Daily Mashriq


عشق است امام من

عشق است امام من

قوم کے پیشوا ہوتے ہیں آئمہ مساجد جنہیں ہم ریلیجئس لیڈر یا مذہبی رہنما بھی کہہ سکتے ہیں۔ بڑی عزت احترام اور توقیر ہونی چاہئے ان کی' کم از کم ان لوگوں کے دلوں میں جو ان کی امامت میں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں کے دوران پانچ وقت بارگاہ ایزدی میں صف در صف حاضر ہوکر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں عظمت و شان کا اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کرتے ہیں اس کی بڑائی یا کبریائی بیان کرتے کرتے اس کی بارگاہ میں سربسجود ہوجاتے ہیں۔ کبھی غور کیا آپ نے جب آپ نماز با جماعت ادا کر رہے ہوتے ہیں اس وقت آپ اللہ تعالیٰ سے دو سمتی رابطے میں ہوتے ہیں بالکل اس طرح جیسے آپ اپنی موبائیل یا ٹیلی فون جیسے لاسلکی نظام کے ذریعے اپنے دل کی بات کسی کو بتاتے ہیں اور وہ آپ کو جواب دیتا ہے ۔ میری اس گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ جب ہم نماز با جماعت کے دوران کسی امام کے مقتدی کی صورت اللہ تعالیٰ سے دوطرفہ مکالمہ یا دو طرفہ رابطہ Two Way Communicationکر رہے ہوتے ہیں تو اللہ ہماری باتوں کا جواب نماز با جماعت کے امام کی وساطت سے بذریعہ تلاوت کلام مجید ہم تک پہنچاتا ہے ۔جس سے امام کی امامت کے تقدس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امامت ایک پیشہ نہیں یہ ایک سعادت ہے ایسی سعادت جس کے متعلق ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ'' ایںسعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ''۔ بندے اور خدا وند ذوالجلال کے درمیان دو سمتی رابطے کا باعث بننے والے امام مسجد کا ہمارے اس معاشرے میں کیا مقام ہے اس کی کتنی عزت احترام یا توقیر کی جاتی ہے جب ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں ، تو ہماری بندِ قبا اور چاک گریباں ہمارے سوال کا کوئی مثبت جواب دینے کی بجائے ہم سے سوال در سوال یعنی سوالوں کی بوچھاڑ کرنے لگتا ہے ۔ جس کا جواب دیتے وقت ہم یوں سرنگوں ہوجاتے ہیں جیسے عدالت میں کھڑا کوئی مجرم اقرار جرم کررہا ہو۔ میرے والد مرحوم محترم حافظ نور محمدمحلے کی مسجد میں امامت کرتے تھے۔ میں دہلیز دہلیز اور چوکھٹ چوکھٹ اہل محلہ کے گھروں کا دروازہ کھٹکھٹا کر ''وظیفہ لیاؤ ایماندارو'' کی صدا لگاتا۔ اور لوگ اپنے حصے کی روٹی کا ایک آدھ ٹکڑا کاٹ کر اس پچھی میں ڈال دیتے جو میں ٹکڑے اکٹھے کرنے کی غرض سے گلے میں لٹکائے ہوتا۔ ہمارے ہاتھ میں ایک کٹورا یا کاسہ بھی ہوتا جس میں سالن یا ترکاری کی خیرات بھی مل جاتی۔ میں، میرا والداور دادا ابو گلی محلے کے گھروں سے اکٹھے کئے روٹی کے ٹکڑے کھاتے اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کے بعد دادا ابوہاتھ اٹھا کر گڑگڑاتے ہوئے دعا مانگنے لگتے کہ'' یا اللہ ہمیں ان وظیفوں کے ٹکڑوں سے چھڑا دے!!! ''۔ امام مسجد، پیشوائے قوم ، اللہ سے بندوں کا ملاپ کرانے والی ہستی کی یہ گئی گزری معاشی حالت دیکھ کر میرا معصوم بچپن لہو کے آنسو رونے لگتا۔ کس سے فریاد کرتابچپن کی توتلی زبان میں ۔ محلے والے تو آقا تھے ہمارے اور امام مسجد ان کا غلام جو اونچی آواز میں بات کرتا تو اس کو محلے والے مل کر مسجد سے نکال باہر کرتے ۔ والد بزرگوار لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں سن کر چپ ہو رہتے۔ کہتے ہیں مغل اعظم کے نو رتنوں میں ایک مولانا ابوالحسن بھی تھے جنہیں ملا دوپیازہ کے توہین آمیز نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ مولوی نصیرالدین بھی تھے جن کے بے شمار لطیفے اور چٹکلے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ یہ سب کیا اور کیوں ہوا' کیوں کی جاتی رہی تضحیک نماز پنجگانہ ادا کروانے والوں کی۔ اور آج کل تو خیبر پختون خوا کے بندگان اقتدار نے آئمہ مساجد کی تنخوا کا شوشہ چھوڑ کر ایک ایسی مباحث چھیڑ دی ہے جس پر بڑی لے دے ہورہی ہے۔ دس ہزار روپے مہینہ تنخواہ پانے والا امام مسجد حکومت کا ملازم کہلائے گا۔ اسے ایفی شنسی رولز کی پاسداری کرنی پڑے گی۔ کیا دس ہزار روپے مہینے سے وہ اس کلچر کی قید سے آزاد ہوسکے گا جس نے اسے اپنے مقتدیوں کے ٹکڑوں کا محتاج کرکے رکھ دیا ہے۔ ضروری نہیں کہ سب آئمہ کرام یا قوم کے پیشوا قوم کے ٹکڑوں پر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے ہوں ،بہت سے دھن دولت والے آئمہ کرام بھی موجود ہیں یہ دھن دولت ان کو وراثت میں ملی یا وہ سیاسی داؤ پیچ آزما کر اپنی تجوریاں بھرنے لگے

دور حاضر ہے حقیقت میں وہی عہد قدیم

اہل سجادہ ہیں یا اہل سیاست ہیں امام

حق راستی تو یہی ہے کہ حکومتیں ان کو خریدتی رہیں اور یہ حکومتوں کوخریدنے کا دھندہ کرتے رہے ۔مزے میں رہے دین کے وہ ٹھیکیدار اور ترستے رہے

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

کی تسبیح رولتے ہوئے ،مسجد وں کی جھاڑ پونچھ کرنے ، بڑوں کو نماز پنجگانہ پڑھانے اور ان کے بچوں کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے آئمہ کرام۔ ہمارے والد بزرگوار چاہتے تھے کہ ہم ان کا مصلٰی سنبھالتے۔ سر پر ان کی چھوڑی ہوئی دستار باندھتے' جبہ پہنتے مگر ہم ان کی روح گرامی سے معذرت کے ساتھ اس گناہ کا اقرار کر تے ہیں کہ ہم سے وہ سب کچھ نہ ہوسکا جو وہ کرتے رہے ، ہمارے پاس دھن دولت عہدہ و مرتبہ کچھ بھی تو نہیں ، قلم مزدور ہیں ہم اورہمیشہ اپنی ہر تحریر کو کاتب تقدیر کا لکھا سمجھ کرجپتے رہتے ہیں یہ تسبیح کہ

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

متعلقہ خبریں