آج کا کالم نوجوانوں کے نام

آج کا کالم نوجوانوں کے نام

آج کے دن کا کالم میر ے لئے جذباتی طور پر بھی خوشگوار حیرت کا باعث رہتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں، میں اپنی سروس کے پانچ سال گزار چکی ہوں، مجھے خیبر پختونخوا کا معاشرہ اور یہاں کے لوگ خواتین کے احترام کے حوالے سے بہت پسند ہیں۔ آج بھی پشاور صدر جاؤں تو وہاں کے دکاندار اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں ان کو یہ تک یاد ہوتا ہے کہ میں نے ان کی دکان سے کیا خریداری کی تھی اور مجھے کس قسم کی چیزیں اچھی لگتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے لوگ قدردان اور عزت واحترام سے پیش آنیوالے لوگ ہیں، یہاں تک کہ پولیس بھی۔۔ عوامی مسائل سے آگاہی اور ان کی اشاعت کے ذریعے دادرسی کی خواہش کے تحت شروع کردہ یہ کالم عوامی رابطے کے علاوہ پہچان اور مقبولیت میں اضافے کا باعث بھی بن رہا ہے۔ مجھے اب اس امر کا بڑی حد تک اندازہ ہو چکا ہے کہ میرے قارئین کہاں کہاں ہیں اور کیا توقع رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے کونے کونے سے آمدہ برقی پیغامات اور واٹس ایپ کے حوالے سے ایک خوشگوار تجربہ یہ رہا کہ اکثر پیغامات میں مجھے باجی گل، بہن جی، مادرم جیسے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا ہے، ایک نے تو مجھے امی کا درجہ بھی دیدیا، یہ سارے القابات وخطابات میرے لئے نہایت اعزاز کی بات ہے۔ واقعی میں بہن بھی ہوں، باجی گل بھی اور ماں بھی ہوں۔ کبھی کسی اوکھا برقی پیغام کا نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دیار دل میں بڑا احترام ہے تیرا۔ میرے نوجوان میری اُمید ہے، میں اپنے بچوں کی طرح اپنے ملک کے نوجوانوں کے حوالے سے بھی خواب دیکھتی ہوں اور میری تمنا رہتی ہے کہ میرے ارض پاک کے ہر جوان کے نصیب میں کامیابی وکامرانی ہی ہو۔ گزشتہ کالم کی طرح اس مرتبہ کا کالم بھی تعلیم اور نوجوانوں سے متعلق برقی پیغامات سے عبارت ہے۔ آج کا کالم نوجوانوں کے نام۔
لوئر دیر سے محمد راشد سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ سکولوں کے طالب علموں کا تقابل کرتے ہوئے امتحانات میں سرکاری سکولوں کے طالب علموں کو کم اور پرائیویٹ سکولوں کے طالب علموں کو تھوک کے حساب سے نمبر دینے کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کی شکایات بجا اور قابل توجہ ہے، پرائیویٹ سکولوں کے طالب علموں کا سرکاری سکولوں کے طالب علموں سے زیادہ نمبر لینے کی کئی وجوہات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں، اولاً ان کو توجہ گھر سے ملتی ہے، ان کے والدین اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو نجی سکولوں میں پڑھاتے ہیں، سرکاری سکول بھی اتنے گئے گزرے نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ سب سے پہلے طالب علم اور اساتذہ ان کو سرکاری سکول سمجھ کر اپنی اپنی جگہ کام ’’سرکاری کام کی طرح‘‘ کرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے ان سکولوں کا معیار قائم نہیں ہوتا اور جب طالبعلم میٹرک اور ایف ایس سی تک جاتا ہے تو پھر عقدہ کھلتا ہے کہ بہت کچھ نقصان ہو چکا، کسی سرکاری سکول کے طالبعلم کیلئے یہ عذر کافی نہیں چونکہ انکا مقابلہ پرائیویٹ سکولوں کے طالبعلموں سے ہے اسلئے انکے نمبر کم آئے، پرائیویٹ سکولز مالکان کا ہالز خریدنے، پریکٹیکل میں زیادہ نمبر دلوانے اور بورڈ میں تعلقات حقیقت نہیں تو افسانہ بھی نہیں، مشکل حالات اور مسائل سے نمٹتے آگے بڑھنا ہی مردانگی ہے۔ محنت سے کام لیا جائے تو دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں۔
ایف ایس سی کے ایک طالب علم نے محنت اور اچھے نمبروں کے باوجود انٹر ی ٹیسٹ میں فیل ہونے پر طالب علموں کی مایوسی اور منفی راہ پر چل نکلنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میرے تئیں صرف میڈیکل اور انجینئرنگ ہی وہ شعبے نہیں جہاں داخلے میں ناکامی پر کسی طالب علم کا مستقبل خدانخواستہ خطرے میں پڑ جائے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آرٹس کے طالب علموں کی سب سے بڑی تعداد مقابلے کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں میں آتے ہیں۔ کامرس اور دیگر فنی تعلیم میں آگے بڑھنے کے کتنے مواقع ہیں؟ اب تو ڈپلومہ اور ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز کیلئے بھی مواقع کی کمی نہیں، شرط صرف محنت اور مسلسل محنت کی ہے۔ انسان کو محنت کرتے رہنا چاہئے، مایوسی اور نااُمیدی گناہ ہیں۔ آپ جو بھی شعبہ اختیار کریں، جو بھی مضمون لیں اس میں محنت کریں، فنی اور کامرس کی ڈگری حاصل کریں تو اس میں مغز کھپائیں، جہد مسلسل ہو اور مالک حقیقی کے رحمتوں کا بندہ استقامت سے اُمیدوار بنا رہے تو راستہ نکل ہی آتا ہے۔ ٹاٹ کے سکولوں سے آنیوالوں کی مقابلے کے امتحانات میں کامیابی کی شرح حیران کن ہے۔ دوردراز دیہات کے ہمارے نوجوان تعلیمی وشہری سہولتوں سے محرومی کے باوجود اس لئے کامیابی حاصل کر تے ہیں کہ وہ محنت ومشقت سے جی چراتے نہیں اس کو گلے لگاتے ہیں، اب تو اتنے شعبے ہیں اور اس قدر مواقع کی بھرمار ہے کہ مجھ جیسے نے ان کا نام بھی نہیں سنا ہوتا۔ فری لانسنگ آج کل سب سے فائدہ مند شعبہ ہے۔آپ یوٹیوب پر moneytreepk سرچ کر کے رہنمائی پر مبنی ویڈیوز دیکھ لیں تو آنکھیں کھل جائیں گی۔جب قدرت آپ کو گھر بیٹھے امریکہ، برطانیہ، فرانس غرض دنیا کے کونے کونے سے کام حاصل کرنے اور اس کا پاکستانی مارکیٹ سے سوگنا بلکہ اس سے کہیں زیادہ معاوضہ لینے کا موقع دیتا ہے تو پھر شکایت کیسی نااُمیدی کیوں، میرے نوجوان طالب علم مالک کائنات کی یہ دنیا بہت وسیع وعریض ہے۔ یہاں ہوا میں بھی رزق ہے اور سمندر میں بھی، زمین کے اوپر بھی رزق ہے اور زمین کے اندر بھی، اس شان والے ذات کی رزاقی کا کیا کہنے، ہم ہی بندے عاجز اور نکمے ہیں۔
نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی شکایات 03379750639 پر میسج اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے پتے پر بھی بھجوا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی آراء اور جوابی وضاحت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔

اداریہ