Daily Mashriq


مہنگائی ، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی

مہنگائی ، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی

اشیائے خورد ونوش کی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خود نرخنانہ جاری کرنے اور خصوصی سکواڈ کی تشکیل احسن اقدامات ہیں مگر مہنگائی کے ضمن میں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ تشویشناک اور عوام کیلئے ناقابل برداشت تکلف دہ بنتا جا رہا ہے بلکہ بن چکا ہے ۔ ہمیں حکومتی اقدامات سے اختلاف نہیں البتہ یہ شکایت ضرور ہے کہ انتظامیہ اسی وقت ہی حرکت میں آتی ہے جب مخلوق خدا آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے حالانکہ حکومت کے پاس اس ضمن میں باقاعدہ مشینر ی موجود اور عملہ دستیاب ہے جسے اگر دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے وقتاً فوقتاً بازاروں میں جا کر اشیائے خوراک کے معیار اور مہنگائی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری تسلسل کے ساتھ نبھانے کو یقینی بنایا جائے تو عوام مہنگائی کے مارے چیخ نہیں اٹھیں گے ۔ پاک افغان سرحدکی بندش کے باعث شہر میں سبز یوں فروٹ اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں جوکمی آئی تھی وہ اس بات کا مظہر ہے کہ مارکیٹ میںرسد کے مقابلے میں کھپت زیادہ ہے جس کے باعث تاجروں کو من مانے نرخوں پر اشیاء کی فروخت کا موقع مل تا ہے۔ حکومت اگر مارکیٹ کے اقدامات کے ذریعے طلب اور رسد کا توازن بر ابر کردے اور دکانداروں کومال کے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو تو وہ من مانے ریٹ مقرر کرنے کی بجائے رہ جانے کے خدشے کی بناء اشیاء کی فروخت پر توجہ دیں ۔صوبائی حکومت شہر میں جا بجا اتوار بازار منگل بازار اور جمعہ بازار لگا کر جہاں تاجروں کیلئے کاروبار کے اضافی مواقع پیدا کرسکتی ہے وہاں ان بازاروں میں نرخوں کو کنٹرول کر کے صارفین کو بھی ریلیف دے سکتی ہے ۔ جہاں تک انتظامیہ کی جانب سے از خود ریٹ لسٹ کے اجراء کا سوال ہے ۔ ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا کے مصداق اس پر عملد ر آمد کون کروائے گا ۔ نرخنامے کا اجراء اہم نہیں بلکہ اس پر عملدر آمد اہم مسئلہ ہے۔ نرخنامے کی موجودگی میں تاجر حضرات کھلے عام اس کی خلاف ورزی کررہے ہوتے ہیں۔ انتظامیہ کے پاس کوئی ایسا موثر نظام نہیں اور نہ ہی انتظامیہ کو دلچسپی ہے کہ وہ سرکاری نرخنامے کی پابند ی کروائے۔ اگر انتظامیہ چاہے تو تاجر کبھی بھی شہر کو شہر پرسان نہیں بنا سکتے۔ انتظامیہ جب بھی حرکت میں آتی ہے مہنگائی کا مسئلہ حل تو نہیں ہوتا لیکن عوام کو تھوڑا سا ریلیف مل جاتا ہے۔ انتظامیہ جو نر خنامہ جاری کرے اسے دکانوں پر آویزاں کرنے کے ساتھ ساتھ ہر چھوٹے بڑے بازار میں ایک مخصوص جگہ پر آویزاں کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی شکایت کیلئے صرف ٹیلی فون نمبر ہی نہ دیا جائے بلکہ اس پر کال کرنے اور میسج کرنے پر شکایت کنندہ کی داد رسی اور متعلقہ دکاندارکی سرزنش اور جرمانہ کیا جائے تاکہ انتظامیہ کے اقدامات مئو ثر ثابت ہوں ۔

زرعی اراضی کا تحفظ کرنے کی ضرورت

خیبرپختونخوامیں زرعی زمین ویسے بھی صوبے کے عوام کی ضروریات کیلئے انتہائی ناکافی ہے جس کا تقاضا ہے کہ صوبے میں زرعی اراضی پر کسی طور بھی رہائشی مکانات اور دیگر کاروباری مقاصد کیلئے زرعی اراضی کے استعمال کی باقاعدہ روک تھام کی جائے ۔ اس حوالے سے قوانین موجود ہیں مگر اس پر عملدر آمد کرنے والا کوئی نہیں۔ زرعی اراضی پر جس طرح دھڑا دھڑ تعمیرات ہو رہی ہیں اور باغات اجاڑے جار ہے ہیں اس سے صوبے میں پہلے سے انتہائی ناکافی زرعی اراضی کا رقبہ مزید کم ہو رہا ہے جبکہ اس سے سنگین ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت بجائے اس کے کہ اس اراضی کو سی پیک منصوبوں کیلئے مختص کرتی جو ویران اور بنجر ہو الٹا کسانوں سے سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی لی جارہی ہے اور ان کو بیروزگار کیا جا رہا ہے جس کے خلاف وہ میڈیا میں آکر احتجا ج پر مجبور ہو ئے۔ صنعتی بستیوں کے قیام کیلئے آبادی سے دو ر غیر آباد اراضی حاصل کرکے بخوبی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے اور آبادی سے دو ر صنعتی زونز قائم کر کے آلودگی کے مسئلے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے مگر اس طرف توجہ دینے کی بجائے حکومت کسانوں سے اونے پونے زمین خرید کر ان پر صنعتی زونز کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں اصولی طور پر اس امر پر توجہ کی ضرورت ہے کہ زرعی اراضی کو سوائے زراعت زرعی پیدا وار اور باغات لگانے کے کسی دوسرے مقصد کیلئے قطعاً استعمال نہ ہونے دیا جائے ۔ تمام بلدیاتی اداروں اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی جائے کہ وہ زرعی اراضی پر بننے والے مکانات کے نقشے منظور نہ کریں واپڈا اور ایس این جی پی ایل کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان کو بجلی اور گیس کنکشنز فراہم نہ کریں ۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ کسانوں کو مراعات دے کر زرعی پیداوار میں اضافے کی سعی کرے اور مزید اراضی کو قابل کاشت بنا کر صوبے میں زراعت کو فروغ دیا جائے اور اس امر کی سعی کی جائے کہ صوبہ آبادی کی خوراک کی ضروریات میں خود کفالت حاصل کرے ۔

متعلقہ خبریں