Daily Mashriq


مفاد عامہ کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت

مفاد عامہ کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت

سیاسی جماعتوں کے قائدین اور حکمرانوں کا اپنی کارکردگی بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور مخالفین کو پاتال میں گرادینے کا وتیرہ نیا نہیں بلکہ اسے ان کی مجبوری گردانا جانا چاہیئے لیکن بعض اوقات اس قدر مبالغہ سے کام لیا جاتا ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی ۔ اگرچہ ابھی انتخابات کو سو اسال کا عرصہ باقی ہے لیکن میڈیا میں تقابل اور تنقید کا کبھی کبھار ایک ایسا دور چل جاتا ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔ ممکن ہے پانامہ لیکس پر عدالتی فیصلے کے بعد جلد انتخابات کا سیاسی جماعتوں کو کوئی امکان نظر آرہا ہو اس کے علاوہ تو کوئی غیر معمولی صورتحال نظر نہیں آتی۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومتی کار کردگی پر مکمل اطمینان کے اظہار کی تو گنجائش نہیں لیکن پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی اور بعض اقدامات کی بجا طور پر تحسین ہوسکتی ہے ۔ موجودہ صوبائی حکومت کی کچھ شعبوں میں اصلاحات اور بعض اقدامات بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو کم از کم اس حکومت کا دامن اس قدر داغدار نہیںجو اس کی پیشرو حکومت کا تھا ۔ بہر حال وزیر اعلیٰ پرویزخٹک ہی کے نقطہ نظرسے جائزہ لیا جائے تو بقول وزیر اعلیٰ کے کل کے خیبرپختونخوا میں اداروں میں سیاست بازی ہوتی رہی ۔ پولیس، تعلیم، صحت اور محکمہ مال میںبھرتیوں میں سیاسی عنصر نمایاں تھا ۔آج کے خیبرپختونخوا میں اداروں میں سیاست کی بجائے عوامی خدمت کا عنصر متعارف کرایا سکولوں میںدرکار سہولیات پوری کیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسزکی کمی بھی پوری کی گئی کیونکہ عمارتیں ترقی کا معیار نہیں بلکہ خدمات ترقی و خوشحالی کا پیمانہ ہے۔ ہم نے سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کے برابر کھڑا کر دیا ہے ۔آج کا خیبرپختونخوا ایک مکمل تبدیل شدہ صوبہ ہے۔کل کے خیبرپختونخوا میں اداروں میں نالائق لوگ سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوتے تھے ۔آج کے خیبرپختونخوا میں میرٹ پر قابل لوگ بھرتی ہورہے ہیں ۔ کل کے خیبرپختونخوا میں وسائل جیبوں میں جاتے تھے آج کے خیبرپختونخوا میں وسائل عوام پر خرچ ہوتے ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ کے ان دعوئوں کاعوامی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو صوبے میں عوام کو اب کوئی مسئلہ درپیش نہیں رہا ہوگا۔ عوام کے سارے مسائل حل ہوچکے ہوں گے اور وہ موجودہ حکومت سے پوری طرح مطمئن ہوں گے ۔ بہر حال اس کاا ندازہ تو آئندہ کے عام انتخابات میں عوام کے ووٹ کے ذریعے دئیے گئے فیصلے سے ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف پر خیبر پختونخوا کے عوام نے جو امید یں وابستہ کر کے اعتماد کا اظہار کیا تھا ان پر پوری طرح پورا اتر نا تو ممکن ہی نہ تھا بعض شعبوں میں نمایا ں اقدامات کے باوجود اب بھی ایسے شعبے اور ایسے مسائل موجود ہیں جہاں ابتدائی اور بنیادی مسائل و معاملات پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ اگر موجودہ صوبائی حکومت کا اے این پی کی گزشتہ حکومت سے موازنہ کیا جائے تو ہمیں خوشگوار تجربہ ہوگا۔ اگر ہم سندھ ، بلوچستان سے موازنہ کریں تو بھی بہتری ہمارے حصے میں ہی آئے گی لیکن اگر ہم پنجاب سے تقابل کریںتو حقیقت پسندانہ امر یہ ہے کہ پنجاب کی حکومت کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف جس طرح اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کیلئے متحرک ہیں وہ ہمارے صوبے کے حکمرانوں کیلئے نمونہ ہے ۔کسی مثبت چیز کی پیروی کوئی عار کی بات نہیں اور نہ ہی اس سے تقابل اور تمثیل کو منفی انداز میں لیا جانا چاہیئے توقع کی جانی چاہیئے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت آئندہ سوا سال میں کم از کم صوبائی دارالحکومت میں ریپڈ بس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے گی تاکہ لوگوں کو میٹرو بس سروس منصوبے کی مثال نہ دینی پڑے اور عوام کو سفری سہولیات میسر آئیں ۔ صوبائی حکومت کے جتنے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ ان منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ موجودہ دور حکومت میں ان کی تکمیل ہو اور عوام کو ان منصوبوں سے استفادہ کا موقع ملے۔ اس کا عوام کی سوچ پر مثبت اثرات پڑیں گے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ آمدہ دنوں میں صوبے میں ترقی کی رفتار میں اضافہ نظر آئے گا اور اتحادی حکمران سیاسی جماعتوں نے دوران انتخابات عوام سے جو وعدے کئے تھے ان پر پور ا اترنے کی سنجیدہ مساعی نظرآئیں گی ۔ سیاسی جماعتوں نے عوام سے جو وعدے وعید کر کے ووٹ لیے تھے اُن وعدوں کی تکمیل اگر ممکن نہ بھی ہو تو بھی اُ ن وعدوں کے غالب حصے پر عملدر آمد ہونا چاہیئے تاکہ کل کو جب یہ لوگ عوام کی عدالت میں احتساب کیلئے پیش ہوں گے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ تو موجود ہو۔ صوبے میں پسماندگی بیروزگاری اور مہنگائی میں کمی نہ آئی اور عوام کے مسائل حل نہ ہوئے تو عوام کا سامنا کیسے ہوگا۔ اس پر حکمران سیاسی جماعتوں کو اب بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئندہ انتخابات کے تناظر میں اگلے مالی سال کا بجٹ بھی یقینا انتخابی بجٹ ہی بنے گا جس میں عوام کے ان بنیادی مسائل کے حل کیلئے وسائل کی فراہمی اور قلیل المدت منصوبے بنا کر ان کی تکمیل کی ضرورت ہوگی ۔

متعلقہ خبریں