Daily Mashriq

دہشت گردوں کے سہولت کار آج پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں، بلاول بھٹو

دہشت گردوں کے سہولت کار آج پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنی کابینہ میں ایک ایسے وزیر کا اضافہ کر لیا ہے جس کا نام بینظیر بھٹو قتل کیس میں بھی آتا ہے جس سے پیغام جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار آج پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے پر کاربند ہیں اور 4 اپریل کو ہم بھٹو سے اپنی محبت کا مظاہرہ کریں گے اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔

ٹرین مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سفر کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا، کراچی سے لاڑکانہ تک ٹرین مارچ نہیں صرف ٹرین کا سفر کیا اور گڑھی خدا بخش میں 4 اپریل کو شہید بھٹو کی برسی کے لیے آنا تھا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘بینظیر بھٹو کو شہید کرنے میں دہشت گردوں کا ہاتھ تھا، نہ صرف دہشت گردوں کا ہاتھ تھا بلکہ ریاست اور دہشت گردوں کا جو تعلق تھا وہ سامنے بھی آیا ہے، میں نہ صرف ذاتی طور پر بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے سمجھتا ہوں کہ دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کچھ کرنا پڑے گا، کوئی ملک یہ برداشت نہیں کرے گا اس طرح کے گروپ ان کے ملک اور دوسرے ملک میں نفرت پھیلائیں اور یہ پاکستان کا ریاستی موقف ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نیشنل ایکشن پلان (نیپ) اور مختلف مواقع پر ہم نے واضح کیا ہے کہ یہاں کوئی اچھے اور برے طالبان نہیں ہیں اور سب کے لیے ہماری پالیسی ایک ہے’۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں ایک ایسے ہی وزیر کا اضافہ کیا ہے جن کا نہ صرف بینظیر بھٹو قتل کیس سے تعلق ہے بلکہ صحافی ڈینئیل پرل کے قتل اور دیگر معاملات میں بھی کردار رہا ہے۔

وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے نیک خواہشات کے ساتھ اظہار کیا تھا کہ ان وزرا کا تعلق ہے جن کو ہٹانے کے بجائے اگر آپ ایک اور وزیر کو لے کر آرہے ہیں تو لے آئیں، یہ آپ کا حق ہے لیکن آپ کیا پیغام دے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے سہولت کار آج پاکستان کے وفاقی وزیر ہیں’۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ‘جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو خان صاحب بلکل سنجیدہ نہیں ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ہو بلکہ مقابلہ کرنے کے لیے وہ صرف اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں پڑھ رہا تھا کہ نیب میں ایک حاضر وفاقی وزیر اور اس کے بھائی جو پنجاب میں صوبائی وزیر ہیں جن کے خلاف بہت سے ثبوت ہیں لیکن ان کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے’۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘خان صاحب کو اپنی سیاست چمکانی ہے، ان کی سیاست نیب سے شروع ہوتی ہے اور نیب پر ختم ہوتی ہے، جیسے پر سلیکٹڈ حکومت کو بٹھانے اور چلانے میں نیب نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے ویسے ہی خان صاحب کی سلیکٹڈ حکومت کو بھی بٹھانے اور چلانے میں نیب کا اہم کردار ہے’۔

احتساب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میاں صاحب کو علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے اجازت ملی ہے ساتھ ہی ساتھ شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ہٹایا گیا لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کسی پر ہاتھ ہلکا یا دوسرے پر زیادہ رکھنے کا تاثر جاتا ہے کیونکہ جب قانون کی بالادستی ہوتی ہے یا انصاف ہوتا ہے کسی پر ہاتھ ہلکا یا زیادہ نہیں رکھا جاتا بلکہ قانون اور انصاف کے مطابق ہوتا ہے لیکن کسی کو ایسا لگتا ہے تو سوال پوچھنا چاہیے’۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کا قانون کالا قانون ہے جو صرف سیاسی مخالفین کے لیے بنایا گیا ہے، احتساب بلاتفریق اور سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، جب انصاف ہوتا ہے تو کسی پر ہاتھ ہلکا اور کسی پر بھاری نہیں رکھا جاتا۔

متعلقہ خبریں