Daily Mashriq


ماسکو کانفرنس کے خطے کے امن پر اثرات

ماسکو کانفرنس کے خطے کے امن پر اثرات

  1. چار عشروں سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی نے پورے خطے کے امن کو غارت کرکے رکھ دیا ہے، بالخصوص وہ پڑوسی ممالک جن کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ ان ممالک میں سرِفہرست پاکستان ' ایران اور چین ہیں۔ سب پڑوسیوں کو تشویش ہے کہ کسی نہ کسی طرح افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکے اور اس مقصد کے لیے مشاورتی عمل میں کوئی برائی نہیں، دیر پاامن کے لیے خطے کے تمام ممالک کو مل کر بیٹھنا چاہئے۔ افغانستان کی خانہ جنگی کے نقصانات نے پڑوسی ممالک کے حالات کو کس قدر خراب کیا ہے اگر پاکستان کے حالات کا ہی جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ افغانستان کی جنگ میں شمولیت اور امریکہ کے اتحادی بننے سے قبل پاکستان ایک پرامن ملک تھا' پاکستان کی اس وقت کی قیادت یعنی پرویز مشرف جب امریکہ کی جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کر رہا تھا تو اس وقت کچھ خیرخواہوں اور دوراندیش لوگوں نے کہا تھا کہ آج تم جس جنگ میں شامل ہو رہے ہو ایک دن یہ جنگ تمہارے گھر کو بھی جلا دے گی۔ مگر پرویز مشرف نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ جنگ میں شامل ہونے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ اگر اس وقت یعنی 2001ئسے پہلے کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی قبائل اس وقت بھی تھے ' اس وقت تک یہ قبائل ملک کی سرحدوں کے بغیر تنخواہ کے محافظ سمجھے جاتے تھے ' آج وہی قبائل ملک دشمن کیسے ہو گئے؟ کہتے ہیں لیڈر دیوار کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس وقت کے لیڈر پرویز مشرف نے صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کیا' جس کا نقصان آج ہم اُٹھا رہے ہیں۔اس جنگ میں اب تک ہم ہزاروں لوگوں کو قربان کر چکے ہیں ،مالی نقصان اربوں ڈالر سے متجاوز ہے اورنجانے یہ نقصان ہماری نسلیں کب تک اٹھاتی رہیں گی۔ سو اس تناظر میں ضروری ہے کہ خطے کے امن کے لیے پڑوسی ممالک مل بیٹھیں اور افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا دیرپا حل نکالیں۔ امریکہ جو افغانستان میں جاری خونریزی کا ذمہ دار بھی ہے' اس کی طرف سے ماسکو کانفرنس میں شرکت کا اعلان نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ امریکہ اور روس کے تعلقات اپنی جگہ لیکن افغانستان کا مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اجتماعی ہے۔ عالمی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کے باعث گزشتہ چالیس سال سے جنگ اور خونریزی کا سامنا کرنے والے اس ملک میں امن وامان کا قیام پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اس بارے ماسکو میں ہونے والی کانفرنس میں پاکستان' چین ' افغانستان' ایران' بھارت اور کئی وسطی ایشیائی ممالک کو مدعو کیا گیا ہے لیکن امریکہ جو افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا علمبردار رہا ہے ، اسے ایسے فورم کی لازماً حوصلہ افزائی کرنی اوراس کا سرگرم شریک بننا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کاوشیں کی جائیں تاکہ داعش جیسے شدت پسند گروپ علاقے میں سر نہ اُٹھا سکیں۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کی ترجیحات میں سرفہرست چلا آ رہا ہے اور افغانستان میں بدامنی کا سب سے زیادہ اثر بھی پاکستان پر پڑا ہے۔ اس سے ایک طرف طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تودوسری طرف انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے کو کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ افغانستان میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ پاکستان کی ترجیح اول ہے۔ اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان اقدامات کررہا ہے لیکن خطے کے دیگر لوگ شاید اس قدر کوشش نہیںکر رہے جس قدر انہیں کوشش کرنی چاہیے۔ 

    واضح رہے کہ اگر خطے کے دیگر پڑوسی ممالک نے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو دھیرے دھیرے یہ خانہ جنگی خطے کے دیگر ممالک کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے خطے کے ممالک مل بیٹھیں اور سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کا دیر پا حل تلاش کریں۔ آج امریکہ ماسکو کانفرنس میں عدم شرکت کا اعلان کرکے جس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے اس سے یہ واضح پیغام مل رہا ہے کہ کچھ قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ افغانستان میں امن وامان کا مسئلہ عملی شکل اختیار کرے ، اس سے قبل جب بھی افغانستان میں امن وامان کے قیام کی بات ہوئی کچھ نادیدہ قوتوں نے اسے سبوتاثر کرنے کی بھر پورکوشش کی، پرامن کوششیں قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوں' مری میں مذاکرات کی بات ہو یا کوئی دوسری صورت یہ نادیدہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ اس سلسلے میں کوئی بات کی جائے،امریکہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی ابہام کا شکار ہے ،سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے 2014ء کو افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا سال قرار دیا تھا لیکن پھر اپنے وسیع تر مفاد کے تحت اس قیام میں توسیع کی گئی۔ سو اس تناظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ حالات میں ماسکو کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کانفرنس سے صرف افغانستان ہی نہیں پورے خطے کا امن جڑا ہوا ہے۔خطے کے دیگر ممالک کو امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی اعتبار سے سوچ کر اقدام کرنے کی ضرورت پر زور دینا چاہئے،موجودہ دگر گوںصورت حال کے باوجوداگر خطے کے دیگر ممالک نے اپنے تئیں کوشش نہ کی تو یہ آگ پھیلتی جائے گی اور پورے خطے کا امن غارت ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں