Daily Mashriq


مذہبی سیاحت حقیقت یا افسانہ؟

مذہبی سیاحت حقیقت یا افسانہ؟

پاکستان کے محکمۂ داخلہ نے غیرملکی سیاحوں پر این او سی کی پابندی ختم کر دی ہے۔ محکمۂ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سیاح پورے ملک میں آزادانہ نقل وحرکت کر سکیں گے سوائے ایسے علاقوں کے جہاں ممنوعہ علاقے کا بورڈ آویزاں ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق غیرملکی سیاح آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا دورہ بھی کر سکیں گے مگر ان پر لائن آف کنٹرول سے پانچ میل جبکہ سیاچن میں دس میل دور رہنے کی پابندی ہوگی۔ اسی طرح سیاح پاک چین اور پاک افغان بارڈر سے دس میل دور رہنے کے پابند ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ خبریں بھی پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں سامنے آئی تھیں کہ حکومت پاکستان کرتارپور راہداری طرز پر ہی کشمیری پنڈتوں کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل کی خاطر انہیں آزادکشمیر وادی نیلم میں ان کے متبرک ترین مقام شاردہ تک راہداری فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ خود وزیرخارجہ شاہ محمو د قریشی نے تسلیم کیا ہے کہ کرتاپور راہداری کے بعد شاردہ راہداری بھی کھل سکتی ہے مگر اس کیلئے پہلے بھارت کو کنٹرول لائن پر امن قائم کرنا ہوگا۔ وادی کشمیر کے ہندو خود کو سب سے برتر برہمن نسل ہندو سمجھنے کیساتھ ساتھ ثقافت، تہذیب اور زبان کے لحاظ سے باقی ہندومت سے منفرد بھی سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہی اصل کشمیری النسل باشندے ہیں باقی لوگ مختلف اوقات میں یہاں آکر آباد ہوتے رہے۔ ہندوستان کا مشہور زمانہ نہرو خاندان اور علامہ اقبال کا خاندان کشمیری پنڈتوں کی ہی نسل سے ہے۔ شاردہ کشمیری پنڈتوں کیلئے خطے میں تین متبرک ترین مقامات میں شامل ہے۔ انہی میں ایک امرناتھ غار بھی ہے جہاں ہر سال بھارت کے طول وعرض اور دیگر ممالک سے ہندو لاکھوں کی تعداد میں پہنچ کر مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ کشمیر ی پنڈت امرناتھ کی طرح شاردہ کو ایک ہندو دیوی سے منسوب کرکے اسے اپنے مذہب کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان ملکی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے ''مذہبی سیاحت'' کا ذکر کرتے چلے آرہے ہیں۔ کرتارپور راہداری کھولنے میں بھارت سے زیادہ پاکستان کی خواہش کا دخل ہے۔ اس سے پاکستان نے بھارت کی سکھ اقلیت کی طرف ایک شاخِ زیتون اُچھال دی ہے۔ سکھ یوں بھی بھارت کے بدلتے ہوئے مزاج اور شناخت میں زیادہ خوش نہیں۔ سکھوں کے گوردواروں کی اطمینان بخش دیکھ بھال نے سکھوں کو پاکستان کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب کرتاپور راہداری کھولنے والا پاکستان سکھوں کا ہیرو ہے اور جو اس راہداری کو بند کرنے کی کوشش کریگا وہ ان کا ولن ہوگا خواہ وہ بھارت ہی کیوں نہ ہو؟۔ کچھ یہی معاملہ کشمیری پنڈتوں کا بھی ہے۔ وہ ماضی کی تلخ یادوں کا حصہ تو نہیں رہے کیونکہ یہ مجموعی طور پر امن پسند اور اپنے کلچر، زبان اور ثقافت کی برتری اور پھیلاؤ میں گم طبقہ رہا ہے مگر اسی کی دہائی کے بعد پیدا ہونیوالے حالات اور وادی کشمیر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث ان کی اکثریت بی جے پی جیسی سخت گیر ہندو جماعتوں کے قریب چلی گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو ان دنوں ہندؤں کی گائے پرستی اور انسان دشمنی اور پاکستان کیخلاف مودی کی مہم کے بڑے ناقدین میں شمار ہورہے ہیں، اسی پنڈت کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح شاردہ راہداری کی بحالی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کشمیر پنڈت کمیونٹی کیلئے کرتاپور راہداری کی طرح اور اتنی ہی اہمیت کی حامل شاخ زیتون ثابت ہو سکتی ہے۔ صرف یہی نہیں دنیا بھر میں صوفی ازم سے دلچسپی رکھنے والے مسلمانوں کیلئے بھی یہاں لاہور سے پاک پتن اور ملتان تک بذرگان دین کی خانقاہیں اور مزارات بھی روحانی تسکین کا باعث ہیں۔ بھارت میں جو حیثیت اجمیر شریف کی ہے وہی حیثیت پاکستان میں مزار حضرت علی ہجویری کو بھی حاصل ہے۔ ضرورت فقط منصوبہ بندی اور مناسب مارکیٹنگ کی ہے، سہولیات کی فراہمی کی ہے، سب سے بڑی بات خوداعتمادی کی ہے۔ خوداعتمادی کی کمی تھی کہ ہم نے مدتوں تک پلوں پر ''پُل کی تصویر لینا منع ہے'' کے بورڈ سجائے اور سینے سے لگائے رکھے۔ غیرملکی سیاحوں کی آمد سے اپنے کلچر کے خراب ہونے اور اخلاقیات پر بُرا اثر پڑنے کے خوف کو بھی ہم نے مدتوںحرزجاں بنائے رکھا۔ اس کا حل سیاحوں پر پابندی نہیں بلکہ انہیں کچھ حدود قیود میں رکھنے میں ہی مضمر تھا۔ ہم آئین نو سے ڈرتے اور طرزِ کہن پر اُڑے رہے اور زمانہ بہت آگے نکل گیا۔ گزشتہ کچھ دہائیوں سے پیدا ہونے والے سیکورٹی حالات کے بعد ہماری خوداعتمادی مزید کم ہوگئی اور خوف کچھ اور بڑھ کر رہ گیا، یہ فطری بھی تھا۔ اب سیکورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آگئی ہے، ریاست نے نادرا اور ویز ے پاسپورٹ کے معاملات پر دوبارہ گرفت قائم کر لی ہے تو اس طرح کے انقلابی فیصلے ہونے لگے ہیں۔ ان فیصلوں پر عمل درآمد سے بلاشبہ پاکستانی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اسلئے حکومت کو ان فیصلوں پر سختی سے کاربند رہنا چاہئے۔ زمانہ بدل رہا ہے، ہمارا گرد وپیش انقلابات سے آشنا ہو رہا ہے۔ ہم خوف، احساس کمتری اور خدشات کو جھٹک کر زمانے کے قدم سے قدم ملا کر نہ چلے تو یا تو اشہبِ زمانہ کے سموں تلے آکر کچلے جائیں گے یا اس کے سموں سے اُٹھنے والی گرد کو حیرت اور حسرت کیساتھ دیکھنے کیلئے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ شاعر نے اسی جانب کیا خوب اشارہ کیا ہے کہ

تم چلو اس کے ساتھ یا نہ چلو

پاؤں رکتے نہیں زمانے کے

متعلقہ خبریں