Daily Mashriq


کابل کی ملٹری اکیڈمی پر داعش کا حملہ اور من گھڑت الزامات

کابل کی ملٹری اکیڈمی پر داعش کا حملہ اور من گھڑت الزامات

کابل کی افغان ملٹری پر سو موار کی صبح ہونیوالے خودکش حملے میں 13سیکورٹی اہلکارشہید اور 20سے زائد زخمی ہوگئے، افغان سیکورٹی ذرائع کے مطابق ملٹری اکیڈمی پر حملے میں پانچ افراد شامل تھے جن میں دو حملہ آور سیکورٹی اہلکاروں کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے اور دو حملہ آوروں نے خود کو اُڑالیا جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ چند دن قبل بھی کابل میں دہشت گردوں کے حملے میں 100افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ سوموار کو ملٹری اکیڈمی پر ہونیوالے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ قبل ازیں پچھلے ہفتہ کے دوران کابل میں ہونیوالی دہشت گردی کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی تھی، پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ملٹری اکیڈمی پر سوموار کو ہونیوالے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے افغان بھائیوں کیساتھ کھڑا ہے ، افسوسناک امر یہ ہے کہ چند دنوں کے دوران دہشت گردی کی دونوں وارداتوں کے بعد کسی ابتدائی تحقیقات کے بغیر افغان حکام نے ان واقعات کے حوالے سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا حالانکہ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی اس جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کی کسی بھی واردات کے بعد الزامات کی پٹاری کھول کر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش کسی بھی طرح درست نہیں ۔ کیا افغان حکام اپنے سابق صدر حامد کرزئی کے چند ماہ قبل کے اس انٹرویو سے لاعلم ہیں ، جس میں انہوں نے امریکہ کو افغانستا ن میں داعش کو منظم کرنے اور عراق و شام سے پسپا ہونیوالے داعشی جنگجوئوں کو افغانستان پہنچانے کیلئے امریکی حکام اور اداروں کے کردار پر سوالات اُٹھائے تھے ؟ ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان میں اپنی انٹر ل سیکورٹی کیساتھ امریکہ اور نیٹو کی سیکورٹیز کی موجودگی اور خفیہ ایجنسیوں کی بھر مار کے باوجود اگر دہشت گرد اپنی مزموم کارروائیاں کر گزرتے ہیں تو افغان حکام کو اپنے خفیہ اداروں کی ناکامی کا ملبہ پڑوسی ملک پاکستان پر ڈالنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا چاہئے، زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ افغان حکام اپنے مربی و سرپرست امریکہ سے سوال کریں کہ داعشی درندے افغان سرزمین پر کیسے وارد ہوئے اور کیونکر وہ منظم ہو پائے۔ دہشت گردی میں عام افغان شہری لقمہ اجل بنیں یا سیکورٹی اہلکارانسانی رشتوں اور پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان کی حکومت اور عوام اس درد کو محسوس کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام ایک بار نہیں کئی بار افغان حکومت اور سیکورٹی حکام کو دو طرفہ تعلقات بالخصوص انٹیلی جنس معلومات کے با اعتماد تبادلے کی پیشکش کر چکے ہیں، بد قسمتی یہ ہے کہ افغان حکومت کسی بھی معاملے پر اپنے قومی مفادات کے حامل طرز عمل اپنانے کی بجائے اپنے تازہ دوست بھارت کی الزاماتی سیاست کو آگے بڑھانے لگتے ہیں، سوموار کی صبح کا بل کی افغان ملٹری اکیڈمی پر داعش کے سفاکانہ حملہ کے بعد بھی ابتدائی تحقیقات کے تنائج کا انتظار کئے بغیر اس الزام تراشی کو آگے بڑھایا جو کابل حملے کے فوراً بعد بھارتی ذرائع ابلاغ کے روایتی پروپیگنڈے کا حصہ تھی ۔ اند ریں حالات یہ عرض کرنا نامناسب نہیں کہ ایک ایسا پڑوسی ملک جو آج بھی 20لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کا اپنے معاشی مسائل کے باوجود اسلامی اخوت اور انسانی وحق ہمسائیگی کے رشتوں کی بدولت بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے اس پر بھونڈی الزام تراشی کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔ اگر پچھلے ہفتے کے دوران یا پھر سوموار کو ملٹری اکیڈمی پر ہوئے حملے کے حوالے سے افغان حکام کے پاس کسی مبینہ پاکستانی گروپ کے ملوث ہونے بارے اطلاعات تھیں تو کسی تاخیر کے بغیر اسلام آبادسے رابطہ کر کے شواہد فراہم کرنے چاہئیں تھے ۔ ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے باوجود بھارتی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے پرصاد کر نے کے عمل سے پیدا ہونیوالے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ افغان حکومت اور اس کے ادارے اپنے معروضی حالات کیساتھ ان دوست نما دشمنوں کے عزائم کو بھی سمجھنے کی کوشش کر تے کہ ان قوتوں کے کیا مقاصد ہیں اور کیوں وہ پاک افغان تعلقات میں رخنہ انداز یوں کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں؟ پاکستا ن کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ خطے اور بالخصوص پاکستان و افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیچھے علاقائی تھانیداری کے خواہش مند بھارت اور اس کے پرجوش دوستوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، اسی طرح افغان حکام کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کو افغانستان میںبدامنی کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔ افغانستان میں امن سے خطے میں انسانیت دشمن تنظیموں اور ان کے پشت پناہوں کے خلاف موثر اقدامات ہو سکتے ہیں ۔ یہ امربہرطور مد نظر رکھنا ہوگا کہ دہشت گرد کسی کے دوست اور دست بازو نہیں ۔ انسانیت اور امن کے یہ دشمن اپنے عالمی آقائوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور تشدد کے بیج بوتے ہیں۔ افغان حکام پاکستان کی قربانیوں اور اخلاص پر شک کرنے کی بجائے اگر اپنے تازہ ہمدردوں کے دوہرے کردار پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی زحمت کر یں تو اس تلخ حقیقت کا اعتراف ممکن ہوگا جس سے نجانے کیوں آنکھیں چرا کر محض الزامات کے گھوڑے دوڑانے میں وقت برباد اور تعلقات میں بگاڑ پیدا کیا جارہا ہے۔ پاکستانی عوام کا دل اپنے افغان بھائیوں کیساتھ دھڑکتا ہے ۔ افغانوں کی خوشی میں خوش اور مصائب پر دکھی ہونیوالے پاکستان پر بھونڈی الزام تراشی کی بجائے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ افغان حکام اپنے دعویٰ کے مؤجب شواہد کو سامنے لائیں یا پھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنا کر حالیہ دو سانحات کی ٹیسٹ کیسوں کے طور پر تحقیقات کروالیں۔ پاکستان کیلئے پر امن، مستحکم اور ترقی کے عمل میں شریک افغانستان زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ افغان عوام اور حکومت دونوں دوطرفہ تعلقات کو بگاڑ نے کی سازشوں میں مصروف قوتوں کے ناپاک مقاصد کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔

متعلقہ خبریں