Daily Mashriq


رمضان المبارک کیسے گزارا جائے؟

رمضان المبارک کیسے گزارا جائے؟

رمضان المبارک گزارنے کے بہت سے طریقے ہیں ہر شخص اپنی سہولت اور سوچ کے مطابق ان میں سے ایک طریقہ اختیار کر لیتا ہے اور پھر اسی کے مطابق رمضان کا بابرکت مہینہ گزارتا ہے سب سے پہلے اس شخص کی بات کرلیتے ہیں جو رمضان کے آتے ہی لنگر لنگوٹ کس کر عبادات کے لیے تیار ہوجاتا ہے پانچ وقت باجماعت نماز کی ادائیگی بھی کرنی ہے تراویح میں قرآن پاک کو بڑے اہتمام کے ساتھ سننا ہے سحری بھی کرنی ہے اور صلوٰة تہجد کا اہتمام بھی کرنا ہے دن بھر روزہ ہوگا تو زبان کو غیبت چغل خوری سے بچانا ہے فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اللہ پاک کا ذکر کیا جائے اس کے ذہن میں یہی بات ہوتی ہے کہ ماہ صیام کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اپنے بندوں پر انعام وا کرام کی بارشیں برساتا ہے یہ تو لوٹ مار کا مہینہ ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آگے بڑھ کر ثواب کماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو پوری پوری زکوٰة ادا کرتے ہیں صدقہ و خیرات کا اہتمام کرتے ہیں ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے نام پر زیادہ سے زیادہ مال خرچ کریں ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی خیال کرتے ہیں کہ ان کی آمدنی میں حرام مال کا شائبہ بھی نہ ہو وہ اس بات سے باخبر ہوتے ہیں کہ اللہ اپنی راہ میں حلال مال ہی کو قبول کیا کرتا ہے اور حلال مال پر ہی حساب ہوگا حرام مال پر حساب نہیں بلکہ صرف اور صرف عذاب دیا جائے گاایسے لوگوں کی تعداد ہمارے معاشرے میں عموماکم ہی ہوتی ہے ۔رمضان گزارنے کا دوسرا طریقہ ان لوگوں کا ہے جو نماز بھی پڑھتے ہیں تراویح کا اہتمام بھی کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں ہروقت لمبی سی تسبیح بھی ہوتی ہے لیکن جیسے جیسے رمضان قریب آتا جاتا ہے ان کے گوداموں میں اجناس ذخیرہ ہونا شروع ہوجاتا ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ رمضان میں ان اجناس کی ضرورت زیادہ ہوگی اور اس ذخیرہ اندوزی سے ہم خوب مال کمائیں گے وہ ذخیرہ اندوزوں کے انجام کے حوالے سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتے بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے اپنے قبیح عمل کو درست ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں سال کے گیارہ مہینے جو خوردنی اشیاء میں ملاوٹ کا مکروہ دھندا کرتے ہیں وہ رمضان میں کب رکتے ہیں منہ میں روزہ ہاتھ میں تسبیح نماز کی اپنے وقت پر ادائیگی لیکن اس بات کی چنداں پرواہ نہیں کہ رسول پاکۖ نے فرمایا ہے کہ ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ! وہ اپنے دل کی تسلی کے لیے اس ملاوٹ کو بھی کاروبار کا حصہ سمجھتے ہیں اور اسے صحیح ثابت کرنے کے لیے انہوں نے بہت سے اوٹ پٹانگ قسم کے دلائل ایجاد کررکھے ہوتے ہیں اور انھیں وقتا فوقتا استعمال کرتے رہتے ہیںیہ وہ بدقسمت لوگ ہوتے ہیں جو صرف اور صرف اپنے آپ کو دھوکا دیتے رہتے ہیں ان کی کمائی، ان کا مال ان کے کسی کام نہیں آتا ۔ان میں سے اکثر تو زکوٰة دیتے ہی نہیں اور اگر ایک قلیل تعداد زکوٰةدیتی بھی ہے تو برائے نام ۔ بس اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے تھوڑے بہت پیسے زکوٰة کے نام پر دے دیتے ہیںاور اگر یہ بیچارے پوری زکوٰة بھی نکالیں تو ملاوٹ کی اشیاء بیچنے والوں ،جعلی دوائیوں کا کاروبار کرنے والوں، رشوت لینے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کی زکوٰة کب قبول ہوتی ہے اس کی قبولیت کے لیے تو حلال مال کی شرط ہے!کچھ لوگ ماہ صیام کے آتے ہی اپنے روزمرہ کے معمولات میں بہت سی تبدیلیاں لے آتے ہیں اگر غیر رمضان میں نماز کی پابندی نہیں کی جارہی صرف نماز جمعہ کا اہتمام ہے تو اب پانچ وقت کی نماز شروع ہوگئی ہے جس مسجد میں نماز فجر میں صرف ایک صف ہوتی تھی اب اس مسجد کا کمرہ اور صحن دونوں نمازیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ لوگ بڑے خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے ہیںسر پر سفید ٹوپی گردن ذرا سی جھکی ہوئی اگر ان کے ساتھ کوئی بات چیت کا سلسلہ دراز کرنا چاہے تو یہ اسے بڑی معصومیت سے کہتے ہیں یار رمضان کا مہینہ ہے دوسروں کی غیبت کرکے کیوں اپنا روزہ خراب کرتے ہو یہ بھی ذہن میں رہے کہ ان کی ساری نمازیں صرف رمضان المبارک تک ہوتی ہیں عید کے پہلے دن مسجد میں پھر وہی نمازی رہ جاتے ہیں جن سے صرف دو صفیں بنتی ہیں مسجد کا صحن پھر سے خالی ہوجاتا ہے۔ایک ٹولہ ایسا بھی ہے جس کا ذکر کیے بغیر شاید یہ کالم مکمل نہیں ہوسکتا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاں رمضان کا چاند ہی نہیں چڑھتا رمضان المبارک کی آمد کے بعد بھی ان کی زندگی کا معمول وہی رہتا ہے یہ سحری و افطار سے بالکل نا آشنا رہتے ہیں رات کو اپنے وقت پر سونا اور پھر صبح اٹھ کر ناشتہ کرنا ۔ پرانی بات ہے ہمارے پڑوس میں اسی قسم کا ایک خاندان آباد تھا روزے نماز سے بالکل نا آشنا ۔ رمضان میں بھی ان کے معمولات غیر رمضان والے ہی ہوتے اس گھر کی خوبصورت بات یہ تھی کہ باپ اور بچے روزہ نہیں رکھتے تھے لیکن بچوں کی ماں کا روزہ ہوتا وہ اکیلی ہی سحری کے لیے اٹھتی اسی طرح تنہا روزہ افطار کرتی تراویح بھی باقاعدگی سے پڑھتی اور قرآن پاک کی تلاوت روز کا معمول ہوتا ۔

اسی طرح رمضان کا مہینہ سب کے لیے اپنی برکات لے کر آتا ہے اب یہ ہم پر ہے کہ کون آگے بڑھ کر ان نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے اور کون محروم رہ جاتا ہے وقت کا کیا ہے یہ تو گزرتا رہتا ہے جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان کا رمضان بھی گزر جاتا ہے اور جو نہیں رکھتے ان کا بھی!

متعلقہ خبریں