Daily Mashriq


تربوز کی کہانی' میری زبانی

تربوز کی کہانی' میری زبانی

ہم بیٹی کو فون پر تربوز کی زہرناکی کے بار ے میں بتا رہے تھے جواب میں اس نے کیلوںکے متعلق عجیب و غریب انکشاف کرکے ہمیں ایک نئے کام پر لگا دیا۔ ہم نے اسے کہا' تربوز بھی مشکوک ہوگئے ہیں نہ کھائیں پرہیز علاج سے بہتر ہے کے مطابق اس کے زہریلے اثرات سے محفوظ رہو گی۔ سچ پوچھئے تو ہمیں ذاتی طورپر تربوز کھانے کے مخصوص قسم کے آداب اور پال پرہیز کی وجہ سے ہمیں ان سے ہمیشہ چڑ رہی ہے۔ اس سے پہلے یہ نہ کھائیں' اس کے بعد وہ نہ کھائیں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ بخشے فریخان بابا جو ہمیشہ اپنا کلام سنانے سے پہلے دو ایک لطیفے ضرور پیش کرتے۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ ایک آدمی نے تربوز کھانے کے بعد لسی کا ایک کٹورا پی لیا۔ پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ کسی نے کہا' تمہیں معلوم نہ تھا تربوز اور لسی کی آپس میں نہیں لگتی۔ آدمی درد سے کراہتے ہوئے بولا' ان کی آپس میں خوب لگتی ہے ما د مینزہ اباسی۔ مجھے درمیان میں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ہم نے بیٹی کو تربوز نہ کھانے کا جو مشورہ دیا تھا وجہ اس کی چند روز پہلے کی ایک اخباری خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ نوشہرہ کے کسی نواحی گائوں میں ایک شخص بازار سے تربوز خرید کر لایا۔ رات کو اس کے دو بیٹوں' سسر' ساس اور بیوی نے مل کر وہ تربوز کھایا۔ تھوڑی دیر میں پانچوں افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ سب کو ہسپتال لے جایاگیا۔ خاتون خانہ بے چاری چار روز تک شدید اذیت میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسی۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد وہ جو ہم کبھی کبھار تربوز کی ایک آدھ قاش لے کر دل پشوری کرلیا کرتے تھے اس سے بھی گئے۔ یہی مشورہ ہم نے اپنی بیٹی کو بھی دیا۔ اس نے کہا آپ کا مشورہ بسر و چشم تسلیم ہے مگر آپ بھی کیلے احتیاط سے کھایا کیجئے کہ اس کو بھی میٹھے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔ حیرت سے پوچھا' انجکشن لگے کیلے کی پہچان کیا ہوگی۔ کہنے لگیں' اوپر سے پتہ نہیں چلتا' بالکل اسی طرح جیسے آپ نے ایک بار بتایا تھا کہ محترم ارباب ہدایت اللہ صاحب نے جب ایک ریڈ بلڈ مالٹے کا رس سفید تولئے پر ٹپکایا تو انہیں معلوم ہوا کہ مالٹے میں سرخ رنگ کا کوئی کیمیکل ڈالاگیا ہے اور یہ رنگ قدرتی نہیں مصنوعی ہے۔ آپ بھی کیلے کا چھلکا اتارنے پر اسے فوراً نہ کھائیں۔ تو پھر کیسے کھائیں؟ اس کے گودے پر اوپر سے نیچے تک سرخ لکیر نظر آئے تو وہ انجکشن زدہ کیلا ہوگا۔ اسے فوراً پھینک دیں۔ اس طرح بیٹی نے ہمیں ایک نئے کام پر لگا دیا ہے۔ پہلے کیلے کا چھلکا اتارتے ہیں ۔ نزدیک کی عینک لگا کر اس کے گودے کا جائزہ لیتے ہیں کہ کہیں اس پر سرخ لکیر تو نہیں۔ پوری طرح اطمینان کرنے کے بعد نوش جان کرتے ہیں۔ یہ کیلے وہ ہیں جو انڈیا سے آتے ہیں۔ تربوز کھانے سے تو پوری طرح توبہ تائب ہوگئے اس خوف سے کہ جانے کونسا تربوز موت کا پیغام بن جائے۔ موت سے مفر نہیں لیکن کم از کم شہید تربوز بننا نہیں چاہتے اور تو اور با وثوق ذرائع سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فن ملاوٹ میں صرف ہم ہی مہارت نہیں رکھتے ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے۔ بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی تربوز کو تر و تازہ رکھنے کے لئے زہر ناک کیا جاتا ہے۔ دوسرے پھل اسی عمل سے گزرتے ہیں بالخصوص مچھلی کو تازہ رکھنے کے لئے اس پر فارملین نام کا ایک کیمیکل لگایا جاتا ہے۔ جی ہاں یہ وہی کیمیکل ہے جو مردے کو گلنے سڑنے سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کی جلد پر چھڑکا جاتا ہے۔ میلا مین بھی ایک کیمیکل ہے جو دودھ کے پائوڈر اور آٹا میں شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ' بنگلہ دیشی یا پھر دوسرے ممالک کے تاجر اسے نیا نام دیں گے۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں عمومی نفاست اور اخلاقیات نام کی چیزیں کیوں نا پید ہوگئی ہیں جبکہ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر بھی ہے۔

صرف کیلے اور تربوز ہی کی کیا تخصیص' کم و بیش سب پھلوں کے رنگ اور ان کا مخصوص نیچرل ذائقہ قابل اعتبار نہیں رہا۔ کینو کو پانی کی پچکاری دے کر اس کے وزن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ سیب کو خوشنما بنانے کے لئے اس پر سپرے کیاجاتا ہے۔ ہمارے دوست کرنل انیل مدن کہتے ہیں میں تو سیب کاچھلکا نہیں اتارتا کہ اس میں کہتے ہیں وٹامن ہوتا ہے۔ اب میرا کیا بنے گا ۔ تاجر آموں کو درخت پر پکنے کا انتظار نہیں کرتے۔ نیم پختہ آموں کو پیٹیوں میں ڈال کر اس پر کاربیٹ نام کا ایک کیمیکل چھڑک دیتے ہیں اور دو تین روز میں زرد ہونے پر انہیں مارکیٹ کو سپلائی کردیتے ہیں۔ یہ حد درجہ مضر صحت کیمیکل ہے۔ ایسے پھلوں کو پانی سے دھونے کے باوجود اس کے اثرات ختم نہیں ہوتے اور اس سے منہ کے سرطان تک ہونے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ ہمارے دوست کرنل انیل مدن نے ہمیں ایک ویڈیو بھیجی ہے جس میں مختلف کیمیکلز سے پھلوں کا وقت سے پہلے پکانے اور ان کا رنگ بدلنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ آدم' کیلے ' مالٹے ' تربوز اور کیلے کو پہلے ہی سے نہیں بخشا گیا ۔ اس ویڈیو سے ہمیں معلوم ہوا کہ کچے انگور کے خوشوں کو ایک کیمیائی پانی میں ڈبو کر ان کا رنگ اور ذائقہ تبدیل کیا جا رہا تھا تو صاحبو! ہم اشیاء صرف از قسم دودھ' آٹا اور گھی میں ملاوٹ کا رونا رو رہے تھے ۔ جعلی ادویات کا سیاپا تھا اب یہ پھلوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کا بھی تو کوئی توڑ بتائیں۔ توبوز کھانا تو ہم نے ترک کردیا کیلا کھانے سے پہلے آپ بھی اس کا چھلکا اتار کر پوری طرح اطمینان کرلیجئے کہ اس کے گودے پر سرخ لکیر تو نہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔

متعلقہ خبریں