Daily Mashriq

ہم خود کیا ہیں

ہم خود کیا ہیں

انہوں نے بہت اچھا لباس زیب تن کیا ہوا تھا، درمیانی عمر کے وہ شخص بادی النظر میں پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ بھی لگ رہے تھے، خراماں خراماں چلتے وہ صاحب بڑے سلیقے سے کیلے کا چھلکا اتار کر کھائے جارہے تھے۔ راہ چلتے کچھ تناول کرنا شاید کسی کی نظر میں برا نہ ہو، مجھے جو چیز ناپسندیدہ لگی وہ ان کا انتہائی نفاست سے چھلکا اتار کر سڑک پر پھینکنا تھا۔ میں انہیں ٹوکنے کا حق رکھتا تھا مگر مجھے ڈر تھا کہ ان کا ردعمل سنگین نہ ہو، کیونکہ بحیثیت قوم ہم میں برداشت کا مادہ ناپید ہوتا جارہا ہے اور ہم اپنے ناپسندیدہ عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے دیدہ دلیری سے اس کے لیے جواز گھڑتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ صاحب کیلے کے چھلکے اپنے پاس موجود پلاسٹک کی تھیلی میں ڈالتے اور جب کوڑے دان سامنے آتا تو وہی پھینکتے۔ ہم بڑے دھڑلے سے حکومت اور انتظامیہ کی نا اہلی پر انہیں شرمسار کرنے پر تو مجبور کرتے ہیں لیکن بطور شہری ہمارے جو فرائض ہیں ہم ان سے غافل ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ یہ ایک واقعہ یا مثال نہیں المیہ یہ ہے کہ ایسے مناظر آپ کو جا بجا نظر آئیں گے۔ بہت سے کام صرف انتظامیہ کے کرنے کے نہیں ہوتے ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں،، اپنے گھر کے ساتھ ساتھ گلی محلے کی صفائی کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے لیکن افسوس کہ ہم گھر کو تو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن محلے یا شہر کا ہمیں خیال نہیں۔ ہم اپنی غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار بھی حکومت کو قرار دیتے ہیں۔ ہم حکومتوں، وزراء اور عوامی نمائندوں پر کرپشن، نا اہلی ، بیڈ گورننس اور دیگر بیسیوں الزامات لگاتے نہیں تھکتے لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ ہم اخلاقی طور پر کتنے کرپٹ ہیں، ہم بچپن سے پڑھتے چلے آرہے ہیں کہ '' صفائی نصف ایمان ہے'' اور اپنے بچوں کو بھی ہم یہی درس دیتے نہیں تھکتے مگرہم نے کبھی کچھ لمحوں کے لیے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا ہے کہ واقعی ہم اس پر عمل کرتے ہیں کیا ہم نے کبھی اپنے محلے یا شہر کو بھی گھر سمجھا ہے،، راہ چلتے گلی اور سڑک پر تو ہم کوڑا پھینکتے ہوئے کبھی نہیں ہچکچاتے، کیا ہم گھر پر بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو پس ثابت ہوا کہ پھولوں کے شہر کو گندا کرنے کی جتنی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے اتنے ہی ذمہ دار ہم بھی ہیں۔ ہم تو اپنے اسپتالوں کو صاف رکھنے کی انتظامی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرنے میں ثانی نہیں رکھتے، احاطے میںنسوار تھوکنے اور سیگریٹ کے ٹوٹے پھینکنے کا تو جیسے ہمیں لائسنس مل چکا ہے، زینوں اور وارڈز میں بھی ہمارے دوست نسوار تھوکنے سے احتراز نہیں فرماتے ، ان کے اس عمل سے ایک پوری کمیونٹی کی جگ ہنسائی ہوتی ہے لیکن انہیں کیا پرواہ۔ کم و بیش یہی صورتحال بس اڈوں اور ہوائی اڈے پر بھی ہوتی ہے، ہمیں نسوار کی ''افادیت'' سے انکار نہیں لیکن خدارا اگر آپ اتنی دیر تک اسے منہ میں رکھ سکتے ہیں تو مزید کچھ دیر رکھ کر اسے پھر'' منزل مقصود''تک پہنچانے کا بھی اہتمام کریں۔ اپنے ایک ناپسندیدہ فعل کو پوری کمیونٹی کی بدنامی کا باعث نہ بنائیں۔ ہم اگر تھوڑی سے کوشش کرلیں تو اپنی اس کمزوری پر قابو پاسکتے ہیں۔ ہماری یہ بے حسی صرف صفائی تک محدود نہیں، ہم گھنٹوں ٹریفک جام پر پھنسے رہتے ہیں اور اس پر حکومت، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کو کوستے ہیں لیکن،،،، کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ہم مارکیٹ ، اسپتال، یونیورسٹی وغیرہ جاتے ہیں تو ہم پارکنگ کے قوانین پر کتنا عمل کرتے ہیں، ہم وقت بچانے کے لیے سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی چھوڑ کر سودا سلف لینے جاتے ہیں یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اپنا تھوڑا سا وقت بچانے کے لیے کتنوں کا وقت برباد کرتے ہیں ، نوپارکنگ زون میں گاڑی پارک کرنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے اور تو اور ہم تو اپنی سہولت کے لیے پارکنگ ایریا میں بھی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں پھر بھی ہم ٹریفک جام کی ذمہ داری حکومت اور ٹریفک پولیس پر ڈالتے ہیں۔غلط اوور ٹیکنگ، غلط ٹریک پر ڈرائیو کرنا ہماری روش ہے، ہم تو وہ بے حس قوم ہے جو ایمبولینس کو بھی خوشدلی سے راستہ دینے کو تیا رنہیں اور ہماری ہی غفلت اور بے حسی کی وجہ سے اگر ٹریفک جام ہو تو ذمہ دار ٹریفک پولیس اور حکومت کو قرار دیتے ہیں۔ مارکیٹوں میں فٹ پاتھ پر پتھارے داروں کا قبضہ ہے راہ گیر سڑک پر چلتے ہیں ایسے میں ٹریفک جام نہیں ہوگا تو کیا ہوگا۔ کیا ہم تہذیب یافتہ کہلانے کے لائق ہیں؟ ہم بحیثیت شہری اپنا فرض ادا کرنے کو تیار ہی نہیں، اخلاقی طور پر ہم اتنے دیوالیہ ہوچکے ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں نوجوان نسل بزرگوں کو جگہ دینا گوارہ نہیں کرتی،، تربیت کا تو یہ عالم ہے کہ کالج کے طلبہ بس کنڈیکٹر کو کرایہ دینا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، وہ بزرگوں کو کیا عزت دیں گے۔ کیا اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے؟ ہمارے درجنوں مسائل صرف ہماری غفلت، لاپرواہی اور بے حسی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، لیکن ہر معاملے میں حکومت کو گھسیٹنا اوراسے مورد الزام ٹھہرانا تو جیسے ہمارے ہاں فیشن بن چکا ہے جب تک ہم اس فیشن کو تبدیل نہیں کریں گے اور بطور شہری اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو یہ مسائل حل نہیں ہوں گے،، ہم اگر آج سے ہی اپنا احتساب شروع کریں ، اپنی روش تبدیل کرلیں ، یہ عہد کریں کہ میں ٹریفک قوانین کی پابندی کروں گا میں دوسروں کے لیے باعث تکلیف نہیں بنوں گا شہر کو اپنا گھر سمجھوں گا تو یقین کیجئے اگلے دن سے ہی تبدیلی نظر آنے لگے گی کیونکہ شہر کی ترقی میں شہریوں کا کردار حکومت سے بڑھ کر ہوتاہے۔

اداریہ