Daily Mashriq


یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

گوئبلز کی روح کس قدر سرشار ہو رہی ہوگی۔ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جرمنی سے تعلق رکھنے والے اس پروپیگنڈہ باز نے جو اصول بنا کر اسے پھیلایا تھا یعنی اس قدر جھوٹ بولو کہ سچ کے آنے تک گائوں کے گائوں ویران ہوچکے ہوں، اور اسی کلئے کے تحت جرمن ریڈیو نے اس قدر جھوٹی خبریں پھیلائیں کہ اتحادی افواج اس جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر اور خوف میں مبتلا ہو کر کئی محاذوں پر ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوئیں، آج بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کا ایک مخصوص حصہ ملکی معاملات کے حوالے سے اسی طرح جھوٹی خبریں پھیلا کر جس قسم کی مایوسی پھیلا رہا ہے اس کا نتیجہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے اندر قصور میں وقوع پذیر ایک سانحہ کے بارے میں ایک اینکر کے دعوے پر سماعت کے دوران بلوائے گئے بعض اہم صحافیوں سے مشاورت کی صورت سامنے آیا جس نے میڈیا کے کردار پر کئی طرح کے سوال اُٹھا دیئے۔

چینلز کی اس ریٹنگ کی دوڑ سے بعض صحافیوں نے بھی ناجائز فائدہ اُٹھانا شروع کر رکھا ہے اور ان میں سے اکثر اپنے ذاتی بغض وعنادکو بھی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں شامل کر کے ناپسندیدہ سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی کردار کشی کیلئے استعمال کرتے ہیں یا پھر اپنے ممدوح کرداروں کی بے جا تعریفوں اور ان کے کیریکٹر بلڈنگ کیلئے کام میں لاکر ملکی سیاسی فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو کسی ایک چینل سے دوسرے خصوصاً متحارب یامتقابل چینل میں آتے ہیں ان کی زبانوں سے ایسے تبصرے اور تجزئیے ابل کر سامنے آتے ہیں جو یا تو نئے چینل کی ڈیمانڈ ہوتے ہیں یا پھر جس چینل کو الوداع کہہ کر آئے ہوتے ہیں ان کیساتھ اپنی مخاصمت کا حساب بیان کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں، انتہائی معذرت کیساتھ عرض کرنے دیجئے کہ جو لوگ معروف معنوں میں اینکر کہلاتے ہیں ان کی اکثریت کو یہ تک نہیں معلوم کہ لفظ اینکر کے معنی کیا ہیں اور نشریات کے اصولوں کے مطابق ایک اینکر کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، بس انہوں نے اینکر کا لفظ سنا ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، مختلف ٹاک شوز میں جو خواتین وحضرات بطور اینکر شامل ہوتے ہیں وہ کہیں ماڈریٹر بن جاتے ہیں، کہیں اینکرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں ہوسٹ کا کردار نبھا رہے ہوتے ہیں اورکہیں کچھ اور، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نیوز کاسٹر، اینکر، ماڈریٹر، ہوسٹ، اینالسٹ اور اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر ناموں کی بنیاد تو ایک ہی ہے جسے براڈکاسٹنگ کی زبان میں کمپیئر کہا جاتا ہے تاہم ذمہ داری میں تبدیلی کی وجہ سے اس کے ذیلی ناموں میں تبدیلی آجاتی ہے، مگر یہاں تو ہر شخص بس ایک لفظ اینکر کی رٹ لگا کر ڈیوٹی دے رہا ہے، دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ خواہ وہ اینکر ہو، ماڈریٹر ہو، ہوسٹ ہو، اینالسٹ ہو یا پھرکمپیئر، اسے کسی بھی صورت میں موضوع زیر بحث کے دوران غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے اور وہ پروگرام میں بلائے گئے مہمانوں کو اپنے خیالات ناظرین یا سامعین (ریڈیو کی صورت میں) تک پہنچانے کی سہولت مہیا کرتا ہے مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ ان (نام نہاد) اینکر ز کا رویہ یا تو مہمانوں کیساتھ معاندانہ ہوتا ہے اور ان کیساتھ بحث وتکرار میں اُلجھ جاتے ہیں، جو اِن کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کیساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا، یا پھر ان کے خیالات کے مکمل استرداد پر مبنی رویہ ہوتا ہے جو براڈکاسٹنگ کی اخلاقیات کے منافی ہے اور پھر مسئلہ وہاں زیادہ گھمبیر ہو جاتا ہے جب یہ اینکر خود کو بطور محتسب ہر ایک کے خیالات میں کیڑے نکال کر ان پر اپنے خیالات مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے

محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے

رند کا، ساقی کا، مے کا، خم کا، پیمانے کا نام

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے اندر صحافیوں کے خیالات سے استفادہ کے دوران بعض صحافیوں نے بڑی پتے کی باتیں بھی کیں، ایک صحافی کے بقول اگر کوئی صحافی رپورٹنگ، سب ایڈیٹری اور نیوز روم کی ذمہ داریوں سے گزر کر نہیں آیا تو اس کو کسی خبر کی حقیقت کا ادراک ہوہی نہیں سکتا، جس اینکر کی دی ہوئی اطلاع نے آجکل نئی بحث چھیڑ دی ہے، اس اینکر نے صحافت کے میدان میں چند برس پیشتر ہی قدم رکھا، اگرچہ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور شاید وہ حادثاتی طور پر اس پیشے میں آئے جبکہ ان کی خوش بختی دیکھئے کہ ایک اہم چینل کے شروع ہوتے ہی انہیں لندن آفس میں ڈائریکٹر نیوز کا عہدہ مل گیا تھا، اس کے بعد موصوف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اورایک سے دوسرے چینل سے ہوتے ہوئے پی ٹی وی کے ایم ڈی کے عہدے پر بھی کچھ عرصہ براجمان رہے، اب جس شخص نے کسی اخبار یا پھر میڈیا چینل پر نہ کبھی رپورٹنگ کی ہو، نہ سب ایڈیٹر یا نیوز روم میں ذمہ داریاں نبھائی ہوں انہیں اتنے اہم عہدوں پر کام کرتے ہوئے پیشے کی باریکیاں اور خبر کی حقانیت کے بارے میں کیا معلوم ہو سکتا ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ موصوف نے سانحہ قصور میں ملوث ملزم کے حوالے سے مکمل تفتیش اور ذرائع سے درست معلومات لئے بغیر ایسا دعویٰ کیا کہ آج وہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنی خبر کو درست ثابت کرنے میں دشواری کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں، بہرحال اس چھان پھٹک سے یہ اُمید ضرور روشن ہوئی ہے کہ آئندہ جھوٹی خبریں اور ذاتی عناد پر مبنی تبصرے بند ہو سکیں گے، اگرچہ مادرپدر آزاد سوشل میڈیا کے حوالے سے شاید یہ توقعات پھر بھی پوری نہ ہوسکیں۔

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

متعلقہ خبریں