Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

مشہور تابعی حضرت عروہ بن زبیر مصائب و تکالیف پر بہت صبر کرنے والے تھے ، صبر و استقامات کے پیکر تھے ، ایک مرتبہ ولید بن یزید سے ملنے دمشق روانہ ہوئے تو راستے میں چوٹ لگنے سے پائو ں زخمی ہو گیا ، درد کی شدت سے چلنا دو بھر ہو گیا ، سخت تکلیف کے با وجو د ہمت نہیں ہاری اور دمشق پہنچ گئے ۔ ولید نے فوراً طبیبوں کو بلوا بھیجا ، انہوں نے زخم کا بغور جائزہ لینے کے بعد پائو ں کاٹنے کی رائے پر اتفاق کیا ، حضرت عروہ کو جب اس کی اطلاع کی گئی تو انہوں نے منظور کر لیا ، مگر پائوں کاٹنے سے پہلے بے ہوشی کے لیے نشہ آور دوا کے استعمال سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میں ایک لمحہ اللہ کی یاد سے غفلت میں نہیں گزار سکتا ۔ چنا نچہ اس حالت میں آرہ گرم کرکے ان کا پائوں کاٹ دیا گیا اور انہوں نے کسی قسم کی تکلیف کا اظہار نہ کیا ، پھر اپنا کٹا ہوا پائو ں سامنے رکھ کر فرما یا : ''کیا غم ہے ، اگر مجھے ایک عضو کے بارے میں آزمائش میں ڈال کر باقی اعضا ء کے سلسلے میں امتحان سے بچا لیا گیا ہے ۔ ''ابھی وہ اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ انہیں خبر ملی '' ان کا ایک بیٹا چھت سے گر کر انتقال کر گیا ہے ۔ '' انہوں نے '' اناللہ وانا الیہ راجعون '' پڑھی اور فرمایا '' اللہ تیر ا شکر ہے کہ تونے ایک جان لی اور کئی جانوں کو سلامت رکھا ۔ '' (کیونکہ باقی بیٹے سلامت تھے )اس واقعے کے بعد ولید کے پاس قبیلہ عبس کے کچھ لوگ آئے ، جن میں ایک بوڑھا اور آنکھوں سے اندھا شخص بھی تھا ، ولید نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کی بینائی کے ختم ہونے کا سبب دریافت کیا تو وہ بتانے لگا : '' میں اپنے اہل و عیال اور تمام اسباب لیے ایک قافلے کے ساتھ سفر میں نکلا ، اہل قافلہ میں سے شاید ہی کسی کے پاس اتنا مال ہو ، جتنا میرے پاس تھا ، ہم نے ایک پہا ڑ کے دامن میں رات گزار نے کے لیے پڑائو ڈالا ، آدھی رات کے وقت جب سب میٹھی نیند سو رہے تھے ، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اچانک سیلاب آگیا ، جو انسان ، حیوان ، مال و اسباب سب کچھ بہا لے گیا ، میرے اہل وعیال و اسباب میں سے سوائے ایک اونٹ اور میرے ایک چھوٹے بچے کے علاوہ کچھ نہ بچا ، میں ابھی اس ناگہانی آفت سے سنبھلنے بھی نہ پایا کہ میرا اونٹ بھاگ گیا ، اس کے پیچھے گیا تو یکد م بچے کے چیخنے چلانے نے قدمو ں کو روک لیا ، الٹے پائوں واپس بچے کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بھیڑ یئے نے میرے معصوم لخت جگر کو اپنے خونی جبڑوں میں دبو چا ہوا ہے اور وہ معصوم اس کے بے رحم جبڑوں میں زندگی کی بازی ہار چکا ہے ، یہ دلخراش منظر دیکھنے کے بعد میں پھر اونٹ کے پیچھے ہو لیا ، جب اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے دولتی دے ماری ، جس کی وجہ سے میری بینائی چلی گئی ، اس طرح میں مال و عیال کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ۔ '' اس کی داستان غم سن کرولید کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اس نے کہا '' جائو عروہ ابن زبیر سے کہہ دو ، تمہیں صبر و شکر مبارک ! ایسے لوگ بھی ہیں ، جو تم سے زیادہ غموں اور مصیبتوں کے مارے ہیں '' ۔
(المستطر ف ص :339)

اداریہ