عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل

عمران خان اور پی ٹی آئی کا مستقبل

بھارتی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اتر پردیش میں بی جے پی کی شاندار جیت کو مودی سرکار کی بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔اتر پردیش جیسی اہم ریاست میں ملنے والی کامیابی نہ صرف 2019ء میں ہونے والے عام انتخابات میں مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ ہموار کرے گی بلکہ یہ کامیابی مودی کی سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے زوال کا بھی واضح اشارہ ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت کانگریس کے لئے مفید ثابت نہیں ہوسکی اور اگر کانگریس کا زوال اسی طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب بی جے پی بھارت کی واحد قومی جماعت کی دعویدار بن جائے گی۔ اگر جنوبی ایشیاء کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو بی جے پی بہت سے حوالوں سے ایک منفرد سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔یہ ایک ایسی جماعت ہے جو قومی جماعت ہونے کے باوجودتنظیمی لحاظ سے بہت مضبوط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جماعت کودیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس مقامی اشرافیہ کی حمایت حاصل ہونے کی بجائے راشٹریہ سیوک سنگھ(آر ایس ایس) جیسی دائیں بازو کی انتہاپسند جماعتوں کی معاونت اور حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش کے نئے وزیرِ اعلیٰ یوگی ادیتاناتھ سمیت دیگر بہت سے سیاست دان آر ایس ایس جیسی تنظیم میں مختلف عہدوںپر کام کرنے کے بعد ایم ایل اے اور ایم پی بن جاتے ہیں۔اپنے مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی بدولت آر ایس ایس نہ صرف ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے بلکہ قیادت کی تبدیلی جیسے مسائل سے بھی دور رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی جنوبی ایشیاء کی ان چند سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے (اور شاید قومی سطح کی واحد سیاسی جماعت ہے ) جو قیادت کی تبدیلی کا مسئلہ موروثی سیاست کے ذریعے حل نہیں کرتیں۔دوسری جانب کانگریس ایک ایسی جماعت بن کر رہ گئی ہے جو نہ صرف پورے بھارت میں اپنی مقبولیت کھو رہی ہے بلکہ موروثی سیاست کی وجہ سے نااہل قیادت کے بوجھ تلے بھی دبی ہوئی ہے۔اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی تک موروثی سیاست نے کانگریس کے لئے سود مند ضرور ثابت ہوئی تھی لیکن موجودہ قیادت کی نااہلی سے موروثی سیاست کی خامیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ بھارتی سیاست میں قیادت کی تبدیلی پر بحث کرنے کا مقصد پاکستان کی سیاست کے مستقبل پر بات کرنا تھا۔2018ء کے عام انتخابات تقریباً ایک سال دو ر ہیں اوریہ انتخابات ملک میں جمہوری اقدار کے بقاء اور فروغ کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ جمہوریت کی بقاء اور مضبوطی کے لئے کسی بھی جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر 2015ء کے لوکل گورنمنٹ الیکشنز کو پیمانہ بنایا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت بھی پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مستقبل میں قیادت کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے وفاق میں وزیرِ اعظم کی بیٹی اور پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کے بیٹے کو غیر رسمی انداز میں ذمہ داریاں دینی شروع کردی ہیں۔ مستقبل قریب میںان دونوں کی ذمہ داریوں میں نہ صرف خاندانی تنازعات کو حل کرنا شامل ہوگا بلکہ اپنی اپنی قیادت کے لئے خاندان کے بزرگوں کی حمایت بھی حاصل کرنی ہوگی۔ یہاں پر ہم دوبارہ بی جے پی کا حوالہ دیتے ہیں جس نے اپنے مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی بدولت قیادت کے مسئلے پر ہمیشہ کے لئے قابو پا لیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے زوال کی بڑی وجہ قیادت کی نااہلی ہے۔ پاکستان میں پاکستان تحریکِ انصاف قومی سطح کی وہ واحدسیاسی جماعت ہے جو موجودہ قیادت کے بعد زوال کے خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات تک عمران خان 65 سال کے ہوجائیں گے اور بہت جلد پی ٹی آئی کو بھی مستقبل کی قیادت کے لئے غور شروع کرنا پڑے گا۔ اس وقت بھی عمران خان کی زیرِ قیادت پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ایک مستقل جنگ جاری ہے اور مختلف ادوار میں پی ٹی آئی کا حصہ بننے والے سیاست دان پی ٹی آئی کی سیاست اور پارٹی میں اختیارات کے حوالے سے ایک دوسرے سے متفق نظر نہیں آتے۔پی ٹی آئی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ماڈل پر رکھی گئی تھی تاکہ مڈلیول سیاسی قیادت تیار کی جاسکے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیاء کی اکثر سیاسی جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی بھی 'الیکٹ ایبل' اور 'مقبول قیادت' جیسی اصطلاحات میں الجھ کر رہ گئی ہے۔دوسری جانب اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) موجود قیادت کے بعد مستقبل کی قیادت کی نااہلی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے تو پاکستان تحریکِ انصاف کے لئے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع ہوگا لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو 2018ء سے 2023ء کے درمیان بھی پی ٹی آئی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی نظر آئے گی اور اس وقت تک پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کی عمر 70 سال ہوجائے گی ۔ چاہے کوئی سیاست دان کتنا بڑا سپورٹس مین کیوں نہ رہ چکا ہے اس کے لئے 70 سال کی عمر میں قومی سطح کی سیاسی جماعت سنبھالنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔اسی لئے نہ صرف اپنی بقاء بلکہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے لئے پی ٹی آئی کو ابھی سے قیادت کے مسئلے کے حل کے لئے سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ