Daily Mashriq

لوڈشیڈنگ کے خلاف صوبہ بھر میں پر تشدداحتجاج

لوڈشیڈنگ کے خلاف صوبہ بھر میں پر تشدداحتجاج

حکومتی سطح پر شہریوں کو یقین دلایاگیا تھا کہ رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی مگر ماہ مبارک کے عین آغاز میں ہی لوڈشیڈنگ کی جو صورتحال اور بجلی فراہم کرنے والے بعض اداروں کی جو کارکردگی سامنے آئی اسے دیکھ کر یہ بات وثوق سے کہنا انتہائی مشکل ہے کہ ان اداروں نے حکومت کی ہدایات' خصوصاً اوقات سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی تلقین پر سنجیدگی سے تو جہ دی بھی تھی یا نہیں بہر حال گرمی کی شدت ہی ایسی تھی کہ پشاور میں بجلی کا بڑا بریک ڈائون ہوگیا۔صوبے میں برقی ترسیل کا نظام جواب دے گیا' پشاور میں بجلی کے تعطل نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کردیا۔رمضان المبارک کی آمد اور گرمی کی شدت میں بے پناہ اضافہ کے بعد صوبہ بھر میں بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران دو افراد کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق جس طرح پیسکو دفاتر اور تنصیبات کا گھیرائو کر رہے ہیں اس سے صورتحال میں فوری بہتری نہ آنے پر حالات قابو سے باہر ہونے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مظاہرین کی برداشت اب جواب دے گئی ہے اور وہ تھانے نذر آتش کرنے جیسے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے سڑکوں کی بندش سے مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کی مشکلات میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال کی خرابی اس سے جڑا دوسرا سنگین مسئلہ ہے۔ ابتدائی طور پر ان معاملات میں سیاسی بیان بازی اور مخالفت کی جرارت کی گنجائش تھی مگر اب لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کی نوعیت نہایت سنگین ہو چکی ہے جس میں دونوجوانوں کی جان چلی گئی اور کئی افراد زخمی ہوئے جس کے بعد اب اس معاملے میں نہ تو کسی سیاسی مخاصمت اور بیان بازی کی گنجائش ہے اور نہ ہی اس ضمن میں بجلی چوری کے الزامات اور بل نہ بھرنے جیسے طعنے دئیے جاسکتے ہیں۔ صورتحال پر جلد توجہ نہ دی گئی تو صوبے میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور اس کے اثرات سے صوبے کی حکومت اور انتظامیہ ہل کر رہ جائے گی۔ مشتعل مظاہرین کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ بجلی کی فراہمی کی بہتری کے لئے مرکزی سطح پر ا قدامات کی ضرورت ہے۔ اگر احتجاج کرنے والوں کو یہ باور کرانا ممکن ہوتا یا وہ اپنے احتجاج کے ضمن میں امکانات و اختیارات اور اقدامات پر غور کرنے کا ہوش رکھتے تو تھانے پر حملہ توڑ پھوڑ سڑکوں کی بندش سے اپنے ہی جیسے عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے کے اقدامات سے احتراز کرتے۔ اس مسئلے کو خالصتاً ایک عوامی مسئلہ جان کر اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس ضمن میں صوبائی حکومت دوہری مشکل کا شکار ہے۔ صوبے کو اس کے کوٹے کے مطابق بجلی نہیں مل رہی ہے۔ عوام لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں مرنے مارنے پر اتر آئے ہیں۔ امن و امان کا مسئلہ بن چکا ہے۔ تھانوں پر حملے سڑکیں بند اور توڑ پھوڑ ہو رہی ہیں۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ کے اس بیان کی مخالفت نہیں کی جاسکتی کہ وفاق آئینی حقوق دیتا تو آج لوگ سڑکوں پر نہ نکلتے۔ بجلی کی پیداوار میں تیرہ فیصد خیبر پختونخوا کا اصولی اور آئینی حق بنتا ہے اگر واپڈا صوبے کو کوٹے کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائے تو اگر لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہ بھی ہو تو اس میں کمی ضرور ہوسکتی ہے۔ جہاں لوگوں کو چوبیس گھنٹے میں چار گھنٹے بھی بجلی میسر نہ ہو اور ان کا گھروں میں رہنا محال ہو جائے تو ان کا سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ فطری بات ہوگی۔ وزیر اعظم کی جانب سے لوڈشیڈنگ شیڈول پر برہمی اور عوام کو ریلیف دینے کی ہدایت دیر آید درست آید کے مصداق ہی گردانا جائے گا۔ کیا وزیر اعظم کو اس امر کا اندازہ نہ تھا کہ رمضان المبارک اور گرمی کے اتصال کے بعد بجلی کی ضرورت میں اضافہ اور عوام کے جذبات اشتعال کے آخری درجے کو چھو سکتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ایک تو طویل المدتی منصوبہ ڈیم بنا کر بجلی پیدا کرنے' سولر پارک لگانے اور دیگر اقدامات ہیں لیکن دریں اثناء اس نازک مسئلے کا فوری حل بھی نا ممکن نہیں کہ حکومت کمپنیوں کو ادائیگی کرکے فوری بجلی پیدا کرکے عوام کو فراہم کرکے صورتحال پر قابو پائے۔ ملک میں وزارت پانی و بجلی کو جس سرکلر خسارے کا سامنا ہے اگر یہ وصولی کرلی جائے تو ختم ہو کر رہ جائے گا۔ ان کمپنیوں کو واجبات نہ ملنے کی وجہ سے ان کا ٹرانسمیشن سسٹم بہتر نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے ٹرپنگ اور دیگر تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزارت پانی و بجلی موجودہ بحران سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائے۔ ملک میں پیدا ہونے والی بجلی کو انصاف کے ساتھ پورے ملک میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرے۔ اپنی وصولیوں کا نظام بہتر بنائے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو واجبات کی وصولی میں مدد فراہم کرے۔ حکومت اس امر کا بھی جائزہ لے کہ 17 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ قابو میں نہیں آرہی و گرنہ حکومت کے لئے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں