Daily Mashriq

مائنس تھری کے بعد

مائنس تھری کے بعد

میںحکومت ساز ی کا مر حلہ سب سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے چنا نچہ آج عمر ان خان کو اس امتحان سے گزرنا مشکل ترنظر آرہا ہے ، وہ کیسے سرخروہو ں گے یہ تو تشکیل حکمر انی سے ہی اندازہ ہو سکے گا ، تاہم ان کی وزیر اعظم بننے کی خواہش پوری ہوتی نظر آرہی ہے ، وہ سیا ست میں یہ نعرہ لگا کر داخل ہوئے تھے کہ پاکستان کے سیا ست دان لٹیرے ہیں اورعوام کا پیسہ لوٹ کر کھا جا تے ہیں وہ عوام کو انصاف دلائیںگے جس کے لیے ان کا وزیر اعظم ہو نا ضروری ہے چنانچہ وہ اپنے اس مقصد کے لیے ہر سیا سی وغیر سیا سی حربہ استعما ل کر تے رہے۔ گزشتہ پانچ سا ل ان کی نگاہیں اسی عوامی پیسہ کی چوری پر گڑھی رہیں اور تما م ترتوجہ یا ہدف نو از شریف کی ذات رہی ہے جن کے بارے میں ان کی تسبیح یہ تھی کہ نو از شریف نے عوام کا تین سوارب روپیہ چوری کیا اور ملک سے باہر لے گیا۔ اب ملک کے تما م ادارے ان کے تابع ہوںگے اور یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ نو از شریف نے تین سوارب روپے چوری کیے اور ملک سے باہر منتقل کیے کیوں کہ اب تک کوئی ادارہ یا عدالت اس الزام کو ثابت نہیںکر پائی ہے ، خیر یہ تو کل کی باتیں ہیںحاضردور میں ان کے لیے سب سے مشکل راستہ وفاق اور پنجا ب میںحکومت سازی کا ہے اگرچہ انہو ںنے انتخابی مہم کے دورا ن اس خواہش کا اظہا ر کیا تھا کہ معلق پارلیمنٹ نہیں ہو نی چاہیے اگر ایسا ہو گیا تو وہ پی پی کے ساتھ تعاون ہر گز نہیں کر یں گے اور حزب اختلا ف میں بیٹھنا پسند کریں گے مگر انتخابی نتائج جب سامنے آئے توظاہریہ ہی ہورہا تھا کہ عمر ان خان کوواضح برتری مل گئی ہے مگر حکومت سازی کا مر حلہ شروع ہوتے ہی دشواری نے گھیر لیا ، پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کے بعد تین جماعتیں مسلم لیگ ن ، پی پی اور ایم کیو ایم ہی جو اس آزمائش سے نکا ل سکتی ہیں مگر انہوں نے مسلم لیگ ن اور پی پی کا ہاتھ تھامنے سے انکا ر کر دیا ہے ، حالانکہ کے سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے مو قع پر انہو ں نے بقول پرویز خٹک کے اوپر والوں کے حکم کے مطا بق پی پی کا ہا تھ تھام لیا تھا جب اس وقت کوئی قباحت نہیںتھی تو اب کیا بات ہے۔ متوقع وزیر اعظم عمر ان خان کو سیا ست میں کپتانی کر تے ہو ئے بائیس سال کا عر صہ ہو ا ہے لیکن سیا سی داؤ پیچ پر اس طرح کی کما ن حاصل نہیں ہوپائی جس طر ح ان کو کر کٹ کے کھیل کی کپتانی میں حاصل تھی۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اپنی بعض خواہشات کی ضد میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ سابق آمر پرویز مشر ف نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں بتایا کہ جب ان کی حکومت نے انتخابات کا انعقاد کر ایا تو اس مو قع پر پرویز مشرف نے عمر ان خان کو بلا کر قومی اسمبلی کی دس نشستو ں کی پیشکش کی تھی ، یہا ں یہ واضح رہے کہ یہ پیش کش بھی عمر ان خان کی اس محنت کے صلے میں کی گئی تھی کہ جب انہوں نے پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں ان کے چیف پولنگ ایجنٹ کا کر دار ادا کیا تھا ، بقول پر ویز مشرف عمر ان خان نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکا ر کر دیا اور بتایا کہ وہ بہت بھاری اکثریت سے جیت رہے ہیں ، جس پر پر ویز مشرف نے کہا کہ ان کے پا س جو خفیہ رپورٹیں آئی ہیںا س کے مطا بق پی ٹی آئی تین سیٹیں نکا ل پائے گی ، میری طر ف سے دس کی آفر موجود ہے ، تاہم عمر ان انکا ر کر کے چلے گئے جب انتخابی نتیجہ آیا تو عمر ان خان کو ایک نشست ہی حاصل ہو سکی ۔ سچی بات ہے کہ عمر ان خان نے 2018ء کے انتخابات کے لیے جا ن تو ڑ کوششیں کیں مگر ان کے پلے میں معلق پارلیمنٹ آئی ، اور سابق معمول کے مطا بق عمر ان خان کو بھی اپنی حکومت بنا نے کے لیے روایتی تو ڑ کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ارکان کے خرید کرناپڑ رہی ہے ، یہ خرید ار ی تو ہوتی ہے کہ جب ساتھی بنا نے کی صورت میں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے ، پرویزمشرف کی سابقہ جما عت مسلم لیگ ق کے پرویزالٰہی کے بارے میںکہاجا رہا ہے کہ ان کو عمر ان خان کی حکومت میںوزارت داخلہ کا عہدہ تفویض کیا جائے گا ، تو یہ ساتھ نبھانے کی قیمت نہیں ہے تواورکیا ہے ،اس جو ڑ تو ڑ کی سیا ست پر یا د آرہا ہے کہ جب پرویز مشرف کے دور میں پہلے انتخابات ہوئے توحکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ق کی جا نب سے میر ظفراللہ جمالی ، ایم ایم کی جانب سے مولانا فضل الرّحما ن اور پی پی کی طر ف سے شاہ محمو د قریشی وزیر اعظم کے عہدے کے امید وار تھے۔ انتخاب کا طریقہ کار یہ رکھا کہ اسمبلی ہا ل میں تما م امید وارو ں کے لیے گیٹ مقر ر کر دئیے گئے اور بتایا گیا جب اسپیکر کی جانب سے ووٹنگ کے لیے گھنٹیاں بجائی جا ئیں گی تو ارکا ن اسمبلی کو ان دروازوں سے گزرنا ہو گا جس کو وہ ووٹ دینا چاہیں گے ، مشر ف کی پارٹی کی جانب سے طے تھا کہ ظفر اللہ جمالی کو ووٹ دیا جائے گا چنا نچہ مطلوبہ دروازے سے گزرنے سے پہلے ق لیگ کے ارکا ن پانچ پا نچ کی ٹولیوں میں ایک الگ دروازے کی طرف جا تے اور اس دروازے سے منسلک کمرے میں دو اعلیٰ افسر تشریف فرما تھے ان میںایک پو لیس کے اعلیٰ افسر اسرار احمد تھے اور دوسرے ایک خاص ادارے کے اعلیٰ افسر تھے ان سے ہدایت لے کر پھر ووٹنگ کے لیے چلے جا تے جب آخر ی ٹولی افسرو ں کے پاس گئی تو اس خاص ادارے کے افسر نے ان پانچ میں سے ایک کو ہدایت کی کہ وہ ظفر اللہ جما لی کو ووٹ دے باقی چار کو کہا گیا کہ وہ مخالف کو ووٹ دیں جس پر اسرار احمد نے استفسار کیا کہ یہ آپ نے کیا کیا اس طرح تو جما لی صاحب ایک ووٹ کی اکثریت سے جیت پائیں گے تو افسرخاص نے جو اب دیا کہ جیتنے والے کو یہ یا د رکھنا چاہیے کہ جو کر سی پربٹھانا جانتے ہیں وہ کرسی کھینچ لینا بھی جانتے ہیں اور پھر یہ کرسی تھوڑے عرصے بعد ہی کھینچ بھی لی گئی ۔ حالات جیسے بھی ہو ں عمر ان خان کو آنکھیں کھلی رکھنااور سر ٹھنڈارکھناہوگا۔ اب تک ان کی سیاست میں یہ دیکھاگیا ہے کہ وہ پاؤں بھی گرم رکھتے ہیں اور سر بھی ، مگر وزیر ا عظم اورایک سیاست دان کی ذمہ داریو ں میں بڑا فر ق ہے ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں