Daily Mashriq

خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس،قبائلی اضلاع ٹیکس سے مستثنیٰ قرار

خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس،قبائلی اضلاع ٹیکس سے مستثنیٰ قرار

صوبہ خیبرپختونخوا کیکابینہ کا اجلاس تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی ضلع لنڈی کوتل میں ہوا جس میں قبائلی اضلاع کو ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا۔اس سے قبل قبائلی علاقوں کو وفاقی حکومت کے تحت ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں قبائلی اضلاع سے متعلق مختلف فیصلے کیے گئے۔کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع پر کسی قسم کے ٹیکس عائد نہیں ہوں گے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق بل اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے سے متعلق علیحدہ بل بھی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کابینہ نے ضم شدہ قبائلی علاقے کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری بھی دی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں محکمہ صحت اور تعلیم میں 17 ہزار خالی نشستوں پر تقرر کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے ذیلی اضلاع میں میونسپل کارپوریشنز کی تشکیل کی منظوری دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ نے قبائلی اضلاع کی 3 سو مساجد میں سولر پینل لگانے کی منظوری دی۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ اجلاس میں صوبائی صحت پالیسی اور کانوں میں حفاظت سے متعلق پالیسی بھی منظور کی گئی۔

کان سے متعلق نئی پالیسی کے تحت کان کنوں کے لیے کان میں داخل ہونے سے قبل حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لیے خیبرپختونخوا کی کابینہ نے ٹورزم اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا،کابینہ اراکین نے صوبے بھر میں سفاری ٹرین اور سفاری بس کے جلد آغاز پر بھی اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی علاقوں میں تحصیل اور اضلاع متعارف

اس کے ساتھ ہی اجلاس میں طورخم بارڈر تک ریلوے ٹریک بحال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو 24 گھنٹے فعال رہے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کی ترقی میں 20 ارب روپے خرچ کرے گی۔

خیال رہے کہ 24 مئی 2018 کو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کا خیبرپختونخوا میں انضام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا۔

وزیرِ قانون محمود بشیر ورک کی جانب سے مذکورہ بل حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد پیش کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے لیے رائے شماری کی گئی تھی جس کی حمایت 229 میں اراکین نے ووٹ دیا تھا

متعلقہ خبریں