Daily Mashriq


پر وانہ راہداری

پر وانہ راہداری

پاکستان میں انتخابی مہم کی سن گن پڑنا شروع ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں مختلف آوازے لگ رہے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیںکہ یہ سب کچھ انتخابا ت کی آمد سے بہت پہلے نہیں ہو رہاہے شاید ایساہے کیو ں کہ جس سمت ہو ا کا رخ چل نکلا ہے اس میں یہ کہا جاتا ہے تاہم پھر بھی کچھ ٹھہر اؤ نظر آرہا ہے جس کی وجہ پا نا ما کیس کے فیصلے کا انتظار ہے ۔ عمر ان خا ن کی بے چین رو ح بھی فیصلے کے انتظار میں اکتا گئی ہے چنا نچہ انہو ں نے اپنے تازہ بیان میں ارشاد فرما یا ہے کہ بہت دیر ہو گئی ہے عوام میں ما یو سی چھا تی جا رہی ہے جبکہ عوامی حلقو ں کا کہنا ہے کہ عوام قطعی مایو س نہیں ہیں کیو ں کہ وہ جانتے ہیں کہ پانا ما کیس کا فیصلہ نہ تو ان کے بخت جگا سکتا ہے اورنہ ہی ان کے ساون سوکھے پڑ جا ئیں گے۔تاہم باخبر حلقو ں کا کہنا ہے کہ اگر نو از شریف مقد مہ ہا ر جاتے ہیں تب بھی حکومت مسلم لیگ کی ہو گی صرف اتنا ہو گا کہ مسلم لیگ کی قیا دت جا تی عمر ہ میں بیٹھ کر دیسی چکن اور لسی سے لطف اند وز ہو تے ہو ئے وہاں سے حکمرانی کو گرفت میں لیے رکھے گی۔ بہر حال اس وقت سب ہی ایک پیج پر ہیں کہ منتخب حکومت کو اپنی مد ت پوری کر نے دیا جا ئے کیو ں کہ اس سے کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہو تا وہی ہے جو وہ چا ہتے ہیں ۔کیا سول انتظامیہ ایک پو ر بھی ہٹ کر کچھ کر تی تھی جس کا کنایہ راحیل شریف کی طر ف سے ہو تا تھا ۔ اگر یہ ہمت ہوتی تو کبھی بھی پر ویز مشرف کو آئین شکنی کے باوجو د راہد اری نہ ملتی ۔نو از شریف کو اپنے اقتدار سے غرض تھی کسی غدار کو سزا دینے میںدلچسپی نہ تھی اس لیے انہو ں نے مشرف کو راہداری دینے اور اقتدار پرجمے رہنے میں سے اقتدار کا نشہ پو راکر نے کو ترجیح دی ۔ اب عمران خان دور کی کو ڑی لا ئے ہیں کہ عاصم اور ایان کی ضما نتیں، حامد سعید کا ظمی کی رہائی اور شرجیل میمن کی واپسی پا نا ما کیس ڈیل ہے۔ خان صاحب کا کہناہے کہ یہ نو راکشتی ڈبلیو ڈبلیو ای سے بھی زیا دہ کمال کی ہے۔ دونو ں کی منی لا نڈرنگ اور مفا دا ت ایک ہیں ، وہ یہ معاملہ ہر جگہ اٹھائیں گے ۔کوئی مانے یا نہ ما نے خان صاحب معاملہ اٹھانے میں یکتا ہیں انہوںنے سب سے پہلے دھاندلی کی دھوپ چھائوں کھیلی جس میں وہ تنہا نہ تھے بلکہ ان کے پر ویز مشرفی ساتھی مولا نا کینیڈا بھی آشامل ہو ئے تھے کو ن کہتا ہے کہ ایک طویل تر ین دھرنا کا کوئی فائد ہ ہو ا ہی نہیں ۔ بصارت والو ں نے دیکھا ، یہ انگلی کا اعجا ز ہی تو ہے کہ مشر ف میا ں کی سواری تام جھا م پاکستان کی سرحد پارکر گئی ، جس کا اب احساس عمر ان خان کو ہو رہا ہے کہ میلہ تما شا انہو ں نے لگا یالو ٹ کوئی اور گیا اور وہ محض تما شائی ہی بنے رہ گئے ۔چنا نچہ انہوں نے قوم سے تبدیلی کا وعدہ پورا کرنے کا عزم کیا ہے چنانچہ یہ تبدیلی لا رہے ہیں کہ وہ راحیل شریف کی اسلا می اتحاد کی فوج میں تقرر ی کے بارے میں پا رلیمنٹ میں مہم چلائیںگے ، گویا دھر نا پا لیسی میں تبدیلی آئی ہے مگریہ واضح نہیں ہے کہ وہ پار لیمنٹ میں دھر نا دھرنا کر یں گے یا کچھ اورکھیل کھیلیں گے۔ ویسے وہ اپنا اعتراض تو بتائیں کہ راحیل شریفک کی تقرری سے ان کو کیا چڑ ہے ۔ پا کستان میں تو یہ ہو تا رہا کہ ریٹائر فو جی اعلیٰ افسر غیر ممالک میں ملا زمت کر تے رہے ہیں اور اب کر رہے ہیں۔ پا کستان کے سابق آرمی چیف جہا نگیر کر امت نے مشہور زما نہ امر یکی محکمہ دفاع پینٹا گان میں نو کر ی حا صل کی بلکہ یہ صورت حال ہے کہ کئی افسر پا کستان میں رہ کر امریکی ادارو ں کی ملا زمت کر رہے ہیں ، اس میں کو نسی اچنبھے کی بات ہے ۔ جیسا کہ وہ ما ضی قریب میں کہتے رہیں کہ ان کی تقرری سے ایران خفا ہو جا ئے گا اس وقت مسلم ممالک کی اکثریت اس اتحاد میں شامل ہے مگر جو عنا صر اس اتحاد سے خوش نہیںہیں وہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس کو سنی مسلما ن اتحاد قرار دینے پر تلے ہو ئے ہیں۔ دنیا میں سنی مسلما نو ں کی ایک اندازے کے مطابق ستر فی صد سے زیا دہ تعدا د ہے جہا ں تک شیعہ برادری کا تعلق ہے تو تین ایسے ممالک ہیں جن کو شیعہ آبادی کا ملک قر ار دیا جا سکتا ہے ۔ مسلم اتحاد کو سنی اتحاد قرار دینے والے دراصل مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی سعی بد کر رہے ہیں کیو ں کہ اس اتحاد میں آذربائیجا ن بھی شامل ہے جو ایر ان ہی کی طر ح شیعہ اکثریتی ملک ہے ۔ جہا ں تک عمر ا ن خان کی جانب سے معاملہ پا رلیمنٹ میں لے جا نے کا تعلق ہے تو اس کا پس منظر محولہ بالا نہیں ہے بلکہ دھر نا تحریک میں انگلی نہ اٹھنے سے پید ا شدہ ما یو سی ہے ورنہ پوری دنیا نے دیکھا تھا کہ وہ راحیل شریف کی دعوت پر کس سج دھج کے ساتھ گئے تھے ان کے چہر ے پر جو مسکر اہٹ کھلی ہو ئی تھی ویسی ورلڈ کپ کی کامیا بی پر بھی نظر نہیں آئی تھی ۔ خان صاحب کے لیے مشورہ ہے کہ اب میلے ٹھیلے کی سیا ست کا زما نہ نہیں رہا اگر ایسا ہوتا تو افتخار چودھر ی کے لیے کس طر ح عوام امنڈ پڑے تھے مگر جب انہو ں نے سیا ست میں قدم رکھا تو ان کو کوئی رکیب میسر نہ ہو ا جہا ں تک ان کا یہ مو قف ہے کہ زرداری اور نو از شریف میںکوئی فرق نہیںہے دونو ں کے مفاد ات ایک ہیں یہ بات کسی حد تک درست ہے بلکہ یہ کہنا زیا دہ درست ہوگا کہ تینوں کے مفادات ایک ہیں کیو ں کہ تینوں پا کستان کے سرکا ر اعظم بننا چاہتے ہیں تاہم ایک مفاد مسلم لیگ اور پی پی کا مشتر کہ ہے کہ پنجا ب میں پی ٹی آئی کا راستہ روکا جائے۔ چنانچہ زرداری نے پنجاب میں ڈیر ہ اسی لیے جما یا ہے۔ وہ پنجا ب میلہ لوٹنا اس لیے نہیں چاہتے کہ ن لیگ کو شکست دیں بلکہ تیو ر پی ٹی آئی کے لیے بگڑے ہو ئے ہیں۔ جو پنجا ب میں فتح یا ب ہو گا وہی وفاق کا بادشاہ ہو گا۔ نواز شریف کسی حالت میںان سے خائف نہیں ہیںکیو ں کہ13 20ء کے انتخابات نے یہ ثابت کیا تھا کہ پی پی کے پنجا ب کے ووٹ تقسیم ہو ئے تھے جو تحریک کے پلڑے میں گئے تھے اور زرداری انہی ووٹو ںکی واپسی کے متلا شی بن کر لا ہو ر وارد ہوئے ہیں۔ جہا ں تک سند ھ کا تعلق ہے تو وہا ں وہ خائف نہیں کیوں کہ مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کا اتحاد وہا ںاگر کسی کا راستہ روکے گا تو اس سے متاثر پی ٹی آئی ہو گی وہ بھی شہر ی علا قو ں میں ۔

متعلقہ خبریں