Daily Mashriq


اینکروں میں پانی پت کی لڑائی جیسا گھمسان کارن

اینکروں میں پانی پت کی لڑائی جیسا گھمسان کارن

مکرر عرض ہے۔ سوال یہ ہرگز نہیں کہ ایک مہابلی ٹی وی اینکر نے فساد فی الارض برپا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کی ساری باتیں یکسر بے بنیاد ہیں اور راوی ہر طرف چین لکھتا ہے؟۔ چلیں قصور سانحہ میں ملوث ملزم کے37 بنک اکائونٹس اس اینکر نے ثابت کرنے ہیں مگر باقی ماندہ باتیں کیسے نظر انداز کر دی جائیں کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ پچھلے تین سال کے دوران وسطی پنجاب اور پنجاب کے شمالی حصے سے بہت سارے ایسے واقعات سامنے آئے جن سے یہ معلوم ہوا کہ بچوں کی بے حرمتی ایک باقاعدہ منظم کاروبار ہے، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، ملتان، گنڈاسنگھ والا ضلع قصور، گوجرانوالہ اور خود پنجاب کا دارالحکومت لاہور ہی وہ شہر ہیں جہاں سے اس تلخ امر سے پردہ اُٹھا کر ان ناپاک افعال میں انفرادی اور گروہی طور پر ملوث افراد اپنی بدکرداری کو کاروبار کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ سویڈن اور ڈنمارک کی حکومتوں کی اطلاع پر سرگودھا سے گرفتاری عمل میں آئی، اگلے روز کینیڈا کی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بناء پر ایک شخص گرفتار ہوا اور اس اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو مقامی ایم پی اے کی سرپرستی حاصل ہے۔ گنڈا سنگھ والا ضلع قصور کے المناک سکینڈل میں متاثرہ بچوں کی تعداد280 سے زیادہ تھی، انگلیاں نون لیگ کے مقامی ایم این اے ایک ایم پی اے اور ان صاحب کی طرف اُٹھ رہی تھیں جو ان دنوں پنجاب حکومت کی ترجمانی کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ دیگر شہروں کے واقعات کو محض انفرادی فعل قرار دیکر مٹی پاؤ پروگرام پر عمل کیا گیا۔ کیوں ایک ٹھوس تحقیقات سے منہ موڑا گیا، وہ کون لوگ تھے جنہیں بچانے کیلئے گنڈا سنگھ والا کے قبیح معاملے کو زمین کے جھگڑے کے جھوٹے الزام میں دفن کیا گیا؟۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بہت سارے افسوسناک واقعات کے مرتکب افراد کے پیچھے ارکان اسمبلی کھڑے دکھائی دیتے ہیں کچھ کا تعلق نون لیگ سے اور بعض کا دوسری جماعتوں سے۔ کیا محض حکومت کی نیک نامی مسلمہ اہمیت رکھتی ہے، معاشرے میں جو مرضی ہوتا رہے۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو جواب طلب بھی ہے اور اس سوال سے بچنے کی کوشش کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ صاحبان اقتدار کو زمینی حقائق سے نہیں اپنے میک اپ زدہ چہرے کا حُسن برقرار رکھنے سے دلچسپی ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ الیکٹرانک وسوشل میڈیا پر سانحہ قصور کے ملزم عمران کے جو نام نہاد بنک اکائونٹس کی لسٹ گردش کر رہی ہے خود اس کی حقیقت کیا ہے۔ اگر تو یہ اکائونٹس نمبر الزام لگانے والے اینکر نے دیئے اور غلط ثابت ہوئے ہیں تو یقیناً مان لینے میں ہرج کوئی نہیں لیکن معاملہ تو یہ ہے کہ مالیاتی ادارے (بنکس) یہ کہہ رہے ہیں کہ اکائونٹس کا یہ عکس ان کے لاگ سسٹم کا ہے۔ اب سوال یہ ہوگا کہ لاگ سسٹم کا تصویری عکس سوشل میڈیا تک کس نے پہنچایا۔ کیا مالیاتی اداروں کے اندر سے یہ کام ہوا یا پھر کوئی ایسی قوت جو چاہتی ہے کہ معاملے کی چھان بین نہ ہونے پائے؟۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب اس سارے معاملے کو من پسند رنگ دینے میں مصروف ہے۔ وجہ یقیناً یہ ہوسکتی ہے کہ پنجاب حکومت جانتی ہے کہ اگر تحقیقات ہوتی ہیں تو ایک بار پھر تحقیقات کرنیوالے حکام گنڈا سنگھ والا سکینڈل کے مجرموں کے اُن سرپرستوں کے دروازوں پر دستک دیں گے جن کا تعلق نون لیگ سے ہے۔ پنجاب حکومت کے موجودہ ترجمان ملک احمد خان، قصور سے نون لیگ کے ایک ایم این اے سلمان حنیف اور چند دیگر افراد کے تحقیقات کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اور اس سے بڑا خدشہ یہ کہ مخالفین اس معاملے کو لیکر انتخابی مہم کے دوران تماشے لگائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند افراد کی محبت اور ضرورت اتنی اہم ہے کہ ہولناک جرائم کی پردہ پوشی کی جائے۔ کیا یہ سوال اہم نہیں کہ اگر پوسٹ مارٹم کے مطابق معصوم بچی زینب کی موت پوسٹ مارٹم سے36 سے 38 گھنٹے قبل ہوئی تھی تو پھر اس معصوم مقتولہ کو پانچ دن زندہ کہاں رکھا گیا؟ پچھلے کالم میں بھی یہ عرض کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی دو باتیں اہم ہیں، اولاً یہ کہ بے حرمتی میں ایک سے زیادہ افراد شریک تھے اور اب معاملہ ایک فرد پر ڈالا جارہا ہے۔ معمولی مجرم قرار پانے والے کیخلاف فیصل آباد اور راولپنڈی میں درج مقدمات کی ایف آئی آرز سامنے آنے کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پہلے ڈی این اے رپورٹ کو پس پشت ڈال کر نئی ڈی این اے رپورٹ کو درست مان لینے پر اصرار سے شکوک بڑھے ہیں تو کیا عمران علی کے کسی ہم نام کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ کون ہے؟۔ بار دیگر عرض ہے اہل صحافت وسیاست اور خود الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز کو شور وغل کرنے کی بجائے تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔ یہ بجا ہے کہ بچوں کی بے حرمتی لمحہ فکریہ بھی ہے اور شرمناک حد تک قابل مذمت بھی لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ اگر ٹھوس اور جامع تحقیقات کو شور وغل میں دفن کرنے کی کوشش کی گئی تو شور کرنیوالے مجرموں کے ساتھی قرار پائیں گے۔ سچ کیا ہے جھوٹ کیا، حقیقت تحقیقات سے سامنے آسکتی ہے۔ ہمیں اپنی اپنی عدالتیں قائم کر کے فیصلے صادر کرنے کی بجائے قانون اور انصاف کو اپنا اپنا کام کرنے دینا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ کیا ہمارے اہل صحافت اینکر اور حکومتی بڑے انصاف ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے؟۔

متعلقہ خبریں