Daily Mashriq

افغانستان میں استحکام اور قریبی ہمسایہ ممالک

افغانستان میں استحکام اور قریبی ہمسایہ ممالک

امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے بارے میں پیش رفت اگرچہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں ابتدائی اتفاقِ رائے ہوا ہے تاہم افغانستان میں امن قائم ہونے کی توقع اس وقت ہو سکتی ہے جب طالبان‘ کابل حکومت اور افغانستان کے دوسرے گروہوں کے درمیان کسی مشترکہ انتظام پر اتفاقِ رائے ہو جائے جو حالیہ امریکہ طالبان مذاکرات کے بعد ممکن نظر آنے لگا ہے لیکن قریب نہیں۔اس امکان کے واضح ہونے کے بعد افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کے لیے جو خوشگوار امکانات نمودار ہوئے ہیں ان کے باعث ان ممالک میں آپس میں رابطے ہونا لازمی نتیجہ ہے جو کہ روس کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف کے دورۂ پاکستان میں نظر آتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ امور تہمینہ سے ضمیر کابلوف کے مذاکرات میں طے پایا ہے کہ دونوں ممالک افغانستان میں امن کی کوششوں کے حوالے سے رابطے کرتے رہیں گے۔ پاکستان کی سہولت کاری کی کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ ہفتہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جو چھ روزہ مذاکرات ہوئے ہیں انہیں دونوں فریقوں نے اہم پیش رفت قرار دیا ہے ۔ تاہم اس پیش رفت کو آئندہ متوقع طور پر نتیجہ خیز مذاکرات کی ابتدا ہی کہا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد دوحا میں چھ روزہ مذاکرات کے بعد ان کے ماحصل سے اشرف غنی حکومت کو آگاہ کرنے کابل گئے۔ اس کے بعد صدر اشرف غنی کا جو ردِ عمل آیا ہے کچھ اتنا حوصلہ افزا نہیں ہے اگرچہ اسے منفی نہیں کہا جا سکتا۔ زلمے خیل زاد نے واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے ایک وضاحت یہ بھی کر دی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی فوج کے انخلا کے عرصہ کے بارے میں کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوا حالانکہ کہا جا رہا تھا کہ 18ماہ میں تمام امریکی فوج کی واپسی کا عرصہ طے کر لیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران امریکی وفد نے کئی بار کوشش کی کہ کابل حکومت کے نمائندوں کو بھی شامل کر لیا جائے‘ طالبان اس پر رضامند نہ ہوئے۔ طالبان کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ اشرف غنی حکومت کو افغان عوام کی نمائندہ حکومت نہیں سمجھتے اس لیے ان سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے ۔ لیکن افغانستان میں اگر امن قائم ہوتا ہے اور وہ تمام افغان مراکز قوت کی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن بنایا جاتا ہے تو اس کے دیر پا ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی اور کابل حکومت ایک اہم قوت ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ امریکہ طالبان مذاکرات پاکستان کی کوششوں کی بنیاد پر ممکن ہوئے ہیں اور پاکستان کا مؤقف بھی یہ ہے کہ افغان امن بین الافغان ہی ہو سکتا ہے یعنی ایسا امن جس میں تمام افغان عناصر مشترکہ طور پر رضامند اور ذمہ دار ہوں۔ طالبان کا مؤقف یہ ہے کہ پہلے امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں اس کے بعد وہ کابل حکومت سے خود مذاکرات کریںگے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ طالبان فتح مندی کی پوزیشن سے مذاکرات میں جانا پسند کرتے ہیں ۔ یہ فتح مندی کا تاثر امریکہ کے اپنی فوجیں نکالنے کے اعلان پر مبنی ہے۔ اس اعلان کی وجہ طالبان کی 17سالہ جدوجہد یقینا ہے جس کی بنیاد پر افغانستان کا پچاس یا ساٹھ فیصد علاقہ ان کے زیرِ اثر بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں لیا جا سکتا کہ طالبان نے مکمل فتح حاصل کر لی ہے۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران جب سے افغانستان میں شورش برپا ہے کسی کو بھی دوسرے فریقوں پر مکمل فتح حاصل نہیںہوئی ۔ طالبان کی حکومت کے دوران بھی شمالی اتحاد کا کنٹرول ایک علاقے پر تھا اور امریکہ کے آنے کے بعد بھی کابل حکومت پورے ملک پر قابض نہ ہو سکی اور آج بھی طالبان اگرچہ کابل حکومت کو محدود رکھے ہوئے ہیں تاہم سارے ملک پر قابض نہیں ہیں لیکن یہ صورت حال تادیر قائم رہی تو اس کا نتیجہ ملک میں شدید عدم استحکام کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ اس لیے دو حا مذاکرات میں پیش رفت کے بعد امریکی فوج کی فوری اور مکمل واپسی کی بجائے بین الافغان رابطے اور مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے جن میں افغانستان کے مستقبل کے انتظام اور استحکام کی بنیاد تلاش کی جائے۔ افغانستان کے عدم استحکام میں دیگر متعدد عناصر کی دلچسپی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں طالبان نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ افغانستان میں شرپسند عناصر کو نہیں آنے دیں گے ۔ اور افغانستان کی سرزمین کو امریکہ کے کسی اتحادی کے خلاف استعمال نہیںہونے دیں گے ۔یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ داعش نے بھی افغانستان میں ’’اقلیم خراسان‘‘ کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد اگر کوئی بین الافغان انتظام قائم نہ ہو سکا جس میں طالبان‘ کابل حکومت اور دیگر قابلِ ذکر قوتیں بھی شامل نہ ہوئیں تو خانہ جنگی کے امکان کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا۔ اس کے سدباب کے لیے بین الافغان امن ضروری ہے جسے افغانستان کے سرحدی ممالک کی عملی حمایت بھی حاصل ہو تاکہ افغانستان میں کوئی زیر اثر علاقہ قائم نہ ہو سکے۔ دیگر ایشوز میں اولین افغانستان کی تعمیرِ نو اور جنگی تنظیموں کا انضمام اہم ہوں گے۔ اس کے لیے اقوام متحدہ کے تحت تعمیر نو کا ماسٹر پلان اور نگرانی ضروری ہو گی جس میں افغانستان کے سرحدی ممالک بھی شریک اور ذمہ دار ہوں۔ ان تمام ایشوز پر مرحلہ وار متوجہ ہونے کی بجائے بین الاقوامی کمیونٹی کو ان تمام امور پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے کسی انتظام کے لیے افغانستان کے سرحدی ممالک کے باہمی رابطے اہم ہوں گے۔ ضمیر کابلوف کا دورۂ پاکستان اس کی ابتداء شمار کیا جاسکتا ہے۔ افغان امن عمل کی کامیابی اور اس کی حفاظت کے لیے مربوط بین الاقوامی کوشش ضمانت فراہم کر سکتی ہے جس میں افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کی عمل شرکت ہو جن کی افغانستان کے استحکام میں گہری دلچسپی ہے۔

متعلقہ خبریں