Daily Mashriq

شہباز شریف کا غیر معمولی دورۂ سعودی عرب

شہباز شریف کا غیر معمولی دورۂ سعودی عرب

میاں شہباز شریف کا سیاسی مقام یہ ہے کہ وہ پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) کے لیڈر ہیں۔ سرکاری تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ایک تعارف یہ بھی ہے کہ جنرل مشرف کے زمانے میں جب میاں نواز شریف کو طیارہ اغوا کیس میں سزا سنائی جا چکی تھی تو سعودی عرب نے میاں نواز شریف اور ان کے اہل خاندان کو سعودی عرب میں پناہ دے دی تھی اور شہباز شریف بڑے میاں صاحب کے ساتھ سات سال تک سعودی عرب کے مہمان رہے تھے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے شریف خاندان سے بڑے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود جس عجلت میں میاں شہباز شریف سعودی فرمانروا کی دعوت پرسعودی شاہی طیارے میں سعودی عرب گئے ہیںا س نے بہت سے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ رانا ثناء اللہ میاں شہباز شریف کے معتمد ساتھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کئی عشروں سے ہمارا بااعتماد برادر ملک رہا ہے اور اب بھی ہم سعودی عرب پر معاشی اور بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے انحصار کر تے ہیں۔ لیکن یہ رانا ثناء اللہ کا اندازہ ہی ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ اس دورے کے دوران کوئی افہام و تفہیم نئے سرے سے استوار کی جائے یا کوئی وعدے وعید ہو جائیں۔ افہام و تفہیم نئے سرے سے استوار ہونے کی طرف اشارہ اس لیے ضروری ہے کہ سعودی شاہی خاندان اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے حکمران پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان سے ناراض نظر آتے ہیں۔
یہ ناراضگی اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کی خاطر پاکستان سے فوجی مدد طلب کی اور میاں نواز شریف یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے۔ پارلیمنٹ نے اس سعودی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ ایسے اقدم سے عالم اسلام کے درمیان تفرقات پیدا ہو جائیں گے۔ فرقہ واریت کی بنا پر تفریق پیدا ہوتی ہے ۔ خود پاکستان کے اندر ایسے فیصلے کے برے اثرات مرتب ہونے کا قوی احتمال تھا۔ اس دوران سعودی عرب سے پاکستانی محنت کشوں کی واپسی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب میں جب اسلامی عرب سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے تو پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو تقریر کی دعوت نہ دی گئی۔ بعض باخبر ہونے کا دعویٰ رکھنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ چند ماہ پہلے جب جے آئی ٹی کی ٹیم میاں نواز شریف کے مالی لین دین کے بارے میں تحقیقات کرنے متحدہ امارات گئی تو وہاں کی حکومت نے اس ٹیم کے ساتھ تعاون کیا جس کے نتیجے میں ٹیم کو کچھ مطلوبہ دستاویزات حاصل ہوئیں۔ یہ بھی متحدہ عرب امارات کی میاں صاحب سے ناراضگی کی وجہ سے ہوا۔
اس پس منظر کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور میاں نواز شریف کے بھائی کا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی یا وزارت خارجہ سے کوئی بریف لیے بغیر سعودی عرب کے فرمانروا کے بلانے پر ان کے شاہی طیارے میں سعودی عرب جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ لیکن اس سے چند روز پہلے چند اور غیر معمولی واقعات بھی رونما ہوئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کو آئندہ انتخابات اور مسلم لیگ ن کے انتخابات کے بعد آئندہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کر دیا۔ اس نامزدگی کے لیے انہوں نے پارٹی کی مجلس عاملہ یا کسی اور ادارے سے مشاورت نہیں کی۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے پارٹی کے فرمانروا کی طرح یہ نامزدگی کر دی۔ اس اعلان کے بعد دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ سعودی عرب کے سفیر متعینہ پاکستان نواف بن سعید المالکی کی قیادت میں عرب ممالک کے بیس سے زیادہ نمائندوں کے ساتھ میاں شہباز شریف نے ملاقات کی۔ ایک تیسرا اہم واقعہ اسے بھی شمار کرنا چاہیے کہ بیجنگ میں پاکستان' افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں یہ طے پایا کہ افغانستان کے مسئلہ کے حل میں طالبان کو بھی شامل کیا جائے اور خطے کے ممالک کے اپنے اس علاقائی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اپنی پاکستان پالیسی میں سعودی عرب کو کلیدی اہمیت دیتا رہا ہے اور اب بھی ا س پالیسی کے جاری رہنے کا امکان ہے۔ نواز شریف کے میاں شہباز شریف کو آئندہ انتخابات کے بعد وزیر اعظم نامزد کیے جانے سے یقینا ان کے قد میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے سعودی عرب کے دورے کی بھی باور کی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو کس بنیاد پر یقین ہے کہ ان کی پارٹی 2018ء کے انتخابات میں حکومت بنائے گی۔ اور سعودی عرب کو کس طرح یقین ہے کہ جو میاں نواز شریف کہتے ہیں وہی ہو گا۔ میاں نواز شریف بطور صدر ن لیگ پراعتماد ہو سکتے ہیں۔ لیکن انتخابات ہونے سے پہلے ہی اس حد تک یقین کہ آئندہ وزیر اعظم ہی نامزد کر دیا جائے؟ اس یقین کے اظہار سے دیگر سیاسی پارٹیوں میں بے چینی ' شکوک و شبہات اور تشویش کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اگر میاں شہباز شریف سعودی عرب میں بقول بعض وزراء کے ''اہم قومی معاملات'' پر مذاکرات کریں گے تو یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ شہباز شریف کوبھی یقین ہے کہ وہ کل وزیر اعظم ہونے والے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب جانے سے پہلے نہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مشاورت کی ' نہ وزارت خارجہ سے۔ اس لیے یہ لازم ہونا چاہیے کہ شہباز شریف وطن واپسی پر پارلیمنٹ کو بتائیں کہ انہوں نے سعودی عرب میں کن موضوعات پر مذاکرات کیے اور اگر کوئی یقین دہانیاں کرائیں تو وہ کیا ہیں؟۔

اداریہ