Daily Mashriq

امریکی اصرار' وہی مرغی کی ایک ٹانگ

امریکی اصرار' وہی مرغی کی ایک ٹانگ

امریکی وزیرِ خارجہ کا ایک مرتبہ پھر کہنا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کیلئے ایک محفوظ ٹھکانہ بننے سے روکنے کیلئے پاکستان کو ہمارے ساتھ شراکت داری کی خواہش کا اظہار کرنا ضروری ہوگا' پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔امریکہ قبل ازیںبھی پاکستان کوخبردارکرچکا ہے کہ اگر ملک کے اندرکارفرمادہشتگرد گروپوں کے ساتھ روابط بند نہیں ہوئے تو پاکستان اپنے علاقے کا کنٹرول گنوا بیٹھے گا، جو حلقے اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے پنپ رہے ہیں۔ایک جانب امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی سعی میں ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام تر منفی بیانات ' تقریروں اور دھمکی آمیز لب و لہجے کے باوجود پاکستان کو امداد کی فراہمی بند کرنے کے متحمل نہیں ہو رہے ہیں ۔ شاید اس کا اثر زائل کرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ نے تازہ بیان جاری کیا ہو۔ یہ کوئی پہلا بیان نہیں بلکہ اس طرح کے بیانات سن سن کر کان پک چکے ہیں مگر امریکی عہدیدار مرغ کی وہی ایک ٹانگ والی صورتحال سے باز نہیں آتے۔ امریکی عہدیدارپاکستان کو اس طرح کی دھمکیاں اور دھونس پہلے بھی دیتے رہے ہیں چونکہ بر سر زمین ان معاملات کا حقائق سے دور کا بھی تعلق نہیں اور نہ یہ امریکی حکام اپنے الزامات کی تصدیق کے لئے کسی قسم کے شواہد رکھتے ہیں اور نہ پیش کرنے پر تیار ہیں اس لئے ان الزامات کو محض دبائو کی پالیسی ہی کے زمرے میں دیکھا جانا چاہئے۔ اپنی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا بھی خواہاں ہے ۔کیا یہ تضادات کی انتہا نہیں کہ ایک جانب امریکی حکام پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کا الزام دھر رہے ہیں اور د وسری جانب پاکستان کے اشتراک کے بھی خواہاں ہیں۔ امریکہ پاکستان پر تو دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کیلئے دبائو ڈالتا ہے مگر خود افغانستان میں موجودگی اور اثر ورسوخ کے باوجود ان گروپوں سے تعرض تک نہیں کرتا۔ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں بیٹھی قیادت ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے مگر مزید کوششوں کی فرمائش پھر بھی پاکستان سے ہوتی ہے۔امریکہ اور پاکستان کی قیادت جب تک اس رویئے پر نظر ثانی نہیں کرتے خاص طور پر امریکہ جب تک معروضی حقائق کو سمجھنے کی سعی کیساتھ خطے کے ممالک کیساتھ تعلقات میں حقیقی توازن قائم نہیں کرتا اس وقت تک خطے میں استحکام کے مواقع کی امید حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا اور امریکی مطالبات' فرمائشوں سے بڑھ کر کچھ وقعت کے حامل نہ ہوں گے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تعلقات میں بہتری ممکن ہوگی۔

اداریہ