتا تھا اب وہ بھی مفقود ہو چکا ہے بلکہ یہ جو سپریم کورٹ نے ناقص پانی کا بھی تذکرہ کیا ہے تو اس کی حقیقت بھی سب عیاں ہے ممتاز مزاحیہ شاعر انور مسعود نے کہا ہے کہ
میرے پانی میں ملا اور ذرا ساپانی
میری عادت ہے کہ پیتا ہوں میں پتلا پانی
مجھ کو شوگر بھی ہے اور پاس شریعت بھی ہے
میری قسمت میں نہ میٹھا ہے نہ کڑوا پانی
گزشتہ کئی برس کے دوران متعدد بار منرل واٹر بوتلوں میں بھر کر فروخت کرنے والی کئی کمپنیوں کے ناقص اور گندا پانی بھر کر فروخت کرنے کے حوالے سے خبریں اخبارات میں چھپتی رہی ہے ۔مگر عجیب بات ہے کہ ان کمپنیوں کے نام مشتہر کرنے کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ کونسی کمپنی انہیں منرل واٹر کے نام پر عام نلکوں یا پھر ناقص کوالٹی کا پانی بیچ کر اپنی تجوریوں کا وزن زیادہ کر رہی ہے ۔ اس حوالے سے جب بھی کوئی خبر چھپی تو راقم نے متعلقہ اداروں سے اپنے کالم میں یہی استفسار کیا کہ ان کمپنیوں کے نام مشتہر کئے جائیں تاکہ عوام ہو شیار ہو سکیں مگر کسی کے کانوں پر جوں تک رینگنے کی خبر نہیں آئی۔ ہوسکتا ہے کہ متعلقہ کمپنیاں حکام سے زیادہ مستعد ہو کر انہیں ان کمپنیوں کے بارے میں خاموش رہنے پر آمادہ کر دیتی ہوں ۔ سپریم کورٹ میں زہریلے دودھ کو ڈبوں میں بند کرنے والی کمپنیوں کے نام بتا کر اگر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جرات رندانہ سے کام لے ہی لیا ہے تو ملک کی جو منرل واٹر کمپنیاں ناقص پانی بوتلوں میں بھر کر فروخت کر رہی ہیں ان کے نام ظاہر کرنے میں کیا قباحت ہے ، ابھی چند ہفتے پہلے اسی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ناقص بناسپتی گھی اور خوردنی تیل کمپنیوں کے بارے میں ایک اشتہار چھپوا کر عوام کو ان کے بارے میں خبر داری دی تھی ، جس پر بہت سی کمپنیوں کی جانب سے احتجاج بھی سامنے آیا تھا مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اشتہار واپس نہ لیانہ ان کمپنیوں کے دبائو میںکوئی تردید کی ۔ جہاں تک ناقص بلکہ زہر یلے دودھ والی کمپنیاں ہیں تو ان میں سے اکثر کمپنیوں نے اپنے ڈبوں پر دود ھ کالفظ نہیں لکھا بلکہ وائٹنر (whitener)کا لفظ لکھ کر خود کو قانونی طور پر محفوط کرنے کی کوشش کی ہے ، تاہم ایک لحاظ سے یہ لوگ قانون کی گرفت میں پھر بھی آتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ڈبو ں پر (ingredients)یعنی متعلقہ پروڈکٹ میں شامل اجزاء کی تفصیل فراہم نہیں کی جو بند ڈبو ں یا بوتلوں پر اصولی طور پر درج ہونی چاہیئے ۔ اور چائے کا بہترین جوڑ کے الفاظ لکھ کر زہر فروخت کر رہے ہیں جبکہ ٹی وی اشتہارات میں ماڈلز سے ڈانس کرواتے ہیں تاکہ متعلقہ ادارے بھی محفوظ ہو کر عوام تک یہ زہر پہنچانے کی راہ کھوٹی کرنے میں ناکام رہیں ۔

اداریہ