Daily Mashriq

محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر کی باتیں

محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر کی باتیں

ڈ اکٹر عبد القدیر خان نہ صر ف اُمت مسلمہ کے ایک عظیم سائنسدان ہیں بلکہ ایک انتہائی با ذوق ، ادب ،سیاست، مذہب اور عصری علوم سے انتہائی شنا سا اور اس پر گہری نظر رکھنے والے صا حب بصیرت انسان بھی ہیں۔کچھ عرصہ پہلے ایک ٹی وی چینل پر ڈا کٹر صا حب نے پاکستان کے وہ اقتصادی، معاشی مسائل بیان کئے جسکا آج کل پاکستان سامنا کر رہا ہے۔ ڈا کٹر صا حب سے جب پو چھا گیاکہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن امریکہ، اسرائیل، بھارت یا کوئی اور ملک ہے ،تو اس پر ڈا کٹر صا حب نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہمارے سیاست دان ہیں ۔ ڈا کٹر صا حب کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی تا ریخ میر جعفر اور میر صا دق سے بھری پڑی ہے۔ اس ملک میں ملکی ناموس ، ضمیر بیچنے والے، عزت اور وقار کا سودا کر نے والے بہت ہیں۔ انہوں نے ایران کی مثال دی کہ ایران کی افغا نستان کے ساتھ لمبی سر حد ہے، مگر ایران یا کوئی دوسرا ملک امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں ایسا نہیں کو دا جیسے پر ویز مشرف نے امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ ایک چھوٹے امریکی اہلکار کی ایک ٹیلی فون کال پر اپنے ذمہ لے لی۔ اُنکا کہنا تھا کہ پر ویز مشرف نے پاکستان کے وقار اور عزت کا سودا کیا ۔ اس ملک کی تباہی ، بر با دی اور ملکی عز ت کو ملیا میٹ کرنے میں پر ویز مشرف کا بڑا ہاتھ ہے۔ اگر پر ویز مشرف امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں نہ کو دتا تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہو تی۔ اُنکا کہنا تھا کہ امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں پاکستان کے ہزاروں بے گناہ لوگ شہید اور قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے اہل کار لُقمہ اجل بن گئے۔ڈا کٹر قدیر سے جب پو چھا گیا کہ کیا پاکستان کے جو ہری ہتھیار محفو ظ ہا تھوں میں ہے تو اس پر ڈا کٹر صا حب نے فرمایا کہ اگر یہ سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ہو تا تو اب تک یہ بِک چکا ہو تا۔ ان سے جب پو چھا گیا کہ زیادہ ترسیاست دان آپ پہ تنقید کر تے ہیں کہ آپ سیاست دان نہیں تو سیاست میں کیسے آئے۔ اس پر ڈا کٹر صا حب نے کہا کہ بنیا دی طو ر پر سائنس دان، انجینیراور دوسرا پڑھا لکھا انسان ہوں جو ریڈیو سُنتا ، اخبار پڑھتا اور ٹی وی دیکھتا ہے مگر سر کا ری مصرو فیات کی وجہ سے وہ اس پو زیشن میں نہیں ہو تا کہ وہ سیاست میں ایکٹیو کر دار ادا کر سکے حالا نکہ وہ سیاست کے رموز کو دوسرے لوگوں سے بہتر طریقے سے سمجھتا اور جا نتا ہے۔ یہ تو سیاست دان ہیں جو عصری علوم اور دور جدید کی سائنس اور ٹیکنالوجی سے نا واقف ہو تے ہیں۔ اُن سے جب پو چھا گیا کہ آج کل ہر پا رٹی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ ملک کو بُحران سے نکالے گی تو اس پر ڈا کٹر قدیر نے کہا کہ ہمیں کس کا پتہ نہیں کہ انکے پاس ملک کو اقتصا دی اور معاشی ما حول سے نکالنے کے لئے کیا منصوبہ بندی اور حکمت عملی ہے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے نہ تو میں نے ما ضی میںقوم کو مایوس کیا اور نہ آنے والے وقتوں میں قوم کومایوس کروں گا۔ میں نے پاکستانی عوام سے جو وعدہ کیا تھا وہ میں نے کرکے دکھا یا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ملک کو پہلے جو ہری طا قت بنا یا اور اب اگر اقتدار میں آیا تو اسکو اقتصادی طا قت بنا دے گا تو اس پر ڈا کٹر قدیر خان نے فر مایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1998 میں جب پاکستان کو بھارت کو اٹیمی دھماکوں کی ضرورت پڑی تو اس وقت نواز شریف چیف ایگزیکٹیو تھے مگر اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جو ڈرائیور مرسیڈیز گا ڑی چلا رہا ہو اُسکو غیر معمولی نو عیت کا کوئی کریڈٹ ملے بلکہ کریڈٹ ا ُس آدمی کو جا نا چاہئے جس نے مر سیڈیز بنائی ہے۔ مطلق العنان پر ویز مشرف کے با رے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈا کٹر صا حب نے کہا کہ وہ ضمیر فروش ڈرپو ک اور ملک و قوم کی عزت اور ناموس کا سودا کرنے والے انسان ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ پر ویز مشرف ایک کرپٹ انسان ہے اُسکے پاس جتنے مالی وسائل ہیں وہ لیکچروں سے نہیں بلکہ غلط طریقوں سے کمائے گئے ہیں۔ اگر ہم ڈا کٹر صا حب کی ان باتوں کا تجزیہ کریں تو ڈا کٹر صا حب کی ساری باتیں 100فی صد درست ہیں۔ آج کل تقریباً تمام سیاسی پا رٹیوں کے رہنماء پریس کانفرنسوں میں پا رٹی منشور پیش کر رہے ہو تے ہیں۔ اور ہر سیاسی پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اقتدار میں آکے ملک اور قوم کی تقدیر بدل لے گی۔غُربت ، مہنگائی، لاقانونیت، بے روز گاری کو جڑ سے اُکھاڑا جائے گا۔ اگر ہم تھو ڑا سا ما ضی میں جھا نکنے کی کو شش کریں تو اس میں کوئی بھی ایسی سیاسی پا رٹی نہیں جو ما ضی اور ما ضی قریب میں اقتدار میں نہ رہی ہو۔ ویسے یہ بات میری سمجھ سے با ہر ہے کہ اب وہ سیاسی پا رٹیاں جس میں مسلم لیگ(ن)، مسلم لیگ(ق)، پی پی پی، ایم کیو ایم، اے این پی اور مولانا فضل الرحمان شامل ہیں اور جو 5 سے سال لیکر 15 سال تک اقتدار میں تھے اس نے ملک کو بُحرانی کیفیت سے کیوں نہیں نکالا۔نواز شریف گذشتہ ٤ سال سے اقتدار میں ہیں انہوں نے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ اور دوسرے مسائل حل کیوں نہیں کئے۔ وہ کونسی رکاوٹیں ہیں جو اُنکی راہ میں حا ئل تھیں؟اور وہ اب کس طر ح ملک اور قوم کو اقتصادی مشکلات ، بُحرانوں ، بے رو زگاری، مہنگائی اور لا قانونیت سے نکالے گا۔ ڈا کٹر قدیر نے اپنے انٹر ویو میں پر زور طریقے سے عوام کی استد عا کی کہ وہ اچھے اور با کر دار سیاسی پا رٹیوں اور قیادت کو ووٹ دیں اور انکو اقتدار میں لائیں، ورنہ پچھتائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں