مشرقیات

مشرقیات

علامہ ابن قیم '' مدارج السالکین '' میں بیان کرتے ہیں کہ جب حالات بدل گئے اور عداوت کی آگ بھڑ ک اٹھی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے قتل کاپختہ ارادہ کر لیا گیا اور انہیں دیار مصر طلب کیا گیا تو آپ کے اصحاب آپ کو الوداع کہنے جمع ہوئے ۔ ان سب نے کہا ، ہمیں ڈھیروں خطوط آئے ہیں کہ وہ لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ شیخ الاسلام نے فرمایا ، خدا کی قسم ! وہ لوگ کبھی مجھ تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ لوگوں نے کہا ، تو کیا آپ قید میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ آپ نے فرمایا ہاں اور قید لمبی ہوگی ، پھر میں باہر جائوں گا اور کھلے عام سنت کے بارے میں بات کروں گا ۔
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ الاسلام کو خود یہ فرماتے سنا کہ آپ کا دشمن جا شنکیر والی بنا اور لوگوں نے آپ کو اس کی خبر دی اور کہا ، اب وہ آپ سے اپنی مراد پوری کرے گا ، تو آپ نے ایک طویل سجدہ شکر ادا کیا ۔ جب آپ سے اس سجدہ کاسبب پوچھا گیا تو فرمایا ، یہ اس کی ذلت کی ابتدا ہے اور ابھی سے اس کی عزت کا جدا ہونا ہے ،اور اس کی امارت کے زوال کا قریب ہونا ہے ۔ پوچھا گیا کہ یہ کب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ، ابھی لشکر کے گھوڑوں کو گھاس کھلانے کے لیے باندھا نہ جائے گا کہ اس کے ملک پر غلبہ ہو جائے گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ شیخ الاسلام نے بتلا یا تھا ۔
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ میں نے خود شیخ کو یہ فرماتے سنا کہ ایک دفعہ میرے پاس میرے چند اصحاب اور دیگر احباب آئے ، میں نے ان کے چہروں اور آنکھوں میں چند باتیں دیکھیں ،جو میں نے انہیں ذکر نہ کیں ۔ میں نے یا کسی نے حضرت شیخ سے عرض کیا ، اگر آپ ان کو بتلا دیتے ؟ تو آپ نے فرمایا ،کا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں بھی بادشا ہوں کے نجومیوں کی طرح ایک نجومی (اور قیافہ شناس) بن جائو ں ۔
میں نے ایک مرتبہ شیخ کی خدمت میں عرض کیا ، اگر آپ ہمیں بھی اعمال پر لائیں (جوآپ کرتے ہیں ) تو یہ ہماری اصلاح اور استقامت کا زیادہ قوی سبب بنتا ۔ آپ نے فرمایا ، تم میرے ساتھ ایک جمعہ یا ایک ماہ تک صبر نہ کر سکو گے ۔ آپ نے متعدد مرتبہ مجھے جی کے وہ خیانات بتلائے ، جن کا میں ارادہ کر چکا تھا اور میرے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھے اور نہ ہی میںنے کسی کو زبان سے بتلائے تھے ۔ آپ نے مجھے یہ زمانہ مستقبل کے بڑے بڑے حواد ث کے بارے میں بتلا یا ، مگر اس کا وقت متعین نہ کیا ۔ بعض حوادث وواقعات تو میری آنکھوں نے دیکھ لیے اور بعض دوسروں کا انتظار کر رہاہوں ۔ اور آپ کے کبار اصحاب نے آپ کے جواحوال مشاہدہ کیے ، وہ میرے مشاہدات سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ ایک دفعہ شیخ نے فجر کی نماز ادا کی ، پھر تقریبا ً نصف النہار تک بیٹھ کر ذکر الہٰی کرتے رہے ، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ، یہ مرا ناشتہ ہے اور اگر میں یہ ناشتہ نہ کروں تو میری قوت جاتی رہتی ہے ۔

اداریہ