Daily Mashriq

بھارت کے ہمسائے نالا ں کیوں ہیں ؟

بھارت کے ہمسائے نالا ں کیوں ہیں ؟

تقریباً تین دہائیاں پہلے جب وشواناتھ پرتاب سنگھ بھارت کے وزیرِ اعظم بنے تو عہدہ سنبھالنے کے بعد انہیں سری لنکا کے صدر رانا سنگھے پریما داسا سے ملنے کا موقع ملا۔ بھارتی وزیرِ اعظم وشواناتھ پرتاب سنگھ، جو کہ ایک خوش اخلاق انسان تھے ،سری لنکا کے صدر کے منہ سے یہ الفاظ سن کر حیران رہ گئے ''آپ کب اپنی فوج سری لنکا سے واپس بُلا رہے ہو ؟'' یہاں پر سری لنکا کے صدر نے ان بھارتی فوجیوںکا حوالہ دیا تھا جو سری لنکا میں قیامِ امن کے لئے بھیجے گئے تھے اور وہ سری لنکا کی سرزمین پر تامل ٹائیگرز کے ساتھ برسرِ پیکار تھے۔ اس دور میں بھارت نے سری لنکا میں اپنے ہزاروں فوجی بھیجے تھے ( جن میں سے 1000 سے زائد بھارتی فوجی تامل ٹائیگرز سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے ) اور پوری دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ بھارتی فوجی سری لنکا کے لئے قربانیاں دے رہے ہیںلیکن بھارتی وزیرِ اعظم وشواناتھ پرتاب سنگھ کے بیان کے مطابق سری لنکا کے حکام اور سری لنکا کی عوام بھارتی فوج کی کاروائیوں کو اپنے ملکی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھ رہے تھے اور بھارتی فوج کی سری لنکا سے جلد از جلد واپسی چاہتے تھے۔سری لنکا میں جاری خانہ جنگی کا اختتام سنہالیز نیشنلسٹس کی فتح پر ہوا اور آج کا سری لنکا 30 سال پہلے کے سری لنکا سے بالکل مختلف اور بھارتی غلبے سے پاک ہے۔لیکن بھوٹان کے علاوہ بھارت کے تمام ہمسایوں نے اس کانفرنس میںحصہ لیا تھا جن میں سری لنکا، میانمار، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال شامل ہیں۔

اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سے چین کے نئے منصوبے میں دلچسپی نے بھارت کو اپنے گرد دائرہ لگائے جانے کا احساس دلایا ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے بھارت نے اپنے ہمسایوں کو خبردار کیا تھا کہ چین کے ساتھ ساجھے داری کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی لیکن ان میں سے کسی نے بھی بھارت کی بات پر کان نہیں دھرے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے سب سے بڑے ملک ہونے اور جنوبی ایشیاء کے چھوٹے ممالک میں خاطر خواہ اثرورسوخ رکھنے کے باوجود یہ ممالک بھارت کی بات ماننے پر رضامند کیوں نہیں ہوئے؟ اس سوال کا جواب ہی دراصل ہمارے کالم کا مرکزی نقطہ ہے ۔

بھارت کے تمام ہمسائے بھارت کو ناپسند کرتے ہیں یا بھارت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بھارت کا اپنے کسی بھی ہمسائے ملک سے ایسا تعلق نہیں ہے جیسا کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تعلق ہے۔ بھارت کی تمام سرحدیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد یا اس سے بھی خراب صورتحال پیش کرتی ہیں۔

شاید یہ بھارت کے تما م ہمسایوں کا قصور ہے کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ شرارت کرنے سے باز نہیں آتے ۔ کم از کم ایک بھارتی شہری ایسا سوچتا ہے کہ بھارت کے ہمسائے ہی تمام برائیوں اور خرابیوں کی ذمہ دار ہیں اور بھارت ہمسایوں کی شرارتوں کا شکار ہے ۔

ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ بھارتی شہریوں کو پراپیگنڈے کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ بھارت کے تمام ہمسائے بھارت کو پسند نہیں کرتے اور بلاوجہ ہی کوئی نہ کوئی شرارت کرتے رہتے ہیں۔ بھارت کا ایک عام شہری، جو کہ بین الاقوامی تعلقات پر نظر رکھنے کی بجائے بھارتی سینما اور کرکٹ کو ترجیح دیتا ہے ، اس پراپیگنڈے کو سچ مان کر دیگر ہمسایہ ممالک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ آخر کیوں دوسرے ممالک بھارت کو برداشت نہیں کرسکتے ؟ ایک عام بھارتی شہری بنگلہ دیشیوں کو غیر قانونی تارکینِ وطن، نیپالیوں کو چوکیدار اور پاکستانیوں کو دہشت گرد سمجھتا ہے۔ نیپال کے شمالی علاقوں میں بسنے والے نیپالی سمجھتے ہیں کہ بھارت ان کے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس حوالے سے پہاڑی علاقوں میں بسنے والی نیپالیوں (جو کہ ملک کے اشرافیہ ہیں) اور میدانی علاقوں میں بسنے والے نیپالیوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ نیپالی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بھارت ان کے آئینی معاملات میں بھی مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ممکن ہے کہ بھارت کے نیپال کے بارے خدشات جائز ہوں اور وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے نیپال میں مداخلت کر رہا ہو لیکن ایک عام بھارتی کے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہندو ریاست کے ساتھ بھارت کے تعلقات اتنے خراب کیوں ہیں ؟ بھارت نیپال کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرکے نیپال کو چین کے خلاف استعمال کرسکتا تھا لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات اس حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حتٰی کہ بھوٹان ، جو کہ چین کے خلاف بھارت کا' واحد' دوست ہے ، کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جواہر لال نہرو کے دورِ حکومت میں بھارت نے بھوٹان کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا تھا جو کہ کسی بھی طرح سے 'دوستی' کا معاہدہ نہیں ہے۔ پورے جنوبی ایشیاء میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو بھارت کو اپنا بااعتماد اتحادی کہہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس کے بائیکاٹ میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں