Daily Mashriq


پولیس کا غیر موثر نظام شکایات

پولیس کا غیر موثر نظام شکایات

صوبہ بھر میں پولیس رسائی اور شکایات کے اندراج کے عمل کو پولیس حکام اگر چاہیں تو نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔ گوکہ اس ضمن میں عوام کا اعتماد اور تجربہ دونوں ہی متزلزل ہیں۔ آئی جی خیبر پختونخوا کی جانب سے براہ راست شکایات کی وصولی نمبر دینے پر جب تجرباتی طور پر ایک ایسی شکایت ایسی ایم ایس کی گئی جس پر فوری کارروائی نا ممکن نہ تھی مگر اس پر کوئی کارروائی نہ ہونے پر پچیس دن بعد قدرے تمسخر اڑاتے ہوئے یاد دہانی کا ایس ایم ایس کیاگیا جس پر ایس پی سپیشل برانچ کی جانب سے شکایت کی تفصیلات معلوم کی گئیں۔ مگر اس کے بعد بھی مناسب کارروائی کے انتظار کا اگر تجربہ ہوگا تو عوام کا ہے کو نظام شکایات کو سنجیدگی سے لیں گے۔ آئی جی خیبر پختونخوا کو اپنے نمبر پر ملنے والی شکایات کو آگے بھیجنے کو کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ ان شکایات پر ہونے والی کاررروائی کی رپورٹیں بھی باقاعدگی سے طلب کرلینی چاہئے اس طرح سے ہی شکایتوں کا ازالہ اور عوام کے اعتماد کا حصول ممکن ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ آئی جی کا آفس ہفتہ وار بنیادوں پر ملنے والی شکایات اور اس پر ہونے والی کارروائی کی تفصیلات جاری کرے تاکہ عوام کو اس امر سے آگاہی ہو کہ ان کی شکایات پر کارروائی ہوتی ہے اس طرح سے اعتماد کی فضا پیدا ہوگی اور عوام پولیس کو شکایات ارسال کرنے کو لاحاصل نہیں گردانیں گے۔ ہر ریجن اور ضلع کی پولیس شکایات کی تعداد اور اس پر ہونے والی کارروائی کی رپورٹیں بھی جاری کی جائیں۔ پولیس حکام کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ شکایت کنندگان سے حصول معلومات کے وقت مناسب لب و لہجہ اختیار کریں۔ شکایات کے حصول کے بعد پولیس کو معلومات شکایت کنندگان سے لینے کی بجائے شکایت کا اپنے ذرائع سے جائزہ لے کر شکایت کے حقیقی ہونے کی صورت میں کارروائی کی جائے ۔ اگر کسی شکایت میں ذاتی عناد کا عنصر پایاگیا تو شکایت کنندہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

سکول کھلے رکھنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے

شدید گرمی' بے تحاشا لوڈشیڈنگ اور رمضان المبارک میں سرکاری طور پر سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے اعلان ' مجموعی طورپر سکولوں کی بندش کے باوجود بعض سکولوں میں بچوں کو ہر حال میں سکول آنے پر مجبور کرنا سمجھ سے بالا تر امر ہے۔ اس احمقانہ حرکت کی اور تو کوئی توجیہہ نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ مالکان پہلی کے بعد جولائی اور اگست کی فیسیں بھی وصول کرکے بچوں کو چھٹیاں دیں۔ جون کی فیس وہ مئی کی فیس کے ساتھ ایڈوانس وصول کرچکے ہیں حالانکہ ایڈوانس فیس کی وصولی خلاف قانون ہے۔ طلبہ اور والدین سکول مالکان کی بہ امر مجبوری ماننے پر مجبور ہیں اور ان کو طوعاً و کرہاً فیسوں کی ادائیگی کرنی ہی ہے۔ اگر سکولوں کے بچوں کو چھٹیاں دی بھی جائیں تب بھی فیسوں کی ادائیگی بہر حال ہونی ہے مگر تعطیلات کی صورت میں فیسوں کی وصولی میں تعطل و تاخیر ممکن ہے جو تعطیلات اور گرمی کے باوجود سکول مالکان کو گوارا نہیں۔ ایسے میں سکول کھلے رکھنے کا مقصد بچوں کی تعلیم و کورس کی تکمیل مقصد نہیں مقصد ہوس زر کا ہے۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ سرکاری اعلامیے کا کھلے بندوں سکول کھلے رکھ کر مذاق اڑایا جا رہا ہے مگر حکومت ضلعی انتظامیہ کو ان کے خلاف کارروائی کاحکم نہیں دیتی۔ ان سکولوں میں سے بیشتر میں جنریٹر کا انتظام بھی مشکل سے ہوگا۔ ایسے میں کسی بڑے سانحے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بچوں کا شدید گرمی کے باعث سخت مشکلات سے دو چار ہونا اور بیمار پڑ جانا تقریباً یقینی ہے۔ اس صورتحال کا محکمہ تعلیم کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہئے اور صوبائی حکومت کو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے ان سکولوں کو بند کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

محکمہ صحت کے حکام کی کمال عجلت!

ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے لئے پانچ سال قبل خریدی گئی سی ٹی سکین مشین کی تاحال عدم تنصیب اور ایم ایس کی جانب سے فنڈز روکنے کے واقعے پر محکمہ صحت کے حکام کی کارروائی اگرچار سال قبل ہوتی تو اس پر خفتگی کا الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ پانچ سال بعد اس طرح کی کارروائی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ صحت پانچ سال کہاں سوتی رہی ان پانچ سالوں کے دوران سی ٹی سکین مشین کی سہولت نہ ہونے سے کتنے مریضوں کی جان چلی گئی ہوگی۔ کتنوں کو اضافی رقم کی ادائیگی اور دوسرے ہسپتال اور کلینک جانے کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اس کا ازالہ کون کرے گا۔ محکمہ صحت کے حکام کی غفلت کے باعث اور سرکاری کاموں کو بروقت نہ نمٹانے کے باعث عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اپنی جگہ یہ تاخیر حکومت کے لئے بھی بد نامی کا باعث بنتا ہے۔ صوبے میں تمام ہسپتالوں کا سروے کرکے جہاں جہاں تاخیر اور حل طلب معاملات التوا کا شکار ہوں وہ تمام فوری نمٹانے کا بندوبست ہوناچاہئے۔

متعلقہ خبریں