کیمسٹوں کا معاشی استحصال

کیمسٹوں کا معاشی استحصال

ہمارے صوبے میں تو فارمسٹ کی تعداد پہلے ہی آٹے میں نمک کے برابر ہے اب سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ اُن کو میڈیکل سٹوروں پر کیسے پورا کیا جائے گا فارمسٹ پورے صوبے میں پانچ ہزار کے لگ بھگ ہیں اور کیمسٹ میڈیکل سٹور اور فارمیسی وغیرہ صوبے میں رجسٹرڈ 30 ہزار کے لگ بھگ ہیں ۔ دوسرا فارماسٹ اس وقت تمام ڈی فام ہیں یعنی ان کو ڈاکٹر آف میڈیسن کہا جاتا ہے یہ لوگ فیکٹریوں میں فارمولے بناتے ہیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں ڈاکٹر کی طرح گریٹ 17 میں بھرتی ہوتے ہیں ۔ ڈرگ انسپکٹر یہ لوگ ہوتے ہیں ۔ D.R.A وفاقی حکومت میں بھی یہی لوگ ہوتے ہیں۔ N.G.Oمیں بھی ہوتے ہیں ۔ ہمارا حکومت کو ہسپتالوں میں جتنی بھی آسامیاں خالی ہیں اُن پر لگایا جائے جبکہ ان کو معمولی د کانوں میں سیلز مین بنا رہے ہیں ۔ 

یہ فارماسٹوں کے ساتھ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دھوکہ کیا جا رہا ہے کیمسٹ فارمیسی کونسل اور فارمیسی ایکٹ پر پورا اترتے ہیںاور انہوں نے فارمیسی ایکٹ سیکشن 29 اور30 کے تحت امتحان دیا ہے ۔ اس کے بعد یہ Accept ہوئے ہیں اس کے بعداورینٹیشن کورس ہوئے جس میں 10 دن فارمسٹو ں نے کلاسیں لیں پھر سرٹیفیکیٹ دیئے گئے ۔ اس کے بعدپورے صوبے میں امتحانات ہوئے ۔ ایک ہزار داخلہ فیس تھی۔ 3 ہزار روپے ایک امیدوار نے فارمیسی کونسل کو دیئے جس سے کروڑوں روپے فارمیسی کونسل کے اکائونٹ میں آئے ۔ فارمیسی کونسل کے امتحان کے لئے وہ لوگ اہل تھے جنہوں نے میٹرک پاس کیا تھا اور تین سال پروپرائٹزر کیمسٹ رہا ہو یا ڈسپنسرزکا ڈپلومہ ہو وہ لوگ اس لئے اہل تھے ۔ یہ امتحان خالصتاً کیمسٹ کے لائسنس کیلئے لیا گیا تھا مقصد یہ تھا کہ اس کاروبارکو چلانے والے میڈیسن کے کاروبار کو جانتے ہوں ۔ اس میں زیادہ تر
میٹرک کے علاوہ گریجویٹ - FSC ایل ایل سرکاری اداروں میں ڈپٹی سیکرٹری سپرنٹنڈنٹ اور اس کے علاوہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں نے امتحان دیا تاکہ وہ لوگ جب ضرورت پڑے وہ میڈیسن کا کاروبار کرسکیں۔ یہ امتحان صرف اور صر ف ڈرگ لائسنس کے لئے لیا گیا تھا س کے بعد سرٹیفیکیٹ کیٹگری سی کا آیا یعنی رزلٹ آیا اور لوگوں نے سرٹیفیکیٹ کیلئے 3 ہزار روپے جمع کروائے جس سے فارمیسی کونسل کو کروڑوں روپے آمدن ہوئی۔اس وقت فارمیسی کونسل ایک منافع بخش ادارہ ہے اور کیٹگری B اور کیٹگری A کی تجدید کی مد میں ہزاروں روپے ماہوار آمدن ہور ہی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جو فارمسٹوں کے بڑے بن رہے ہیںانہوں نے ہی فارمسٹوں کا حشر کیا اور جو فارمسٹ فارمیسی کونسل کے چکر لگاتے ہیں اسی وجہ سے مشکل میں ہیں۔ یہ لوگ کروڑوں روپے لے کر کیٹگری سی اور کیٹگری B کو کیسے غیر فعال کرسکتے ہیں۔ایک آدمی نے چار چار عہدے سنبھال رکھے ہیں یہ عہدے کیوں نہیں چھوڑتے کہ اور فارماسٹ ایڈجسٹ ہوں یہ فارمسٹوں کا حق مار رہے ہیں۔
ان کے متعلق محکمہ صحت کے کرتا دھرتا ئوںکا کیا خیال ہے جن لوگوں نے یہ امتحان لیا اور ہزاروں کی تعداد میں امیدوار وں کوبھرتی کیا اور اس میں انسپکٹر کا رول بھی ادا کیا اور امتحانات کے ہالوں کے بڑے اور انچارج بنے رہیں اور آج یہ ختم کرنے کی نوید دے رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ کیٹگری سی اور کیٹگری بی میں شامل ہیں اور ان کی دکانیں میڈیکل سٹور فارمیسی شاپس قانون کے مطابق ہیں اور ان میں کوالیفائیڈ لوگ کام کرتے ہیں اور فارمیسی میں فارمسٹ ہی کام کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو حکومت کو ہر قسم کا ٹیکس دیتے ہیں لیکن چندلوگ اِس کے خلاف ہیں اور ہزاروں کیمسٹوں سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنا چاہتے ہیں اور لاکھوں خاندانوں کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں اور جہاں اس حکومت نے کیٹگری سی کا اجراء کرکے کیمسٹوں اور ان سے منسلک لوگوں کے دل جیت لئے چند حضرات غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ سب حکومت کروارہی ہے جو درست نہیں ۔ جب مشرف حکومت نے جی ایس ٹی ڈائریکٹ عوام پر لگایاجوعوام نے دینا تھا تو یہ کیمسٹ ہی تھے جو اس کے خلاف پورے پاکستان میں نکلے جلسے اور جلسوس کیے اور ہڑتالوں کے ذریعے مشرف حکومت کو جی ایس ٹی واپس لینے پر مجبور کیالیکن اس وقت تو کیمسٹوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے او ر حکومت اور عوام خاموش ہے ۔ ہیلتھ سیکرٹری ہیلتھ منسٹر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے سوال ہے کہ ان لوگوں کا معاشی قتل کرکے ان کے بچوں کو زندہ درگور کرکے آپ آرام کی نیند سوئیں گے ؟۔روزانہ ہزاروں ایم بی بی ایس ڈاکٹر پاس ہوتے ہیں وہ اگر بے روزگار ہوں تو کیا فارمسٹوں کو عہدوں سے ہٹاکر ڈاکٹرز کو لگادیا جائے گا ؟۔

متعلقہ خبریں