Daily Mashriq


افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی موثر نگرانی کی ضرورت

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی موثر نگرانی کی ضرورت

وفاقی حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال میں ملوث تاجروں پر بھاری جرمانے اور7 سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون نافذ کردیا ہے جبکہ غیر قانونی اشیا کی ترسیل میں استعمال ہونیوالی گاڑیاں ضبط کرکے اشیا کی مالیت سے10 گنا زیادہ جرمانے عائد کئے جائیں گے۔فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعے کسٹمزایکٹ 1969 میں کی جانے والی ترامیم نافذ کردی گئیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم مسئلہ رہا ہے اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں سمگلنگ میںاضافے کاایک بڑا سبب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کاغلط استعمال ہے جس کے باعث نہ صرف حکومت کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے مد میں اربوں کے نقصان کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اس سے مقامی صنعتیں اور ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سمگلنگ کے باعث وہ مال اور اشیاء بھی ملک میں آجاتی ہیں جن کو لانے کی سرے سے اجازت ہی نہیں۔ افغان ٹرانزٹ کے نام پر ہونے والی تجارت کا مال اکثر راستے میں اتار لیاجاتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اب تک کے اقدامات غیر موثر اور پوری طرح ناکام رہے ہیں جس میں پاکستانی حکام کی ملی بھگت اور چشم پوشی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ اگرچہ اب محولہ نوعیت کی سزائوں کا قانون بنا یاگیا ہے مگر اس کے باوجود اس قانون کا عملی اطلاق ہی انسداد سمگلنگ کی ضمانت قرار دینا غلط نہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین کے موثر نفاذ کے لئے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور ان کاعملی اطلاق ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرانسپورٹروں کی گاڑیوں کی پوری طرح مانیٹرنگ اور مال کی واپسی کے امکانات کی روک تھام کے لئے موثر نظام وضع کیا جائے۔ ملزموں کی گرفتاری کے بعد مقدمہ چلانے کا عمل بھی خاص طور پر موثر بنانا ہوگا اور عدالتوں میں ٹھوس شواہد پیش کرکے ان کو سزائیں دلوانا ہوںگی۔ اگر ان قوانین کا موثر نفاذ ہو پائے تو نہ صرف سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ دیگر بے قاعدگیوں کی بھی روک تھام ہوسکے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ متعلقہ محکمے اپنی کارکردگی بہتر بنائیں گے اور ذمہ داریاں پوری کرکے سمگلنگ کے امکانات تک کو معدوم کیا جائے گا اور ملکی معیشت کو نشوونما پانے اور خاص طور پر ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں معقول اور کثیر رقم جمع ہونے کو یقینی بنایا جائے گا۔

درزیوں کے من مانے ریٹ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا

عیدالفطر کی آمد کے باعث درزیوں کے پاس کپڑوں کی سلائی کی گنجائش ختم ہونا اور لوڈشیڈنگ کے باعث غیر یقینی صورتحال اپنی جگہ لیکن درزیوں کے سلائی کے ریٹ مقرر کرنے میں حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی سے شہری دوہری مشکل کا شکار ہیں۔ اسی دور حکومت میں درزیوں کی درجہ بندی کرکے سلائی کے ریٹ مقرر کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس پرعملدرآمد ممکن نہ ہوسکا۔سلائی میں مہنگائی کے باعث اضافہ فطری امر ہے لیکن اصل مسئلہ درزیوں کی سلائی کے ریٹ میں مسلسل اضافہ سے سلائی کی رقم اتنی بڑھ گئی ہے کہ عام آدمی جوڑا سلوانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بہتر ہوگا کہ ضلعی انتظامیہ اس کا نوٹس لے اور ایک معیار مقرر کرتے ہوئے سلائی کی رقم طے کردی جائے تاکہ گاہکوں کو درزیوں کی من مانی سے نجات ملے اور درزی اپنی مرضی کے ریٹ کی وصولی پران کو مجبور نہ کرسکیں۔

متعلقہ خبریں