Daily Mashriq

2کروڑ سے زائد بچوں کو اسکول بھیجنے کا چیلنج

2کروڑ سے زائد بچوں کو اسکول بھیجنے کا چیلنج

حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ5سے16سال تک کے تمام بچوں کو اسکول بھیجنا اور انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت تعلیمی شعبے کیلئے کیا کرسکتی ہے؟ ہم اسکول سے باہر بچوں کو اسکول بھیجنے کی منصوبہ بندی کس طرح کریں اور کس طرح تعلیمی معیار میں بہتری کو ممکن بنایا جائے؟ اگر اقتصادی صورتحال بہتر ہوتی ہے، جس کی حکومت کو توقع بھی ہے تو اگلے چند برسوں میں ملک میں زیادہ وسائل بھی موجود ہوں گے۔ اس کا دار ومدار غیرمعمولی حد تک اقتصادی استحکام اور پیداوار کی طرف فوری منتقلی پر ہوتا ہے لیکن تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پیداوار کی جانب منتقلی اتنی آسان اور سادہ نہیں رہی ہے۔ ہم گزشتہ30سال سے زائد عرصے کے دوران کبھی بھی طویل مدت کیلئے اقتصادی استحکام کو پائیدار پیداوار میں بدل نہیں پائے ہیں۔ اُمید ہے کہ اس بار نتیجہ مختلف ہو مگر جیسا کہ حکومت تعلیمی شعبے میں اخراجات کے حوالے سے سوچ رہی ہے اس لئے ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے لہٰذا اگر حکومتی وسائل سے موجودہ وقت کی طرح اضافی وسائل دستیاب نہیں ہوتے تو پھر ہمارے پاس کون سے آپشنز بچتے ہیں؟ تعلیمی اخراجات کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں کی نذر ہوتا ہے اور یہ معاملہ تمام ہی ملکوں کیساتھ ہے۔ اساتذہ کی تنخواہیں تعلیمی بجٹ کا اہم حصہ ہوتی ہیں اور اس معاملے میں زیادہ چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کی جاسکتی۔ ہم اساتذہ کی تعداد کم نہیں کرسکتے بلکہ اگر ہمیں ایک بڑی تعداد میں بچوں کو داخل کرنا ہے تو اس کیلئے زیادہ اساتذہ درکار ہوں گے۔ اساتذہ کی تنخواہیں اتنی زیادہ بھی نہیں ہیں۔ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنا بالکل بھی درست عمل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ری کرنٹ اخراجات میں بچت کے مواقع زیادہ نہیں۔ ہم اپنے موجودہ اساتذہ کی تعداد سے زیادہ کام لینے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن اس طرح جو نتائج برآمد ہوئے بھی تو وہ بہت ہی کم شرح کے حامل ہوں گے۔اساتذہ، اسکولوں، کلاس رومز، کتابوں اور دیگر متعلقہ سامان کی تعداد میں اضافہ کئے بغیر لاکھوں بچوں کو اسکول بھیجنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ سرکاری پرائمری اسکولوں کی ایک بڑی تعداد صرف2کمروں پر مشتمل ہے اور ان میں5سے6 کلاسوں کیلئے 5سے بھی کم ٹیچرز موجود ہیں۔ اگر ہم ان اسکولوں میں بھی داخلوں کی شرح بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں وہاں زیادہ کمروں اور ٹیچرز کی ضرورت پڑے گی۔مڈل اور ہائی اسکولوں کی مناسب تعداد نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر، ضلع رحیم یار خان میں2ہزار200 کے آس پاس سرکاری پرائمری اسکول موجود ہیں لیکن ہائی اسکولوں کی تعداد صرف220ہے۔ اگر موجودہ ہائی اسکولوں کی تعداد 2ہزار200اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تو ان سے اضافی طلبا کیلئے گنجائش نکالنے کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے؟ اس میں کوئی حیرت نہیں کہ ہمارے پاس تعلیم کا سلسلہ بیچ میں چھوڑ دینے والے بچوں کا ایک بڑا مسئلہ موجود ہے۔ ہم اسکولوں کی تعداد میں اضافے کے بغیر کس طرح اضافی بچوں کیلئے مڈل اور ہائی سطح کی تعلیم کا انتظام کرسکتے ہیں؟ اگر ہم مڈل اور ہائی اسکول کے بچوں کا خیال رکھنے کیلئے چند پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہمیں اضافی اساتذہ اور اضافی کمروں کا بندوبست کرنا ہوگا۔اسکول سے باہر موجود لاکھوں بچوں کو اگر ہم اسکولوں میں داخلہ دینے جا رہے ہیں تو اس کیلئے اسکولوں کے بنیادی ڈھانچوں میں اضافہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ بنیادی ڈھانچوں کے پھیلاؤ میں بہت زیادہ وقت اور بھاری لاگت درکار ہوتی ہے لیکن جب تک حکومت یہ محسوس نہیں کرلیتی کہ اس کے پاس اس لاگت کیلئے کافی وسائل موجود ہیں تب تک یہ آپشن زیادہ کارآمد نظر نہیں آتا۔اگر پی ٹی آئی حکومت بچوں کے داخلوں کی شرح میں اضافے اور تعلیمی معیار میں بہتری کو لیکر کافی سنجیدہ ہے اور اگر وہ اخراجات کیلئے وسائل نہیں رکھتی تو اسے نئے طریقے ڈھونڈنا ہوں گے۔ کیا پی ٹی آئی حکومت نجی شعبے اور نجی وسائل کو تعلیمی پھیلاؤ میں ہاتھ بٹانے کیلئے کسی طرح آمادہ کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ پاکستان میں منافع کے بغیر کام کرنے والا شعبہ چھوٹا ہے لیکن پھر بھی یہ حکومت کیساتھ شراکت داری کی بنیاد پر تھوڑا بہت بوجھ اُٹھا سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں ہمیں ان میں سے کسی ایک بات پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے بجائے تعلیمی میدان میں نجی شعبے کے حوالے سے کوئی گفتگو ہوتی ہے تو اس دوران ضابطوں، منافع کیلئے بھاری فیسوں، یکسانیت تھوپنے جیسی باتیں کی جانے لگتی ہیں۔ سادہ لفظوں میں کہیں تو اسکول میں داخلوں کی شرح میں اضافہ اور اسکولوں کے معیار میں بہتری قلیل مدت یا مستقبل قریب میں تو ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے اور وہ نجی شعبے کیساتھ شراکت داری کے ذریعے نئے طریقوں پر عمل کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتی۔ اگر حکومت اس مقصد کیلئے دیگر طریقوں پر غور کررہی ہے تو ہم انہیں ضرور جاننا چاہیں گے۔

متعلقہ خبریں