Daily Mashriq


ہمار ا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا

ہمار ا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان کلھبوشن کی بیوی کے جوتے کے معاملے پر کوئی چال چلنا اور شرارت کرنا چاہتا ہے کلبھوشن یادیو اہل خانہ سے ملاقات میںوہی بول رہا تھا جو اسے سکھایا گیا تھا ، اس ملاقات کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا ، سشما سوراج نے بھارتی پارلیمنٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو سے ملاقات کو انسانی ہمدردی کے طور پر پیش کر رہا ہے ، پاکستان نے ملاقات کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی تھی لیکن انسانیت کے نام پر ہونے والی اس ملاقات میں انسانیت بھی غائب تھی اور خیر سگالی بھی غائب تھی ۔ خواتین کے بارے میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ وہ کوسنے بہت دیتی ہیں ، سشما سوراج کے لہجے میں بھی کوسنوں کی جھلک آسانی کے ساتھ دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے ، دراصل موصوفہ کی حکومت نے کلبھوشن یادیو کی اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے پر جو جال بچھا یا تھا اسے پاکستانی اقدامات نے جگہ جگہ سے چھید کر رکھ دیا ہے ، اس لئے بھارتی حکومت کی ناکام پالیسی پر اندرون بھارت جو واویلا مچا ہوا ہے اور یہاں تک کہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی جس طرح کلبھوشن یادیو کے اپنی والدہ کے استفسار پر کہ وہ تو تجارت کرتا تھا تو جاسوسی کے الزام میں کیسے گرفتار ہوگیا ، اعترافی بیان کو جس طرح ہائی لائٹ کرکے بھارتی حکومت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے ، اس صورتحال نے سشما سوراج کی پریشانی میں شدید اضافہ کردیا ہے ، اس لیئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کلبھوشن کی بیوی کے جوتے کے معاملے پر نہ تو کوئی چال چلنا چاہتا ہے نہ ہی کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے بلکہ پاکستان نے بھارتی حکومت کی شرارت پکڑلی ہے اوربھارت کوجوتی مار کر اس کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے ہیں۔جہاں تک کلبھوشن یادیوکو ''پڑھاکر بولنے ''پر مجبور کرنے کی بات ہے تو گزارش ہے کہ کلبھوشن نے نہ تو کوئی نئی بات کی ہے ، کہ یہ سب کچھ تو وہ پہلے ہی رضا کارانہ طور پر پاکستان کی ایجنسیوں کو گرفتار ہونے کے بعد ہی ریکارڈ کراچکا ہے اور نہ تب اس پر کوئی تشدد کیا گیا نہ ہی اس ملاقات کے موقع پر ایسے شواہد نظر آئے جن سے پتہ چلتا ہو کہ اس کو دبائو میں لانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی اداروں نے اس حوالے سے تمام تر بین الاقوامی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کو آگے بڑھایا جس کا ثبوت خود کلبھوشن یادیو نے اپنے اہل خانہ کے سامنے اس اعترافی بیان میں دے دیا کہ وہ جھوٹ بول کر کیوں تشدد کا نشانہ بنتا۔ اس لئے اعتراف کرنے ہی میں عافیت جانی۔ جہاں تک جوتے میں کسی چپ' کیمرے یا کسی اور خفیہ ڈیوائس کی موجودگی کا تعلق ہے تو آج کل دنیا اتنی ترقی کر چکی ہے کہ عام ڈیٹیکٹرز سے ان کو تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے تبدیل کرانے کے بعد ہی پتہ چلا کہ اس میں کسی سخت (دھاتی) چیز کی موجودگی ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ معلوم ہوسکے گا کہ یہ کیا چیز ہے۔ یہی صورتحال منگل سوتر اور زیورات کے حوالے سے بھی کہی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اس ترقیاتی ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بال کے برابر باریک آلے کو بھی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے سشماجی کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آجانی چاہئے کہ اگر انہوں نے کوئی جال بچھایا تھا تو اس کا نہایت عمدگی سے توڑ کر لیا گیا۔ دراصل بھارتی حکام کا خیال تھا کہ پاکستانی حکام کلبھوشن کی ملاقات اس کے اہل خانہ سے بلا واسطہ یعنی آمنے سامنے بغیر کسی قسم کی رکاوٹ کے کرادیں گے۔ تاہم ملاقات کے لئے شیشے کی دیوار بیچ میں حائل تھی اور انٹر کام کے ذریعے ہی بات چیت کرائی گئی۔ چونکہ خدشہ تھا کہ کلبھوشن کے اہل خانہ کے ذریعے بھارتی حکومت کلبھوشن کو مارنے کی سازش بھی کرسکتی تھی اس لئے اس کے اہل خانہ کے کپڑے بھی تبدیل کروا کر ہر قسم کے خدشات کو دور کرنے کی سعی کی گئی۔ اس میں کسی توہین کی کیا بات ہے اگر خدانخواستہ بھارتی حکومت کلبھوشن کو اس ملاقات کے بہانے کسی قسم کا نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا تو نہ صرف یہ معاملہ ختم ہو جاتا یعنی کلبھوشن پاکستان کے ہاتھ سے نکل جاتا بلکہ الٹا بھارت سرکار دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی مسلسل مہم کا آغاز کردیتا اور پاکستان کو شدید دبائو کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ اس ضمن میں جس طرح پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ملاقات آخری نہیں تھی بلکہ یہ ابتدا تھی تو اگر ایک جانب اس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان (ابھی) کلبھوشن کو سزائے موت نہیں دے رہا اور یوں بھارتی عوام کے دلوں میں جنم لینے والے خدشات ختم ہوگئے ہیں تو دوسری جانب پاکستانی حکام کو پہلے سے بھی زیادہ چوکنا ہونا پڑے گا ۔ جہاں تک اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی بہتری کے لئے ابتداء قرار دیتے ہوئے بقول سشما سوراج پاکستان نے یہ موقع گنوا دیا ہے تو گزارش ہے کہ بھارت اپنے گریبان میں بھی جھانکے اور بتائے کہ بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے کیا یہ انسانیت کے نام پر انسانیت کی توہین نہیں ہے؟ سچ کہا ہے کسی نے کہ دوسرے کی جانب انگلی اٹھانے والے کو یہ احساس بالکل نہیں ہوتا کہ ہاتھ کی تین انگلیاں خود اس کی جانب اٹھ رہی ہیں۔

احساس مر نہ جائے تو انسان کے لئے

کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

متعلقہ خبریں