جناب نواز شریف کی اداروں پر چاند ماری

جناب نواز شریف کی اداروں پر چاند ماری

سابق وزیرا عظم میاں نواز شریف پچھلے چند دنوں سے ایک بار پھر اپنی نااہلی کے معاملے کو لے کر عدلیہ سمیت بعض دیگر اداروں پر الزامات کی جس چاند ماری میں مصروف ہیں ان پر نرم سے نرم الفاظ میں افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ سوموار کے روز انہوں نے سیاسی بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی بجائے جن خیالات کا اظہار کیا وہ نامناسب ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے بعض رفقا اور خاندان کے کچھ افراد عدلیہ اور دیگر اداروں کیخلاف جس ایڈ ونچر میں مصروف ہیں اس کا فائدہ تو کسی طور ممکن نہیں البتہ نقصان بہت زیادہ ہوگا۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ان کے دیکھا دیکھی کسی بھی عدالتی فیصلے کے متاثرہ فریق (سزا پانے والا ) کا جو جی میں آئے گا وہ کہنے لگے گا۔ حاکم بدہن ایسا ہو ا تو ملک میں ایسی انا ر کی جنم لے گی جس کا مداوا کرنے میں کئی عشرے لگیں گے۔ سابق وزیر اعظم کو اگر یاد ہو تو وہ چند برس قبل اس وقت کی گیلانی حکومت کو عدالتی فیصلوں کے احترام کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ابھی 2016ء میں بطور وزیر اعظم انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت کو متعدد بار یہ مشورہ دیا کہ سڑکوں پر مجمع لگانے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کریں اور عدالتی فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ پھر اب ایسا کیا ہوگیا کہ دوسروں کو عدالتی فیصلوں کے احترام کا مشورہ دینے والے نواز شریف جلسوں اور اجلاسوں میں اپنے خلاف ہوئے ایک عدالتی فیصلے کے حوالے سے وہ زبان استعمال کر رہے ہیں جو ان کے شایان شان نہیں؟۔ مروجہ سیاست کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ عوام دوستی اور انصاف کی سربلندی کے دعوے کرنیوالے عوام اور انصاف دونوں کو بے نقطہ سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اپنے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد جناب نواز شریف نے اپیل بھی دائر کی، کیا ان سے یہ دریافت نہیں کیا جانا چاہئے کہ اگر بقول ان کے ججز صاحبان ان سے بغض رکھتے ہیں تو پھر انہوں نے اپیل دائر کیوں کی؟۔ ہماری رائے میں مناسب ترین بات یہ ہے کہ وہ نظام انصاف کی برتری کو تسلیم کریں، عوام میں انارکی پھیلانے کا نقصان بہت زیادہ اور سب کو ہوگا ۔
بچوں کی بے حرمتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات
ملک بھر میں معصوم بچوں اوربچیوں کی بے حرمتی اور قتل کے تواتر کیساتھ سامنے آنیوالے واقعات کی وجہ سے صاحبان اولاد میں تشویش اور بچوں کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس فطری ہے۔ بہت سنجیدہ انداز میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اہل دانش، ماہرین تعلیم اور علمائے کرام کو سوچنا ہوگا کہ سماجی اخلاقیات و اقدار اور بچوں سے شفقت و محبت کی روایات پامال کیوں ہورہی ہیں۔ کیا سماجی ڈھانچے میںکوئی کج ہے ۔ نظام تعلیم میں یا پھر گھریلوں تربیت و رہنمائی میں کوئی ایسا خلاہے جو اس اخلاقی گراوٹ سے بھی سنگین جرم کے بڑھاوے میں معاون بن رہا ہے؟۔ کسی فر د یا ذمہ دار شخصیت کا محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اس طرح کے جرائم پہلے بھی ہوتے تھے اب میڈیا طوفان اُٹھا رہا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ میڈیا کا دائرہ وسیع ہونے سے قبل کیا یہ بگاڑ قابل قبول تھا اور اب میڈیا نے اسے نا پسندیدہ بنا دیا ہے۔ ہمارے خیال میں برائی، اخلاقی گراوٹ اور سفاکانہ جرائم کی کبھی بھی سماج کے اجتماعی ضمیر نے تائید نہیں کی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے اس طرح کے افسوسناک واقعات اکا دکا ہوتے تھے اور اب تو اتر کیساتھ ہونے لگے ہیں۔ ارباب اختیار اور دیگر شعبوں کے بالغ نظر حضرات کی اولین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ الزام الزام کھیلنے کی بجائے اصلاح احوال کیلئے حکمت عملی وضع کریں۔ تعلیمی نصاب سمیت جن امور میں اصلاحات ضروری ہیں ان سے صرف نظر نہ کیا جائے، شہروں اور دیہی علاقوں میں سماجی تطہیر اور شعور کی بیداری کیلئے ہر خاص وعام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، دوسرے معاشروں کی منفی مثالیں پیش کرنے کے عامیانہ پن کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ ایک مسلم معاشرے میں اگر جنسی جرائم اور اخلاقی گراوٹ کایہ حال ہے تو کس منہ سے ہم اپنی اقدار کے اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ موجودہ حالات میں بہت ضروری ہوگیا ہے کہ ہر سطح پر تطہیر ذات و تطہیر سماج کی اہمیت کو اجا گر کرنے کیساتھ اس طرح کے قبیح جرائم میں ملوث افراد کو کڑی سزائیں دی جائیں۔

اداریہ