Daily Mashriq

زرداری پر الزام تراشی کا پس منظر

زرداری پر الزام تراشی کا پس منظر

آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ تحریر نویس کسی سیاسی جماعت کا رکن یا میڈیا منیجر ہر گز نہیں۔ بسا اوقات بعض تحریریں تاریخ کے ریکارڈ کی درستگی اور بعض مسلسل ہونے والے بے سر و پا پروپیگنڈے کے پیچھے موجود عزائم کو بے نقاب کرنے کے لئے لکھی جاتی ہیں۔ اب آئیے اصل موضوع پر۔ پاکستانی سیاست و صحافت اور درباری دانش کا 1988ء سے من پسند ''کھابا''آصف علی زرداری ہے۔ کچھ پیچھے چلیں اور چند اوراق مزید الٹیں تو آپ جان لیں گے کہ ایک خاص فہم کا حامل طبقہ ذوالفقار علی بھٹو ان کی اہلیہ اور بڑی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں بھی اس طرح کے الزامات کے گیس والے غبارے اڑاتا رہا۔ اچھا محض بھٹو خاندان نہیںبلکہ دوسرے صوبوں کی مقبول عام لیڈر شپ کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایک شخص جو لاہور میں 1960/70 کی دہائیوں میں جھگڑے والی پراپرٹی اور رہن شدہ جائیدادوں کے کاروبار کا حصہ دار تھا اور کاروباری تنازعے میں قتل ہوا اسے ایک میڈیا گروپ نے محض بھٹو سے نفرت کی بنا پر شہید جمہوریت بنا کر پیش کیا اور پچھلے چالیس برسوں سے لاہور میں دھوم دھڑ کے کے ساتھ اس شہید جمہوریت کی برسی منائی جاتی ہے اور تاریخ کو جوتے مارے جاتے ہیں۔ یہ ایک مثال اس لئے عرض کی کہ آپ جان سکیں کہ پروپیگنڈے کے تسلسل میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو انتخابی مہم کے دوران آئی جے آئی کے سفلے پن نے شریف خاندان اور جماعت اسلامی کے لئے بہت سارے مسائل پیدا کر رکھے تھے ان مسائل کا توڑ کرنے کے لئے روز اول سے آصف زرداری کو تبرے اور الزامات کے نشانے پر رکھا گیا۔ ہمارے تبدیلی والے بابو بابے اور ٹائیگر زرداری کے خلاف 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں آئی جے آئی' ن لیگ اور جماعت اسلامی کے الزامات کی جگالی کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔بہت ساری باتوں میں سر نہ کھپائیں تو دو سادہ سے سوال ہیں اولاً یہ کہ 1990ء سے 2006ء کے درمیان زرداری پر نون لیگ کی دو اور پرویز مشرف کی جرنیلی جمہوریت کے دوران جو مقدمات بنے تھے وہ کیا ہوئے کیوں عدالتوں نے ان میں سزائیں نہ دیں؟ کہتے ہیں مک مکا ہوا۔ اچھا تو پھر عمران کے خلاف آئینی درخواستوں کا جو فیصلہ آیا یا حدیبیہ والے معاملے میں شریف خاندان کے حق میں ہوا فیصلہ کیا ان دونوں کو بھی مک مکا مان لیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ 1996ء میں جب پیپلز پارٹی کے اپنے صدر نے نواز شریف کے ساتھ مل کر ایک سازش کے تحت محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تو زرداری لاہور میں گورنر ہائوس سے گرفتار ہوئے، حسن وسیم افضل نامی بیوروکریٹ جو احتساب سیل کا کرتا دھرتا تھا اس نے اخبارات میں خبر لگوائی کہ زرداری کے کمرے سے اربوں روپے، کئی کلو سونا اور کروڑوں کے ڈالرز بھی تحویل میں لئے گئے۔ کیا یہ برآمدگی کسی سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنی اور وہ رقم اور سونا کہاں جمع ہوا ملکی خزانے میں یا احتساب سیل کے لاک اپ میں کوئی ریکارڈ تو ہوگا۔
اب پچھلے دس سالوں سے جنرل پرویز مشرف اور ایک میڈیا ہائوس کے اس الزام کی جگالی ہو رہی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں زرداری ملوث ہے کیونکہ بی بی کی شہادت کے بعد وہ صدر مملکت بنا۔ عرض یہ ہے کہ کیا کسی کو معلوم ہے کہ بی بی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے شک کی انگلیاں کن کی طرف اٹھائیں؟ چلیں مان لیا زرداری ہی قاتل ہے کیا ریاست اور پچھلے ساڑھے چار برسوں سے اقتدار میں موجود نون لیگ ( نون لیگ نے بھی اس بھونڈے الزام کا سودا خوب بیچا تھا) دونوں اتنے بے بس ہیں کہ زرداری کو عدالت کے کٹہرے میں نہیں لا پائے۔ آپ اس ساری الزام تراشی کی حقیقت سمجھنا چاہیں تو ایک مثال پیش کردیتا ہوں۔ جمعرات 28دسمبر کو شریف خاندان کے پرانے ملازم صدیق الفاروق نے سرکاری ٹی وی پر ایک فوٹو شاپ تصویر سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علامہ طاہر القادری گھٹنوں کے بل جھک کر ویٹی کن میں پوپ سے ملاقات کر رے ہیں۔ وہ شاید یہ بھول گئے کہ یہ جعلی تصویر 2014ء کے دھرنے میں دختر اول مریم نواز کے خصوصی سوشل میڈیا سیل کے کارخانہ سے تیار ہوئی او پھیلائی گئی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زرداری پر بی بی کے قتل کا الزام اصل میں پیپلز پارٹی سے حساب چکانے کی کوشش ہے۔ زرداری کرپٹ ہے یا سادھو یہ میرا موضوع ہے نہ ان کا وکیل صفائی ہوں، تلخ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کا میڈیا' لبرل دانشور اور شریفی جمہوریت کے محافظ ہوں یا تبدیلی والے بابو اور بابے بنیادی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شدت پسندی کے خلاف ایک دو توانا آوازوں میں ایک آواز پیپلز پارٹی کی بھی ہے اس لئے الزامات کی دھول اتنی اڑائو کہ شدت پسندوں کی سہولت کاری بھی ہو جائے اور عوام بھی گمراہ ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سودا مزید فروخت ہو پائے گا؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ اس وقت سے ڈرئیے جب پیپلز پارٹی نے اقوام متحدہ والی رپورٹ کے مندرجات کی بنیاد پر کسی کارروائی کا مطالبہ کردیا اور یہ مطالبہ لے کر وہ سڑکوں پر بیٹھ گئی ایسا ہوا تو بہت سارے تقدس مابوں کا بھرم کھل جائے گا۔ سیاست کیجئے یہ سب کا حق ہے آسمان سے اترا کوئی ہے یہاں نہ زم زم اور گنگا اشان کیا کوئی۔

اداریہ