Daily Mashriq

کبھی اپنے فیصلے خود بھی تو کریں

کبھی اپنے فیصلے خود بھی تو کریں


ایک ایسے وقت میں جب عام انتخابات میں کچھ ہی مہینے باقی ہیں اور مسلم لیگ(ن)کو عدالتوں میں بڑے مقدمات کا سامنا ہے تو وہیں لیگی قیادت کی اچانک سعودی عرب موجودگی سے این آر او کی باز گشت سنائی دینا خطرناک ہے۔اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگی قیادت کا اپنے خلاف کیسز سے بچنے کے لیے ایک مرتبہ پھر قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)کرنے کی کوشش ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کاموقف ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ایک طرف تو پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز سابق وزیراعظم کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں تو دوسری جانب عدالتی فیصلوں پر لیگی قیادت کی عدلیہ اور فوج پر تنقید کو بھی ملک میں کوئی ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا جارہا ہے کہ اس طرح کی صورتحال پیدا کرکے سیاسی بقاء کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طور ان مقدمات کا بوجھ ہلکا کیا جا سکے ۔ ساری صورتحال اور حکمت عملی ایک طر ف لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی این آر او کی طرف جارہی ہے تو پھر یہ ہو کس کے ساتھ رہا ہے؟ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں تین قوتیں موجود ہیں جن میں حکومت، فوج اور عدلیہ شامل ہیں اور اگر تو واقعی نواز شریف کسی این آر او کے مقصد سے سعودی عرب گئے ہیں تو یقینا یہ اہم سوال ہے، کیونکہ اگر وہ وزیراعظم کے عہدے سے نااہل بھی ہوچکے ہیں تو بھی حکومت انہیں کی جماعت کی ہے۔لیگی قیادت کی سعودی عرب جانے کی ایک وجہ امریکا کی پاکستان کے خلاف حالیہ بیان بازی ہے ممکن ہے کہ حکومت اس کوشش میں ہوکہ وہ سعودی عرب کے ذریعے امریکا کو کوئی ایسا پیغام دے جس سے صورتحال مثبت سمت کی جانب جاسکے۔اس بارے دوسری رائے نہیں کہ حکومت امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی خواہاں اور اس کیلئے کوشاں ہے ۔دوسری جانب یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر واقعی امریکا کے ساتھ تعلقات کو درست کرنے کے لیے سعودی عرب کی مدد حاصل کرنی تھی تو اس کے لیے نواز شریف اور شہباز شریف کا وہاں جانے کا کوئی جواز نہیںاس کیلئے تو وزیر اعظم کو جانا چاہیئے تھا یا پھر یہ وزیر خارجہ کی ذمہ داری تھی ۔ چونکہ لیگی قیادت یکے بعد دیگرے سعودی عرب چلی گئی جبکہ ترکی کے وزیر اعظم کی بھی اس وقت سعودی عرب میں موجودگی محض اتفاق نہیں ہو سکتا بنا بریں این آر او اور کسی ممکنہ ڈیل اور اس کے ضامنوں کے شبہے کو تقویت ملتی ہے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی فطری امر ہے کہ ہماری سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کا اصول چلنا ہے ۔معاملہ امریکہ سے معاملات طے کرنے کا ہو یا سیاسی مدوجزر کا حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ کہنا کہ غیروں کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے پاکستان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں بالکل درست مئوقف ہے ۔ یقینا قوم اب کی بار انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے کہ شریف برادران سعودی عرب کیوں گئے ہیں،کس لیے جا رہے ہیں اور وجہ کیا ہے؟۔کیا اب وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے فیصلے خود کرنے لگیں ؟۔اس تمام صورتحال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وطن عزیز میں سیاست اور جمہوریت ابھی بالغ نہیں ہوئی اور نہ ہی ہمارے اداروں میں اس قسم کی سنجیدگی آئی ہے کہ ساری چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف ملک و قوم، احتساب اور انصاف کا سوچا جائے اور قانون کا بول بالا ہو۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ سیاستدان اور حکمران این آر او کرتے ہیں جس میں محولہ اداروں کا بھی کردار بھلے نظر نہ آئے مگر ہوتا ضرور ہے کیونکہ ان کی مرضی اور خاموشی کے علاوہ ایسا کچھ بھی ممکن نہیں ہوسکتا کہ ہتھکڑیاں کھل جائیں اور ملزمان آزاد یا پھر حکمران بن جائیں۔ وطن عزیز میں دعویٰ جمہوریت اور بات ملک و قوم کی کی جاتی ہے مگر عملی طور پر سبھی کاکردار سب کے سامنے ہے۔ اگر مسلم لیگی قیادت واقعی امریکہ سے معاملات میں بہتری لانے کے لئے سعودی عرب گئی ہے تو یہ احسن ہے لیکن اگر کسی این آر او کی کھچڑی پکانے اور معاملات و مقدمات ہضم کرکے حصول اقتدار کی راہ سیدھی کرنے کی سعی ہے تو یہ ملک و قوم جمہوریت قانون آئین و دستور اور عوام سبھی کی توہین ہوگی اور اس کی ذمہ داری صرف مسلم لیگی قیادت اور حکومت پر نہیں بلکہ ان تمام مقتدر کرداروں پر بھی عائد ہوگی جو کھیل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر اس ملک میں قانون و دستور کی حکمرانی کرنی ہے تو پھر این آر او کے امکانات ہی کو ختم کرنا ہوگا جہاں تک حزب اختلاف کی بات ہے اولاً خود حزب اختلاف کی صفوں میں این آر او زدگان کی کمی نہیں ،دوم ان میں معاملات کو بیچ چوراہے ادھوا چھوڑ کر بلا سبب چلے جانے والے بھی موجود ہیں نیز این آر او کے اہم حصہ داروں سے کانا پھوسی کے بعد ان کی ہدایات پر بلا سوچے سمجھے چلنے والے بھی دکھائی دیتے ہیں ایسے میں حزب اختلاف سے تو کسی خیر کی توقع نہیں البتہ عوام سے یہ توقع ضرور ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ان تمام کرداروں کا اصل چہرہ پہچانیں اور ان کومسترد کرکے اپنا وہ فیصلہ سنادیں جس کی اپنی کرکے عوام سے اس پر مہر لگوانے کے عادی ہیں۔ ملکی اداروں اور سیاستدانوں کی چپقلش اور شیر و شکر ہونے کا منظر نامہ عوام سے پوشیدہ نہیں ایسے میں عوام امید کی کرن کسی دیگر میں دیکھنے کی بجائے اپنے صائب فیصلے ہی میں امید کی کرن دیکھیں اس کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی باقی بچا ہے۔

اداریہ