Daily Mashriq


ڈیورنڈ لائن سے مسئلہ کشمیر تک

ڈیورنڈ لائن سے مسئلہ کشمیر تک

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اکثربات چیت ہوتی رہتی ہے ۔ آج کل کی بحث کامرکز اکثر ہی یہ ہوا کرتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے اور اس تنہائی کی اصل وجہ پاکستان کی ترجیحات ہیں ۔ وہ دہشت گردی کی جنگ جس کا بے شمار اثر خود پاکستان پر بھی دکھائی دیتا ہے ، اس میں پاکستان کی غلطیاں زیادہ اور بین الاقوامی مداخلت قدرے کم ہے ۔ پاکستان ایک ننھا ملک ہے جو ایک وسیع ترکھیل میں ایک ننھے مہرے کی طرح بار بار استعمال ہوتا رہتا ہے ، اس لیے پاکستان کے نقصانات کا اندازہ کرنا ہی بعض اوقات بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ پاکستان کا مقابلہ ان ملکوں سے ہے جن کے معاملات کا فیصلہ پاکستان کی پیدائش سے بہت پہلے ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ پاکستان کو بنے ابھی سات دہائیاں ہوئی ہیں ۔ تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں کئی بار اپنے کم عمر ہونے کا احساس بڑھ جانے کے ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم جن باتوں اور معاملات کے فیصلے چند لمحوں میں چٹکی بجاتے ہی کر لینا چاہتے ہیں وہ وقت کی دھا ر پر تراشے جانے والے فیصلے ہیں ۔ انہیں برسوں کی ریاضت سے حل کیا جاتا ہے ۔ ہم سے پہلے بھی قومیں انہیں اتنے ہی عرصے میں حل کرتی رہی ہیں اور ہمارے لیے بھی ترازوکے باٹ بدلنے والے نہیں ۔ وہ بین الاقوامی دبائو ہمیں اپنے اکثر معاملا ت کے حل میں پریشان کرتا رہتا ہے ، وہ اس دنیا میں ہرایک چھوٹے بڑے ملک کو برداشت کرنا پڑا ہے ۔ اسی دبائو نے ان معاملات کو ،ان ملکوں کو وہ شکل دی ہے جو ہمیں آج دکھائی دیتی ہے ۔ یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ کئی بار یہ دبائو ملکوں کو فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ یہ ہمیشہ ہی منفی رجحانات کو ظاہر نہیں کرتا ، کئی بار ابتدائی طور پر منفی دکھائی دینے والا دبائو ، مثبت اثرات پر بھی منتج ہو ا کرتا ہے ۔ 

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک عجب سی کیفیت ہے ، یہ ہمیشہ سے ہے اورشاید مزید ایک لمبے عرصے تک قائم رہے گی کیونکہ کئی بار تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ اس خطے کا مزاج ہے ۔ یہاں ہمسائے ایک دوسرے سے بہتر تعلقات استوارکرنے کے بجائے ایک دوسرے سے خوفزدہ ہی رہتے ہیں ۔ اس کی وجہ صدیوں سے ایک ہی رویے کا تسلسل بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ علاقہ بین الاقوامی طاقتوں کے لیے اہم رہا ہے ۔ روس ، وسط ایشیائی طاقتیں سکندر اعظم ، چین ، منگول ، ہن قبائل کس کس نے اس علاقے پر حملہ نہیں کیا اور یہاںاپنی سلطنت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس لوٹ مار اور فتوحات کی خواہش کا خو ف شاید اس خطے کے لوگوں کی نفسیات میں سرایت کر چکا ہے ، اسی لیے اب یہ ذرا سی آہٹ پر بھی چونک جاتے ہیں ۔ بات صرف تاریخ کی ہی کہاں ہے ، روس افغانستان اور پاکستان کی حد تک تو حالیہ ماضی میں فتوحات کی کوششیں کر چکا ہے اور اب ہم امریکہ کی اس خواہش کا مسلسل شکار ہیں ۔ اس علاقے میں ، خصوصاً افغانستان میں امن قائم کرنے کا بہانہ تو بہت اچھا ہے لیکن ان مقاصد کی اصلیت سے ہم بخوبی واقف ہیں ۔ امریکہ کے مقاصد قطعی وہ نہیں جس کا مسلسل اظہار کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کو اس ساری صورتحال کے تناظر میں یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ اس پر جن باتوں کے حل کا دبائو ڈالا جا تا ہے وہ ساری ہی باتیں اپنے وقت سے خود بخود طے ہو جائینگی ۔

اس بات پر چونکہ مسلسل دبائو ڈالا جارہا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسائے ملکوں کے ساتھ معاملات طے نہیں کرپاتا اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں اپنے داخلی اور خارجی معاملات کو سمجھ لینے اور ان کا بھر پور تجزیہ کرلینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے ایک جانب افغانستان ہے ، ڈیورنڈ لائن اور اس کی زندگی کے حوالے سے مسلسل بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے اور دوسری جانب بھارت ہے جو کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو مسلسل داغدار کرنے کی کوشش کرتارہتا ہے ۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دونوں ممالک ہی شروع دن سے ہمارے دوست نہیں بلکہ مسلسل پاکستان کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔ ان کی جنگ محض مادی اور ظاہری سطح کی نہیں ۔ یہ پاکستان کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ میں بھی مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں ۔ حال ہی میں چونکہ حامد کرزئی بھی ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں اور ہمارے میڈیا میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوتی ، حالانکہ یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے ، میں یہ ضروری سمجھتی ہوں کہ ہم اس معاملے کو اس کی تاریخی صحت کے اعتبار سے سمجھ لیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو سکے کہ دراصل ہر وہ بات جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ، خصوصاًپاک افغان تعلقات کے حوالے سے کی جارہی ہے ، اس کا اصل منبع کہا ں ہے ۔ یہ سمجھ لینا بھی بہت ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان خواہ وہ ایک دوسرے سے جتنے بھی بیزار دکھائی دیں ، اپنی جغرافیائی کیفیت کے ہاتھوں بہت سے حوالوں سے مجبور ہیں ۔افغانستان نے پاکستان کے قیام کے پہلے دن سے پاکستان کو قبول نہیں کیا ۔ آج بھی وہ اسی انکار کی کیفیت کا شکار ہے ۔ ہم بحیثیت ملک اور قوم افغانستان کو بہت سے حوالوں سے اپنی ذمہ داری سمجھتے رہے ہیں جو شاید ایک لحاظ سے غلط بھی ہے ۔ اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہمارا مقابلہ ہمسایوں کی صورت میں خاصے عمر رسیدہ ہمسایوں سے ہے ۔ بھارت کی تاریخ سے ہم واقف ہیں اور افغانستان کی تاریخ کو سمجھ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ افغانستان کے قیام کی تاریخ 1747ہے۔ یہ الگ بات ہے 1700کی ابتدائی دہائیوں میں افغانستان کسی نقشے پر موجود نہیں تھا ۔ اس حوالے سے کچھ باتیں میں آپ سے اپنے اگلے کالم میں کرونگی ۔

متعلقہ خبریں