Daily Mashriq

قبائلی نوجوانوں سے وزیراعلیٰ کا خوش آئند وعدہ

قبائلی نوجوانوں سے وزیراعلیٰ کا خوش آئند وعدہ

پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کی جانب سے قبائلی اضلاع کے لوگوں کو سرکاری ملازمتوں میں عمر اور تعلیم میں رعایت، وزیرستان میں چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے اور نئے اضلاع میں انصاف، حکمرانی اور دیرپا خدمات کا انفراسٹرکچر کے قیام کی یقین دہانی قبائلی اضلاع کے عوام کیلئے باعث اطمینان نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں لیکن دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ انضمام شدہ اضلاع کے عوام کو ابھی تک عملی طور پر یہ احساس تک نہیں دلایا گیا ہے کہ وہ انضمام کے ثمرات کے قائل ہوں بلکہ قبائلی اضلاع کے عوام کی حالت اس وقت آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کی سی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت کی مساعی حق المقدور تو ہیں لیکن وفاق کی جانب سے وسائل کی عدم فراہمی وہ بنیادی مشکل ہے جس سے صورتحال میں بہتری لانے کی مساعی التواء کا شکار ہیں۔ وفاق کی جانب سے قبائلی اضلاع کو سو ارب روپے کے فنڈز دیئے جانے کا وعدہ ہنوز ایفاء طلب ہے اسی طرح قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ صوبائی وسائل میں شامل کرنے کا معاملہ بھی التواء کا شکار ہے بہرحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی قبائلی اضلاع کا دورہ اور خاص طور پر نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں عمر اور تعلیم میں رعایت کیساتھ ترجیح دینے کا وعدہ قبائلی نوجوانوں کے مسائل ومشکلات اور بیروزگاری میں کمی لانے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ قبائلی نوجوانوں کو روزگاراور کاروبار کے مواقع اس وقت ہی میسر آئیں گے جب ان علاقوں میں سول انتظامیہ اور محکموں کے دفاتر قیام عمل میں آئیں گے۔

بی آر ٹی، ایک اور مدت تکمیل کے ہدف بارے خدشات

صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے 23مارچ کو بی آر ٹی کا جزوی افتتاح کا عندیہ دیکر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے متعلقہ حکام کو 23مارچ تک کام ہر صورت مکمل کرنے کی ہدایت میں نرمی کا عندیہ دے دیا ہے جس سے انتظار کی گھڑیاں مزید طویل ہوں گی۔ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت نے 6ماہ میں اس کی تکمیل کی خواہش ظاہر کی تھی جو پوری نہ ہو سکی۔ صوبائی وزیر کے مطابق 27بس سٹینڈز 23مارچ تک تیار کر لئے جائیں گے تاہم بس چلانے کی تاریخ 23مارچ سے 30مارچ بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی بی آر ٹی کی بروقت تکمیل کی تگ ودو اور منصوبے کی اچانک جاکر معائنہ اور متعلقہ حکام کو تنبیہہ اپنی جگہ سنجیدہ مساعی ضرور ہیں لیکن دوسری جانب وزیربلدیات کی اس منصوبے میں مزید تاخیر کا عندیہ بھی بے سبب نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود23مارچ تک اس کی تکمیل ممکن نہیں۔ دواعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا ایک ہی منصوبے کے بارے میں متضاد خیالات اور اندازے موزوں طرزعمل نہیں اور نہ ہی یہ حکومتی مفاد اور وقار کا تقاضا ہے کہ ایسا کیا جائے۔ بہرحال یہ ان دونوں کی ذاتی دلچسپی اور کوششوںکا مظہر ضرور ہے کہ وہ بی آر ٹی جیسے عوامی منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے کوشاں ہیں۔ بی آر ٹی منصوبے کی مدت تکمیل کے جس غیرحقیقت پسند وقت کا اعلان سابق وزیراعلیٰ نے کیا تھا نہ صرف اس کا ممکن نہ ہونا بلکہ ایک اور وقت مقرر کر کے اس پر بھی کامیابی نہ ہونا حکومت کیلئے یقیناً خوشگوار صورتحال کا باعث نہ ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ اس منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے یکساں موقف اختیار کیا جائے اور منصوبے کی جلد سے جلد تکمیل کیلئے دن رات ایک کی جائے۔

سرکاری جامعات میں اقرباء پروریاں

صوبائی انسپکشن ٹیم کی جانب سے سوات یونیورسٹی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، بجٹ کے استعمال میں بے قاعدگیوں اور تعمیراتی کاموں میں غفلت کی نشاندہی کرکے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کیخلاف کارروائی کرنے کی جو سفارش کی ہے اس پر عملدرآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اسی طرح گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان گریڈ سترہ سے اوپر بھرتیوں کی جو رپورٹ طلب کی ہے اس کے بعدجملہ سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی صورتحال سامنے آئے گی۔ خیبر پختونخوا میں جو جامعات اس وقت پراجیکٹ ڈائریکٹرز کے رحم وکرم پر ہیں وہاں بھرتیوں میں اندھیر نگری کے علاوہ ان جامعات کو باقاعدہ جامعات کی فہرست میں لانے کیلئے عملی اور دستاویزی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ ساری صورتحال ایچ ای سی کیلئے بھی توجہ طلب ہے۔ پشاور کے ایک جامعہ میں ایک مخصوص علاقے کے سترہ اٹھارہ افراد کو یکے بعد دیگرے بھرتی کرنے کا چرچا ہے جبکہ ایک اور جامعہ میں تعلیمی قابلیت اور پڑھانے کی اہلیت نہ رکھنے کے باوجود بھرتیوں کی شکایت ہے جبکہ بعض جامعات میں مقررہ آسامیوں کی تعداد سے زائد بھرتیوں کی شنید ہے۔ اس قسم کی بے قاعدگیوں ‘ بے ضابگیوں اور خاص طور پر تدریسی عملے کی خلاف میرٹ پر تعیناتی جامعات کے معیار کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں