حکمرانوں کے آمرانہ رویئے

حکمرانوں کے آمرانہ رویئے

ملک میں کچھ سرکاری محکمے ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں عوام اچھی رائے نہیں رکھتے۔ حالیہ دنوں میں کچھ واقعات اس نوع کے بھی سامنے آئے کہ اب کچھ کی تخصیص بھی باقی نہیں رہی ۔ محکمہ تعلیم جس کی دیانت و امانت اور پارسائی لوگ بطور مثال پیش کرتے اب اس کے سکینڈل بھی روزانہ اخباروں کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ وہ سرکاری محکمے جن کی کار کردگی ہمیشہ سے زیر بحث رہی ہے اُن میں پولیس کا محکمہ خاصا نمایاں ہوتا ہے ۔ ہمارے دوست نعیم صاد ق نے اپنے ایک برقی مراسلے میں رائے ظاہر کی ہے کہ پولیس کے محکمہ میں بد عنوانی خاصی شہرت رکھتی ہے ۔ اس محکمہ کے اہل کاروں بالخصوص اعلیٰ مناسب پر فائز افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بالعموم قواعد و ضوابط کی پاسداری کی بجائے سیاسی آقائوں کے زیادہ وفادار ہوتے ہیں ۔ نعیم صادق کی رائے کے مطابق کہ پولیس کے متعلق یہ تاثر کچھ زیادہ غلط بھی نہیں لیکن ملک و قوم کی خد مات اور اس فور س کے جوانوں اور افسران کی بے پناہ قربانیوں سے انکا ربھی ممکن نہیں چنانچہ اُن پر مسلسل الزام تراشی زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتی ۔مراسلے میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی مہذب ملک میں کوئی چیف منسٹر ازروئے قوانین آئی جی پی تو بہت دور کی بات ہے بغیر کسی جواز کے ایک سپاہی کی ملازمت بھی ختم یا اسے جبری چھٹی پر نہیں بھیج سکتا ۔ لیکن پاکستان میں گزشتہ دنوں یہ بھی ممکن ہوگیا ۔ ہم نے دیکھاکہ سندھ جیسے پر آشوب صوبے کے ایک دیانتدار پر اگر یسوافسر کے بے داغ ملازمتی سفر کو صرف اس وجہ سے نعیم صادق کے بقول تباہ کر دیا گیا کہ اس نے حکمرانوں کی ذاتی خواہشات اور مفادات کو پورا کرنے کی بجائے قانون کی پاسداری کو ترجیح دی۔ تازہ خبر یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے جبری رخصت پر روانہ کئے گئے آئی جی پی کو ان کے عہدے پر بحال کرنے کے احکامات صادر کر دیئے ہیں ۔ عدالت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے عوام بجا طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کسی ایک فر د کا معاملہ نہیں آئندہ کیلئے تمام پولیس فورس کو اقتدار کی قوتوں کی گرفت سے آزاد کیا جائے تا کہ وہ پوری تندہی بلا مداخلت اور قوائد و ضوابط کے مطابق قوم کی خدمت کر سکیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا ہ پولیس آرڈیننس2016ء کو محکمانہ اصلاحات کے لئے مدت سے کی جانے والی کاوشوں کی جانب ، ایک قدم ہی کہا جا سکتا ہے۔ سندھ کے آئی جی پی اللہ دینو خواجہ کو جبری رخصت پربھیجنے کا پہلا واقعہ نہیں ہمارے ملک میں جمہوری اور آمرانہ حکومتوں نے ہمیشہ پولیس فورس کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور اس محکمہ کے جس عہدے دار نے بھی ا ن کی خواہشات کی تعمیل سے انکار کیا انہیں اخباری اصطلاح کے مطابق کھڈے لائن لگا دیاگیا ہے ۔

اربا ب ہدایت اللہ خان جو اب ہم میں نہیں رہے مسلسل 5سال تک سندھ میں آئی جی پی رہے ۔ اس عرصہ میں کسی نے اُ ن کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کہ وہ پوری دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی کے اُس وقت کے چیئر مین اُنہیں ایک قوم پرست سیاسی جماعت کا نمائندہ سمجھتے رہے اور واضح طور پر اپنی کتاب میں لکھا کہ ارباب ہدایت اللہ جو ولی خان کا آدمی تھا اور ہے اُسے میرے صوبے میں بھیجا گیا ہے ۔ ستر کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی چھ سالہ دور حکومت میں ارباب صاحب تین سال تک افسر بکار خاص رہے ۔
انہوں نے ایک انٹر ویو میں انکشاف کیا کہ 1983میں جب میں افسر بکار خاص تھا گورنر ہائو س پشاور میں ایک فوجی گورنر کے ساتھ لنچ پر موجود تھا ۔گورنر صاحب نے مجھ سے پوچھا بھئی آپ سندھ میں ایک طویل عرصہ تک آئی جی پی رہے ۔ یہ تو بتایئے وہاں سیاسی بے چینی اور ہنگامہ آرائیوں کی کیا وجہ ہے ۔میں نے جواب میں کہا آپ اس پر قابو پا سکتے ہیں۔ گورنر نے فرمایا میں اگر وہاں ہوتا اور روزانہ کے حساب سے کم وبیش چالیس افراد پھڑکا تا ، تو پھر آپ دیکھتے کہ حالات کیسے ٹھیک نہیں ہوتے امن و امان کا کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا ۔ گورنر صاحب کی اس تجویز پر میں نے مود بانہ لہجے میں عرض کیا حضور ! آپ کو کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ، آپ کس قانون کے تحت چالیس افراد کو روزانہ ختم کرتے آپ کی تو Legitamcy بھی نہیں ۔لیکن انہوں نے بعد میں اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے میری رائے جنرل ضیاء الحق تک پہنچا نے میںکوئی دیر نہیںکی، نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ میری ریٹائرمنٹ کے احکامات فوری طور پر جاری کر دیئے گئے جبکہ میری ملازمت کا ابھی ایک سال رہتا تھا۔بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ وطن عزیز میں پولیس جیسی اہم فورس کو ہر حکومت نے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس معاملے میں جمہوری اور آمرانہ دونوں قسم کے ادوار میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ۔ جب بھی پولیس کے کسی ذمہ دا ر نے حکمرانوں کے رویئے پر دو ٹوک انداز میںاپنی رائے ظاہر کی تو اُن سے وہی سلوک روا رکھا گیا جو تیس سال پہلے ارباب صاحب کو پیش آیا یا پھراب اے ڈی خواجہ کو اس کا سامنا کرنا پڑا ۔ چنانچہ حکمرانوں کے آمرانہ رویوں کے بغیر پولیس کی کارکردگی بہترنہیں ہوسکتی ۔ کیا میں نے جھوٹ بولا ؟

متعلقہ خبریں