Daily Mashriq


قول وفعل کے تضاد میں پھنسی قوم

قول وفعل کے تضاد میں پھنسی قوم

ایک وہ وقت تھا کہ لوگ حق پر ڈٹ جاتے تھے اور ایک یہ وقت کہ لوگ برائی پر ڈٹ کر اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہیںکہ وہ ان کا ساتھ دیں۔مشال خان کو راستے سے ہٹانا ایک یا دو لوگوں کی سوچ تھی لیکن پچاس سے زیادہ لوگ اس قتل ناحق میں اس لئے شامل ہو گئے کہ کہیں ان پر بزدلی کا ٹھپہ نہ لگ جائے یا ان کے بارے میں یہ نہ کہا جائے کہ جب ''مردانگی'' دکھانے کا وقت آیا تو انہوں نے پیٹھ دکھا دی۔

برائی کا محور محض چند لوگ ہوتے ہیں لیکن انہیں ایک بڑی تعداد کی حمایت یوں میسر آ جاتی ہے کہ عمومی طور پر لوگ اپنے اردگرد موجود ساتھیوں کے غلط کام کی حمایت انہیں خوش کرنے کے لئے کرتے ہیں اور جو اس غلط کام میں شریک ہونے سے انکار کرے یا برائی کی مذمت کرے تو اس کے خلاف محاذ بنا لیا جاتا ہے۔اسے طعنے دیئے جاتے ہیں اور یہ الزام بھی اس کے سر منڈھا جاتا ہے کہ اس نے ساتھیوں سے دغا کیا۔

پاکستان کی فارما مارکیٹ جو خیبر سے کراچی تک پھیلی ہوئی ہے ان دنوں ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے۔ پنجاب حکومت نے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف جو قانون سازی کی اس سے پنجاب ہی نہیں باقی صوبوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ادویہ ساز نہ صرف جعلی ادویات بنا کر مارکیٹوں میں بیچنے پر بضد ہیں تو ہول سیل ڈیلر اور ریٹیلر زیادہ منافع کی خاطر ان جعلی ادویات کی فروخت ختم کرنے کو تیار نہیں۔ جس کا دل چاہتا ہے وہ ایک نسخہ تیار کرتا ہے اور ان مارکیٹوں میں رکھوا دیتا ہے اور دکاندار زیادہ منافعے کے لالچ میں یہ نسخہ بیچنا شرع کر دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ وہ دوا بیچ رہے ہیں یا زہر؟

غیر معیاری ادویات کا بھی جمعہ بازار لگا ہوا ہے اور الکوحل بھی عام بک رہی ہے کیونکہ ہومیو پیتھک ادویات میں چونکہ الکوحل کا استعمال عام ہے۔جنسی ادویات کی بھرمار ہے۔جنسی طاقت کی درجنوں دوائیں مختلف ناموںسے بیچی جا رہی ہیں۔ڈیڑھ سو سے لے کر پانچ سو روپے تک کی قیمت کی جنسی ادویات سے مارکیٹیں بھری پڑی ہیں۔ایک ایک ڈبیہ پر دکان دار کا منافع سو سے دو سو روپے تک ہے اور چونکہ اس قدر منافع انہیں رجسٹرڈ کمپنیوں کی طرف سے نہیں ملتا اس لئے وہ گھوسٹ دواخانوں کی بنی ہوئی دوائیں زیادہ منافع کے لالچ میں بیچتے ہیں۔

راولپنڈی کی میڈیسن مارکیٹ میں بیٹھے ادویات کے ایک بڑے تاجر سے جب یہ سوال کیا کہ کیا مارکیٹ کے کچھ لوگ شہریوں کی زندگی سے نہیں کھیل رہے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ بات درست ہے۔میں نے دوسرا سوال داغا کیا پنجاب حکومت اس معاملے میں جو سختی کر رہی ہے وہ غیر ضروری ہے تو ان کا جواب تھا کہ یہ سختی جائز ہے۔بے ساختہ منہ سے نکلا تو پھر آپ مارکیٹ کے لوگوں کو سمجھاتے کیوں نہیں؟ ٹھنڈی سانس لے کر بولے،اگر کوئی سمجھنا ہی نہ چاہے تو انسان کیا کرے؟

جب بھی شہریوں کے حق کی بات کرتا ہوں تو مارکیٹ کے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔برائی پر سب اکٹھے ہیں اچھائی کی طرف کوئی نہیں آتا الٹا طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔میں نے کہا گویا وہ سب برائی پر اکٹھے ہیں اور اس پر ڈٹے ہوئے بھی تو انہوں نے کہا کہ بات ایسی ہی ہے۔

پاکستان میں عمومی چلن یہ ہے کہ لوگ حق سچ،حلال حرام کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اس حق سچ اور حلال حرام کی پریکٹس پر راضی نہیں۔آپ کرپٹ سے کرپٹ آدمی کو بھی یہ کہتے سنیں گے کہ ساری زندگی خود حرام کھایا نہ بچوں کو کھلایا۔آپ نے بے شمار لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا ہوگا کہ بھائی ہم تو حق کے ساتھ ہیں چاہے جان بھی چلی جائے لیکن جب حق بات کرنے یا حق کا ساتھ دینے کا وقت آتا ہے تو آپ کو یہ لوگ ناحق کا ساتھ دیتے دکھائی دیں گے۔

آپ نے کبھی کوئی ایسا مرد دلیر نہیں دیکھا ہوگا جو مانتا ہو کہ وہ حرام کھاتا ہے۔سو دیکھئے کہ جب پاکستان میں سبھی حلال کھاتے ہیں تو پھر فکر مندی کی کیا بات۔سبھی حق کا ساتھ دینے والے ہیں تو پھر کسی بھی قسم کی زیادتی کا مملکت خداداد میں کیا کام؟

رابرتو دی کارو ایک اٹالین باشندہ ہے اور پیشے کے اعتبار سے صحافی۔ کچھ برس قبل پاکستان آیا تو مجھے اسلام آباد میں چند دن اس کی رفاقت کا موقع ملا۔وہ پاکستان کی سماجی زندگی پر ایک رپورٹ تیار کر رہا تھا۔ روزانہ مختلف لوگوں سے ملتا،ان سے دوچار سوال کرتا اور ڈائری میں نوٹ کرتا۔ لگ بھگ ایک ہفتے بعد جب اس کی واپسی کا ٹائم قریب آیا تو اس نے مجھے میریٹ ہوٹل سلام آباد میں ڈنر پر مدعو کیا۔ کھانے کی میز پر وہ میری طرف جھکا اور بڑے سنجیدہ لہجے میں کہنے لگا ،تمہاری قوم قول و فعل کے بدترین تضاد میں مبتلاہے۔

تمہارے تاجر، استاد، طالبعلم، علما، سماجی شعبے کے لوگ، صحافی الغرض ہر پیشہ زندگی کے لوگ ڈبل سٹینڈرڈ کا شکار ہیں ۔پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا مجھ پر شک نہ کرنا کہ میں کرسچن ہوں اور تعصب میں مسلمانوں کے خلاف ریمارکس دے رہا ہوں۔ میں دہریا ہوں ۔میرا کوئی مذہب نہیں کہ میں تعصب کا شکار ہوں۔ میں تاریخ کا طالبعلم ہوں اور ملکوں ملکوں گھومتا ہوں۔میں نے دنیا کے کسی ملک میں قول و فعل کا اس قدر تضاد نہیں دیکھا جس قدر تمہارے ہاں ہے۔اور یہ بہت خطرناک بات ہے ۔اس پر لکھو مسٹر جتوئی،لوگوں کو جھنجوڑو کیونکہ یہ قوموں کے لئے زہر ہے،ان کے و جود کو چاٹ جاتا ہے۔میں رابرتو کو اس وقت یہ نہ بتا سکا کہ ہم جیسے لکھنے اور سمجھانے والے تو خود بھی قول اور فعل کے تضاد کا شکار ہیں اور یہ بھی کہ یہ قوم سمجھنے سمجھانے سے بہت آگے نکل چکی ہے۔

متعلقہ خبریں