Daily Mashriq


دعوئوں کے باوجود لوڈشیڈنگ کا لاینحل مسئلہ

دعوئوں کے باوجود لوڈشیڈنگ کا لاینحل مسئلہ

دم رخصت وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بجلی بحران کے خاتمے کا اعلان تو کردیا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کی پیداوارمیں اضافے کے ساتھ طلب میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ 2020تک ملک میں مزید 10687میگاواٹ اور 2025تک مزید 17119میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم نے ایک راستہ متعین کردیا، اب جو بھی حکومت آئے گی اسے مسئلہ نہیں ہوگا ۔ماضی کی حکومتوں نے پانی اور ڈیمز سے متعلق کچھ نہیں کیا تاہم بڑے ڈیمز قومی اتفاق رائے سے ہی بن سکتے ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور پانچ سال میں بجلی کی طلب 45فیصد بڑھی ہے ٗانہوں نے کہا کہ قومی نظام میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی ہے اور اس سال 35فیصد اضافی بجلی پیدا کی گئی، اس حکومت نے 11ہزار 461میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بجلی بحران کے خاتمے کامطلب لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اس لئے ہر گز نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اس وقت خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سندھ میں تو کے الیکٹرک کے باعث بجلی کا بحران شدید تر ہے جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی لوڈشیڈنگ معمول کی بات ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت اور خاص طور پر پنجاب کی حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اضافے کی سنجیدہ اور کامیاب کوششیں ضرور کی ہیں لیکن یہ کوششیں اس قدر نتیجہ خیز بھی نہیں کہ لوڈشیڈنگ میں واضح کمی آنے کے بعد بجلی دستیاب ہو جو دعوے کئے جا رہے ہیں ان کی حقیقت نگران دور میں سامنے آئے گی جس میں خاص طور پر دیکھنا ہوگا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے کتنے بقایاجات گردشی قرضوں کی صورت میں چھوڑے ہیں اور وہ عدم ادائیگی پر بجلی کی پیداوار میں کمی لانے کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اگر آئی پی پیز کو ادائیگیاں کردی گئی ہیں اور ان کے بھاری بقایاجات واجب الادا نہیں تو لوڈشیڈنگ کی موجودہ صورتحال تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رہے گی اور اگر ان کے بقایاجات بہت بڑھ گئے ہیں تو پھر مشکلات پیدا ہوں گی۔ وزیر اعظم نے بجلی پیداوار کے جو اعداد و شمار دئیے ہیں اس میں وہ خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ بجلی کی پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی طلب بھی پینتالیس فیصد بڑھی ہے جس چیز کی طلب بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں بحران اس وقت ہی نہیں آتا کہ اس کی پیداوار کی شرح بھی توازن برقرار رکھنے کے لئے کافی ہو۔ اگر ایسا نہیں تو لا محالہ طلب و رسد کے عدم توازن کا نتیجہ بحران ہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود یہ خدشہ بے جا نہیں کہ ملک میں لوڈشیڈنگ میں اضافے کا امکان واضح ہے۔ حکمران جماعت کی جانب سے صوبوں کی جانب سے بجلی کی پیداوار کے جو اعداد و شمار پر مبنی اشتہار شائع ہوا ہے اس کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت ان پانچ سالوں میں ایک یونٹ بھی بجلی پیدا نہ کرسکی۔ ایسے میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی پر بوجھ میں مزید اضافہ کے باعث سندھ میں بجلی کا بحران فطری امر ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی تین سو پچاس چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے دعوے کے باوجود صوبائی حکومت صرف چوہتر میگا واٹ بجلی پیدا کر سکی ہے اسے بھی نہ ہونے کے برابر قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ البتہ اس ضمن میں پنجاب حکومت کی کارکردگی مثالی رہی جس نے پانچ ہزار تین سو ترپن میگا واٹ بجلی پیدا کی۔ اگر سندھ و خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں اس کا نصف بھی بنا پاتیں تو قابل ذکر بات ہوتی۔ گزشتہ ساٹھ ماہ کی مدت میں گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار حاصل کرنے میں کامیابی واقعی موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے۔ اگر گزشتہ حکومت بھی اس طرح سے بجلی کی پیداوار کے حصول پر توجہ دیتی اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بہتر ہوتی تو صورتحال اس سے بھی بہتر ہوتی۔ اسے افسوسناک ہی قرار دیا جائے گا کہ خیبر پختونخوا میں آبی بجلی پیدا کرنے کے بیسیوں مواقع کے باوجود صوبائی حکومت کی اس خاص شعبے میں کارکردگی اچھی نہیں رہی گوکہ صوبائی حکومت کو بجلی کی پیداوار کی واپڈا کو فروخت کے ضمن میں شکایات کا سامنا تو رہا لیکن فی یونٹ قیمت کے حوالے سے وہ الگ مسئلہ تھا۔ بجلی کی معقول پیداوار کے حصول میں ناکامی پر وہ عذر ناچ نجانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق اس لئے گردانا جائے گا کہ بجلی کی پیداوار ہوئی نہیں تو فروخت اور خرید کا تنازعہ کہاں سے آگیا اور اگر تنازعہ ہوتا تو نگران حکومت میں اس کا نہ صرف حل نکل سکتا تھا بلکہ نا انصافی کا ازالہ بھی ممکن تھا۔ اس بحث سے قطع نظر اس حقیقت سے فرار کی گنجائش نہیں کہ حکمران تو اتر سے یہ دعوے کرتے رہے کہ اب عوام لوڈ شیڈنگ کو بھول جائیں گے مگر اچانک ہی غیر اعلانیہ اور بغیر شیڈول کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کی امیدوں پراوس پڑ جاتی ہے ۔ اس وقت عملی طور پر شہری اوردیہی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ بجلی ساز نجی کمپنیوں کو واجبات کی ادائیگی کے ذریعے موجود ہ حکومت نے اقتدار کے آغاز میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کامیاب سعی کی تھی ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ2018 تک پاکستان کے پاس اتنی بجلی ہوگی کہ ہم انڈیا کو بھی فروخت کر سکیں گے۔گرمیوں میں بجلی کی طلب ورسد میں فرق رہتا ہے جو لوڈ شیڈنگ کا باعث ہے مگر معاملہ صرف اس سید ھی سادھی وجہ کا نہیں۔ حکومت پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے اس درجہ کو شاں رہنے میں کامیاب نہیں ٹھہرتی جو حالات کا تقاضا اور عوام کی ضرورت تھے۔کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی ادنیٰ سعی بھی نہیں کی گئی جسے ماہرین پاکستان میں پانی اور بجلی دونوں کی قلت پر قابو پانے کیلئے کلیدی منصوبہ قرار دے رہے ہیں ۔ عوام سے 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کاجو وعدہ کیا گیا تھا عملی صورتحال یہ ہے کہ اسے کلی طور پر پورا نہیں کرسکی ہے۔ وفاقی حکومت نے چند ایک بڑے منصوبے مکمل کرکے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ضرور کیا ہے حکومت پنجاب نے بھی اپنا بھرپور حصہ ضرور ڈالا ہے لیکن یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے جس میں دیگر صوبوں کی ناکامی کے باعث یا وجہ جو بھی ہو عوام کو اس وقت لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے اوراس صورتحال میں بہتری آنے کا کوئی امکان نہیں البتہ ابتری کا امکان نظرآتا ہے۔ گو کہ موجودہ حکومت سابق حکومت سے بجلی کے بحران کے حل اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے میں کامیاب ضرور ہوئی ہے لیکن جب تک طلب و رسد کا توازن مساوی نہیں ہوتا اس وقت تک بجلی کے بحران کے حل کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں