Daily Mashriq


تشدد ایک سماجی بحران

تشدد ایک سماجی بحران

ملک میں ہونیوالے بے دردی اور سفاکی پر مبنی واقعات کا سلسلہ رکنے میں ہی نہیںآرہا۔ زینب اور اسماء پر پوری قوم روئی تو نقیب اللہ محسود کی خوبصورت جوانی پر ایک دوجے کو پرسہ دیا گیا اور اب ڈاکٹر عاصمہ رانی کا بیہمانہ قتل۔۔ ان تین بڑے اور شہرت رکھنے والے واقعات کے بیچ بھی کچھ اندوہناک واقعے ہوئے لیکن ان بڑے واقعات کی شدت تلے دب کر واضح نہ ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ نواجوان ڈاکٹر عاصمہ کی موت تو بہت ہی دل دکھانے والی ہے۔ عاصمہ ایم بی بی ایس کے سال سوم کی طالبہ تھی کہ بس آخری سال تھا کہ وہ مکمل ڈاکٹر بن جاتی۔ افسوس کے اس کے نزعی بیان کے باوجود مبینہ ملزم عمرے کے بہانے ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ یہاں سوال اُٹھتا ہے کہ ہمارا سسٹم صرف زبردست لوگوں کا ہے کہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مبینہ ملزم کو باہر نکالنے میں جو لوگ شامل تھے انہیں عاصمہ کی جوانی پر ترس نہیں بھی آیا تو کیا ان کی اپنی بہنیں، بیٹیاں نہیں تھیں جو ایک قاتل اور ظالم کا ساتھ دیتے وقت یہ نہ سوچ رہے تھے کہ ان کے عمل سے ایک مظلوم ایک مقتول کیساتھ وہ بے انصافی کے مرتکب ہوگئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور یقیناًحکومت اس کے مبینہ قاتل کو انٹر پول کے ذریعے گرفتارکرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔صوبے کے عوام کی نظریں ضرور اس مبینہ قاتل کی واپسی کا تقاضا کریں گی اور اُمید ہے کہ اس مسئلے پر صوبائی حکومت عوام کی اُمیدوں کے مطابق کام بھی کرے گی۔ انسان یا گروہ کے پاس طاقت کا کوئی بھی وسیلہ ہو، اس سے ظلم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چاہے طاقتور قومیںہوں، خاندان ہوں یا انفرادی سطح کی طاقت ہو کمزور پر ظلم کا اندیشہ ضرور موجود رہتا ہے اور یہ انسانی تاریخ میںکوئی نئی بات نہیں ہے۔ طاقت کے اسی بُعد کو ختم کرنے کیلئے معاشرے میں قانون بنائے جاتے ہیں اور ان پر عمل کرکے ہی کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچایا جاتا ہے۔ مغربی معاشرے اسی لئے پرامن واقع ہوئے ہیں کہ وہاں قانون کو من وعن نافذکیا جاتا ہے، یہاںتک کہ والدین بھی اپنے بچوں پر تشدد نہیںکر سکتے بلکہ بچے کی شکایت پر والدین کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں ایک بہترین قانون تو موجود ہے لیکن اس پر ویسا عمل نہیں ہوتا جیساکہ ہونا چاہئے۔ یہاں قانون نافذ کرنیوالے ادارے غریب اور امیر کو الگ الگ ٹریمٹنٹ دیتے ہیں لیکن قانون میں اگر کلاسیں بن جائیں تو انصاف ہونے سے رہا۔کسی بھی سماج میں بوڑھے، خواتین اور بچے کمزور ترین طبقات میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے ان طبقات پرظلم بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ آسان شکار بھی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور خواتین کیونکہ ظلم کبھی بھی برابر والے کیساتھ نہیںکیا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں مدافعت کا خدشہ ہوتا ہے۔ مصیبت یہ بھی ہے کہ ہمارے وہ سماجی ادارے بھی اب نہیںرہے کہ جہاں ہمارے بچوں کی خودکار قسم کی تربیت ہو جایا کرتی تھی۔ نہ حجرے، نہ بیٹھکیں، نہ ہی چوپالوں کا رواج باقی رہا۔ اب تو گیجڈ کا زمانہ ہے اور ہمارے بچے ان گیجڈز میںکھوئے رہتے ہیں۔ اب موبائل اورلیپ ٹاپ جیسے گیجڈکو بچے کیسے استعمال کرتے ہیں اس پر والدین کی کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے۔ وہ اس انٹرنیٹ سے کیا سیکھ رہا ہے اور اس کی شخصیت پر اس کا کیا اثر ہو رہا ہے والدین اس سے بالکل بے خبر ہی رہتے ہیں۔ ہمارا نصاب بھی اس معاملے میںکوراہے، اور تو اور اخلاقیات کے حوالے سے ہمارے نصاب میں بہت کم مواد موجود ہے۔ جینڈر ایجوکیشن کے حوالے سے بھی بہت کم مواد نصاب میں موجود ہیں۔ ہم قوموں، ذاتوں اور مسلکوں میں تقسیم معاشرے میں رہتے ہیں۔ دوسروں کے بزرگوںکو اپنا بزرگ سمجھنا، دوسروں کی ماں بہن کو اپنی ماں بہن جیسی عزت دینا ایسی صورت میں ناممکن ہو جاتا ہے جب سماج تقسیم ہوجائے۔ ہمارے نصاب، ہمارے میڈیا، ہمارے سوشل میڈیا میں قومیت پرستی ہی موجود نہیں تو ہم ایک قوم کیسے بنیں، جب ایک قوم نہیں بنیں گے تو سماج کو کون اپنا گھر سمجھے گا۔ سزا جزا کا نظام بھی ایسا ڈھیلا ہے کہ مجرم سزا سے بچ ہی جاتا ہے۔ اوپر سے ہر ایک واقعے کو سیاسی بنا دیا جاتا ہے۔ اس پر پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے۔ عدم تشدد کے یہ مسائل اتنے خوفناک ہیں کہ سوچنے پر روح کانپ جاتی ہے لیکن ابھی تک ان مسائل پر کوئی ڈائیلاگ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ شور بہت ہے، تنقید بہت ہے، واویلا بہت ہے لیکن اس کا حل کوئی سوچنے کی جستجو نہیںکرتا۔ ہم بحیثیت قوم ایک نفسیاتی بحران سے گزر رہے ہیں لیکن ان نفسیاتی مسائل کو کوئی لفٹ ہی نہیں کروا رہا۔ میرے خیال میں یہ موقع ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس تشدد کی لہر کی نفسیاتی وجوہات تلاش کرنے کیلئے مل بیٹھیں، ماہرین سے استفادہ کریں، سیمینار مذاکرے کروائیں اور کسی حتمی نقطے پر پہنچیں،کم ازکم سماجی بیماری کی تشخیص تو کریں۔ جب تشخیص ہوجائے علاج بہت آسان ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں