Daily Mashriq


افغانستان میں پے در پے دہشتگردی کے واقعات

افغانستان میں پے در پے دہشتگردی کے واقعات

افغانستان میں پے در پے دہشت گرد حملوں نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین حملہ کابل میں مارشل فہیم ڈیفنس یونیورسٹی پر ہوا۔ ڈیفنس یونیورسٹی کا علاقہ ہائی سیکورٹی زون ہونا چاہئے لیکن حملہ آور اس میں داخل ہوئے۔ اگرچہ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ حملہ آور پہلے گیٹ سے آگے نہیں بڑھ سکے تاہم وہ اس اہم دفاعی ادارے پر حملہ آور تو ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اسی یونیورسٹی پر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی حملہ کیا گیا تھا یعنی تین ماہ کے دوران ایسے اہم دفاعی ادارے پر دوسرا دہشت گرد حملہ ہوا ہے۔ حالیہ حملے میں گیارہ سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے‘ چار حملہ آور بھی مارے گئے۔ اس سے پہلے ہی میں دہشتگردوں نے بارود سے بھری ایک ایمبولینس گاڑی دھماکے سے اُڑا دی جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سے پچھلے روز کابل کے ایک بڑے ہوٹل پر حملہ ہوا جس میں مقیم چند امریکیوں سمیت22 افراد جاں بحق ہوئے۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا افغانستان کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اس قدر ناکام ہے کہ یکے بعد دیگرے دارالحکومت میں تین دہشتگرد حملے ممکن ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت کابل اور اس کے نواحات میں امریکی فوج بھی مقیم ہے۔ یہ سوال امریکی انٹیلی جنس اور امریکی سیکورٹی انتظامات پر بھی اُٹھایا جانا چاہئے کہ امریکی فوج افغانستان میں اور خاص طور پر کابل میں گزشتہ سولہ سال سے مقیم ہے۔ افغانستان ایک جنگ زدہ علاقہ ہے، کیا وہاں موجود امریکی فوج اور دیگر اہلکاروں کی سیکورٹی کا انتظام اس قدر ناقص ہے کہ دہشتگرد چند دن میں دارالحکومت میں بھاری پیمانے کی دہشتگرد کارروائیاں کر سکتے ہیں اور امریکی انٹیلی جنس اور سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ امریکی انٹیلی جنس ایک شہرت کی مالک ہے۔ امریکی انٹیلی جنس پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو یہ اطلاع دے سکتی ہے کہ امریکی کینیڈین جوڑے کو اغواء کار ایک سے دوسرے مقام پر منقتل کر رہے ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز اس اطلاع کی پیروی کرتے ہوئے اس جوڑے کو اغوا کاروں کے چنگل سے چھڑوا سکتی ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس پاکستان میں افغان مہاجرین کے ایک کیمپ میں مقیم ایک مطلوب افغان کمانڈر کا پتہ چلا لیتی ہے اور اس پر ایسا ڈرون حملہ کر سکتی ہے جس میں صرف وہ مکان تباہ ہوا جس میں مقیم مطلوب کمانڈر بھی جاں بحق ہوا۔ان شواہد کی روشنی میں یہ سوال اہم ہونا چاہئے کہ امریکی انٹیلی جنس اور افغان انٹیلی جنس خود افغانستان میں برپا ہونیوالے وسیع پیمانے کے دہشتگرد حملوں کا پتہ کیوں نہیں لگا سکتی؟ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کابل میں دہشتگردی کے نتیجے میں ایک سو افراد کے ہلاک ہونے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب سب ملکوں کو طالبان اور دہشتگردی کے اس انفراسٹرکچر کیخلاف فیصلہ کن اقدام کرنا چاہئے جو طالبان کی مدد کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا اشارہ کس طرف ہے اسکے سمجھنے کیلئے ان کے بیانات کافی ہونے چاہئیں لیکن سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح ساری دنیا کے ممالک کو طالبان کیخلاف آواز دیکر وہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ امریکا سولہ سال سے افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ انٹیلی جنس اور سیکورٹی پر مامور محکموں کی ناکامی سے ظاہر ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج اور افغان سیکورٹی فورسز کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دارالحکومت کے اہم اداروں تک دہشتگرد کامیابی سے رسائی حاصل نہ کر سکتے۔ اس صورتحال سے سبق لینے کی بجائے افغان حکومت نے ایک بار پھر پاکستان کی طرف اشارے کرنا شروع کر دئیے ہیں اور صدر ٹرمپ کے بیان کا حوالہ تو دیا جا چکا ہے جس میں یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی نئی کارروائی کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ افغان حکومت نے ایک اقدام یہ کیا ہے کہ لنڈی کوتل سے پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونیوالے تمام پاکستانیوں کو افغانستان امیگریشن کی طرف سے واپس کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ویزے حاصل کر کے افغانستان میں داخل ہوں۔ اگرچہ یہ اقدام اظہار ناراضگی ہے تاہم یہی تو پاکستان کا مؤقف ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بغیر سفری دستاویزات کے آمدورفت نہیں ہونی چاہئے کہ اس طرح افغانستان سے کوئی دہشتگرد پاکستان بھی آ سکتے ہیں اور افغان مہاجرین کے کیمپوں میں تحلیل ہو سکتے ہیں۔ اگر افغان حکومت اس اصولی فیصلے پر قائم رہے تو اسے بھی پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانے کی طرف آنا چاہئے اور دونوں ملکوں کے درمیان آمدورفت کیلئے شناختی دستاویزات ساتھ رکھنا یقینی بنانا چاہئے۔ یہ تو خیر ایک جملہ معترضہ تھا اصل موضوع یہ ہے کہ افغانستان میں پے در پے دہشتگرد حملوں سے افغانستان میں تو صورتحال ابتر ہو ہی رہی ہے اس سے خطے کے ممالک میں بھی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ یہ سلسلہ نہ رکا تو کوئی بھی بڑی کارروائی خارج از امکان نہیں اور اس کے نتیجے میں ایک بار پھر نئے تارکین وطن کی پاکستان کی طرف مراجعت بھی ممکن ہے جبکہ پاکستان کیلئے پہلے سے مقیم35لاکھ افغان باشندوں کو سنبھالنامشکلات کا باعث ہے۔ افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے پے در پے حملے یہ احتمال بھی رکھتے ہیں جس طرح افغانستان کے40فیصد علاقے پر آج طالبان کی عملداری بتائی جاتی ہے اس میں کچھ ایسے علاقے بھی شامل ہو سکتے ہیں جن پر داعش کی عملداری ہو۔ اسلئے ایسے امکانات پیدا ہونے سے پہلے افغان حکومت کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ افغانستان کو ایک ملک کی حیثیت سے دنیا میں قائم رکھنے کی خاطر طالبان سے مصالحت کرے۔ افغان حکومت نے اس سے پہلے گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سے ایک پرامن انتظام کیا ہے، ایسا ہی انتظام طالبان کیساتھ کئے جانے پر غور کیا جانا چاہئے۔ تمام افغانوں نے افغانستان ہی میں رہنا ہے اسلئے افغانوں پر افغان کی طرف سے افغانسان کی زمین تنگ کرنے کی صورتحال کو جلد ختم کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں