Daily Mashriq

لورالائی میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ

لورالائی میں دہشت گردی کا بڑا واقعہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر لورالائی میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر پر ہونے والے حملے میں9پولیس اہلکاروں کا جاں بحق ہونے اور21سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا سنگین واقعے کے پس پردہ وجوہات اور عناصر کے حوالے سے فی الوقت کچھ اندازہ لگانا مشکل ہے البتہ یہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پیشرفت کا امکان ہے جس میں پاکستان نے طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔ لورالائی میں رواں مہینے کے دوران شدت پسندی کا یہ تیسرا واقعہ ہے، اس سے قبل ایک حملے میں ایدھی فاؤنڈیشن لورالائی کے انچارج بازمحمد عادل بھی مارے گئے تھے۔ یکم جنوری کو لورالائی میں فرنٹیئرکور کے تربیتی مرکز پر بھی چار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں چار سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے۔ لورالائی شہر کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً250کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں مغرب میں افغانستان سے متصل دواضلاع ژوب اور قلعہ سیف اللہ سے ملتی ہیں جبکہ ژوب کی سرحد شمال میں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہے۔ ماضی میں بھی ان اضلاع میں شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری طالبان اور دیگر مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مختلف واقعات کی صورت میں مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن کچھ عرصے سے ان علاقوں میں صورتحال میں بہتری آئی ہے جبکہ پشتون اکثریتی علاقے لورالائی میں رواں ماہ کا یہ تیسرا واقعہ ہے قبل ازیں کے واقعات اتنے سنگین نوعیت کے نہ تھے جس قسم کا بڑا واقعہ اب رونما ہوا ہے، اگرچہ اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوؤں کی حقیقت مشکوک ہوتی ہے اور ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود اس امر کا تعین نہیں ہوتا کہ اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ مبنی برحقیقت ہے یا نہیں۔ بہرحال ان حالیہ واقعات کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کی گئی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جانب پاکستان افغانستان میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مصالحت کرانے میں طالبان کے اہم رہنماؤں کی رہائی جیسے امور کی انجام دہی کر رہی ہے تو دوسری جانب انہی کے حلیف اس قسم کی دہشت گردی کے واقعات کا ارتکاب کیوں کریںگے؟ اس قسم کے واقعات جب بھی رونما ہوتے ہیں تو اس کے پس پردہ کردار سرحد کے اس پار افغانستان اور پاکستان دونوں ہی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغانستان میں حالیہ واقعات ہوں یا بلوچستان کا تازہ واقعہ ایسا لگتا ہے کہ جن قوتوں کو خطے میں قیام امن اور استحکام مطلوب نہیں ہر دوممالک میں وہ اس قسم کے واقعات کے ذریعے بے چینی اور عدم تحفظ کیساتھ ساتھ عدم استحکام پیدا کر کے مذاکرات کا ماحول خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب پاکستان، امریکہ، چین اور روس جیسے ممالک افغانستان میں قیام امن کا کوئی فارمولہ وضع کرنے کیلئے سلسلہ جنبانی کر رہے ہیں حالات خراب کرنے والی پس پردہ قوت ہونے کا بھارت ہی کی طرف دھیان متوجہ ہوتا ہے۔ لورالائی کا واقعہ عین اس روز ہی رونما ہونا جب ذرائع ابلاغ میں وزیراعظم کی جانب سے پاک طورخم سرحد ہر وقت کھلا رکھنے کے اقدامات کا چرچا ہے اس امر کی گویا تائید ہوتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بعد کی کیفیت برقرار رکھنے والی قوتیں ہی اس واقعے کی ذمہ دار ہوسکتی ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ بلوچستان میں کلبھوشن نیٹ ورک کا صفایا ہونے تک وہاں کیا حالات رہے اور اب بھی ان عناصر کی وہاں کسی نہ کسی حد تک موجودگی اور اثرات ناممکن نہیں، بہرحال ان واقعات کی ذمہ داری جن قوتوں اور عناصر پر بھی عائد ہو، دہشتگرد عناصر کا ایک ایسے مقام پر حملہ کہ اس کے مماثل واقعات پنجاب سے لیکر بلوچستان ہر جگہ ہو چکے ہیں وہاں سیکورٹی کی ناکامی سامنے آنا لمحہ فکریہ ہے۔ مناواں میں پولیس تربیتی مرکز پر حملہ کے بعد اس قسم کے مراکز کی حفاظت کی سخت نگرانی یقینی بنانی چاہئے تھی۔ بلوچستان میں تو پولیس اور فورسز میں بھرتی کے مواقع پر اس قسم کے دہشت گردانہ حملے معمول بن چکے ہیں جن کا مقصد نوجوانوں کو سیکورٹی اداروں میں خدمات انجام دینے سے قبل ازوقت روکنا اور خوفزدہ کرنے کا ہے۔ اس لحاظ سے یہ حملہ غیرمتوقع نہیں تھا اور نہ ہی خطرے کے ادراک کیلئے کسی اضافی سوچ بچار کی ضرورت تھی اسلئے اطلاع دینے والی ایجنسیوںکی کارکردگی پر سوال اُٹھانا بھی درست نہ ہوگا۔ ایک عین متوقع واقعے کی روک تھام میں ایجنسیوں سے لیکر پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس بھی نہیں۔

متعلقہ خبریں