Daily Mashriq

سنتے آئے ہیں یہی اندھا ہے قانون

سنتے آئے ہیں یہی اندھا ہے قانون

دو بلیاں اپنے من بھاتے کھاجے پر قبضہ کرنے کی غرض سے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئیں۔ ایسے میں بیچ بچاؤ کرنے کی غرض سے

تھوڑا سا انصاف کرو

لڑائی کٹائی معاف کرو

کہتا بندر آن ٹپکا، کہنے کو تو بلیاں شیر کی خالائیں ہوتی ہیں، لیکن بندر ان کا تایا ثابت ہوا، اس نے لڑائی مارکٹائی کیخلاف اتنی دھواں دھار تقریر کی کہ وہ لڑنا جھگڑنا بھول کر مبہوت ہوکر بندر میاں کی تقریر سننے لگیں۔ بندر نے دونوں بلیوں کو طعنہ آمیز لہجے میں کہا کہ، دیکھیں جی یہ کتنی بری بات ہے کہ آپ صرف اور صرف اپنے من بھاتے کھاجے کی وجہ سے لڑ لڑ کر ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہوگئی ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اس مسئلہ کو لڑائی مارکٹائی کی بجائے صلح سلوک سے طے کر لیتیں، بھلا وہ کیسے؟ دو بلیوں میں سے ایک پھولی ہوئی سانس کیساتھ بولی، وہ ایسے کہ تم دونوں اپنے من بھاتے کھاجے کے دو برابر برابر ٹکڑے کر لیتیں، ایک ٹکڑا ایک بلی لے لیتی اور دوسرا دوسری کے حصہ میں آجاتا اور یوں لڑائی جھگڑے اور سر پھٹول کی نوبت ہی نہ آتی بندر نے بات تو دل کو لگنے والی کہی تھی سو دونوں بلیاں اس بات پر رضامند ہوگئیں کہ اس من بھاتے کھاجے کے دو برابر حصے کر لیتے ہیں اور یوں وہ حصے آپس میں پیار محبت سے بانٹ کر کھا لیتے ہیں

پیار ویرانے کو بھی گلزار بنا دیتا ہے

سر کے دشمن کو بھی دلدار بنا دیتا ہے

دونوں بلیوں نے اس اہم کام کو انجام تک پہنچانے کیلئے بندر کو اپنا جج بنا لیا اور یوں بندر میاں ہاتھ میں ترازو تھام کر بلیوں کے من بھاتے کھاجے کو برابر برابر تقسیم کرنے لگا، اس نے من بھاتے کھاجے کے دو ٹکڑے کئے، ایک ٹکڑے کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالا اور دوسرے کو دوسرے پلڑے میں ڈال کر ان کو تولنے لگا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس طرح کرنے سے ترازو کا ایک پلڑا وزنی ہوکر نیچے کو لٹک گیا ہے تو اس نے وزن برابر کرنے کی غرض سے وزنی ٹکڑے کا حصہ کاٹ کر اپنے منہ میں ڈال لیا، اس کی اس حرکت سے دوسرا پلڑا بھاری ہوگیا، یوں وہ دوسرے پلڑے کا وزن ہلکا کرنے کی غرض سے من بھاتے کھاجے کا ٹکڑا کاٹ کر اپنے منہ میں ڈال کر چبانے لگا، وہ یہ سب کچھ لڑنے جھگڑنے والی بلیوں کی آنکھوں کے سامنے کر رہا تھا لیکن بلیاں بے چاری شیر کی خالائیں ہونے کے باوجود ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق نہایت خاموشی سے یہ طرفہ تماشا دیکھتی رہیں، خود کردہ را علاج نیست کے مصداق کچھ بھی تو نہیں کرسکتی تھیں وہ بے چاری۔ انہوں نے خود ہی تو بندر کو اپنا جج مقرر کیا تھا، بندر کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو بھی تھا اور فیصلہ کرنے کا اختیار بھی، بلیاں اگر چون وچرا کرتیں توہین عدالت کی مرتکب ہوجاتیں۔ انہوں نے جاگنے والو جاگو مگر خاموش رہو، کے اصول پر عمل کیا اور یوں بندر میاں حق اور انصاف کا بول بالا کرنے کی غرض سے بلیوں کا من بھاتا کھاجا ان کی آنکھوں میں دھول ڈال کر ان کے سامنے چٹ کرتا رہا، وہ دن گیا، یہ دن آیا بندر کی اس حرکت نے اندھوں کی ریوڑھیوں کی طرح کی ہر تقسیم کو بندر بانٹ کہنا شروع کردیا، وہ جو کہتے ہیں کہ دو ملاؤں کے درمیان بھیڑ حرام ہو جاتی ہے جیسی صورتحال کا سامنا لڑتی جھگڑتی بلیوں کو کرنا پڑا جس کے سبب تیسری پارٹی آگئی اور یوں دال جوتیوں میں بٹنے کی بجائے بڑی دیدہ دلیری سے بندر میاں کے پیٹ میں چلی گئی، جب دال جوتیوں میں بٹتی ہے یا گڑ ڈولی میں توڑا جاتا ہے توکسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ کس کو کتنا ملا، یہ رویہ ہمارے ہاں ایوارڈ تقسیم کرنے کے ابتدائی مرحلے میں اختیار کیا جاتا ہے، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ دال کس نے بانٹی اور کس کے حصہ میں کتنی آئی، ہمارے ہاں یہ رویہ یا روایت ایوارڈ تقسیم کرنے کے سلسلہ میں برسوں سے قائم ہے جس کو ہم نے حال ہی میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے صوبائی ایوارڈ تقسیم کرنے کے دوران توڑنے کی کوشش کی ہے، پاکستان رائٹرز گلڈ کی صوبائی مجلس عاملہ کے فیصلہ کے مطابق سال 2017 کے دوران شائع ہونے والی پشتو کی بہترین کتابوں کے انتخاب کیلئے پروفیسر اسیر منگل کو اور ہندکو کی بہترین کتابوں کے انتخاب کیلئے پروفیسر ملک ارشد حسین کو جج نامزد کیا گیا اور اخبارات میں کئے جانے والے اعلان کے تسلسل میں ان کے پوسٹل ایڈریس پر کتابیں منگوا کر نامزد کئے جانے والے جج صاحبان کے صائب فیصلہ کی روشنی میں صوبائی گلڈ ایوارڈز برائے 2017 کا اعلان کر دیا جس کے مطابق پشتو شاعری کی کتاب ’’آہ ‘‘ کے مصنف شیر ولی خان اورکزئی کو خاغلی طاہر کلاچوی گلڈ ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا، ڈاکٹر ولی شاہ خٹک کی نثری تصنیف ’ملغلرے‘ کو سال2017 کی بہترین کتاب قرار دیتے ہوئے خاغلی امیر حمزہ خان شنواری ایوارڈ کا اہل گردانا گیا۔ اسی طرح سال2017 کے دوران شائع ہونے والی پروفیسر حسام حر کی ہندکو نعتوں کے مجموعہ پر مبنی کتاب ’حسنت جمیع خصالہ‘ کو استاد آغہ محمد جوش گلڈ ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا جبکہ ملک ناصر داؤد کی کتاب غزوات نبویﷺ کو استاد غلام دین ہزاروی گلڈ ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، راقم السطور کے ہندکو مجموعہ کلام عین شین قاف کو گلڈ کے صوبائی ایوارڈ کے قابل نہیں سمجھا گیا جس سے جج صاحبان کے فیصلے کی شفافیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،

کس کو اب دکھلائیں ہم اپنے دل کا خون

سنتے آئے ہیں یہی اندھا ہے قانون

متعلقہ خبریں