Daily Mashriq


نوجوان ہمارا اصل اثاثہ

نوجوان ہمارا اصل اثاثہ

میں اس وقت نوجوانوں کی تعداد 13کروڑ سے زیادہ ہے جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، مگر ہماری بد قسمتی ہے کہ وطن عزیز میں ان نو جوانوں کے روز گار اور دیگر مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال میں 35 لاکھ نو جوان نوکری کے لئے تیار ہوتے ہیں مگر ریاستی سطح پر ان جوانوں کے لئے روز گار کا کوئی انتظام نہیں ۔ اگر ہمغور کریں تو ان نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت پر والدین کے لاکھوں روپے خرچ ہو تے ہیں مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان بچوں اور بچیوں کو کوئی روزگار نہیں ملتا نتیجتاً ان میں زیادہ تر نشہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ ہم جس خطے یا علاقے میں رہتے ہیں وہاں پر نشہ آوراشیاء کی کوئی کمی نہیں ۔ افغانستان جو ہمارا پڑوسی برادر ملک ہے وہاں پر تقریباً 6 لاکھ ایکڑ زمین پر پوست کی کاشت کی جاتی ہے اور دوسرے لفظوں میں دنیا کی 75 فی صد ہیروئن افغانستان میں تیار ہوتی ہے۔ دنیامیں کُل 400 ملین لوگ مختلف قسم کی نشہ آور اشیاء کے استعمال کے عادی ہیں اور پاکستان میں تقریباً 10 ملین لوگ مختلف قسم کی نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 3 ہزار لوگ نشہ آور اشیاء کے استعمال کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔اس وقت نشہ کے عادی افراد کے علاج کے لئے 1900 بیڈ مختلف ہسپتالوں میں دستیاب ہیں جو نہ ہونے کے برابر ہے۔اور ہسپتالوں میں ان بیڈز سے تقریباً 30 ہزار نشئی افراد کا علاج ممکن ہے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو دنیا میں نشہ آور اشیاء کی 600 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔دنیا میں تقریباً 10 قسم کی نشہ آور اشیاء استعمال ہوتی ہیں ۔ نشہ آور اشیاء کے استعمال میں ٹاپ ٹن ممالک میں ایران ، بر طانیہ، فرانس ، سالویکیا، روس ، افغانستان، کینیڈا، امریکہ، برازیل اورمیکسیکو شامل ہیں۔ان میں اکثر ممالک کا خیال ہے کہ زیادہ تر نشہ آور اشیاء افغا نستان اور پاکستان سے انکے ممالک میں سمگل ہوتی ہیں۔ اور وہ اسی کے لئے پاکستان اور افغانستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ایک طرف اگر نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ میں ہمارے بڑے بڑے لوگ ملوث ہیں تو دوسری طرف یہی لوگ اس کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں۔میرا دفتر اسلام آباد کے جس سیکٹر میں ہے وہاں سینکڑوں تعلیمی ادارے ہیں اور اکثر ان تعلیمی اداروں کے بچے بچیاں اپنے تعلیمی اداروں سے باہر نکل کر سگریٹ چرس اور دوسری کئی نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں۔پہلے پہل یہی بچے اور بچیاں ان نشہ آور اشیاء کو فیشن اور سٹیٹس سمبل کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر بعد میں یہ نشہ ان کی جان نہیں چھوڑتا اور اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاشرے کے ناکارہ پُرزے بن جاتے ہیں۔ حکومت کا یہ انتہائی اچھا اقدام ہے کہ انہوں نے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخو اکے ساتھ ضم کیا ہے ۔ اس سے کم ازکم یہ ہوگا کہ خیبر پختون خوا میں فا ٹا کے ضم ہونے کے بعد ان علاقوں میں جرائم کی تعداد میں ضرور کمی آئے گی اور نشہ آور اشیاء کی سمگلنگ اور کاروبار میں ریکارڈ کمی ہوگی۔ کیونکہ اکثر و بیشتر یہ بات نو ٹ کی گئی کہ پو رے پاکستان میں جہاں کوئی قتل اور ڈاکے کرتے ہیں تو وہ قبائلی علاقہ جات میں پناہ لیتے ہیں۔ میں یہاں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ سگریٹ نو شی پر سخت سے سخت پابندی لگا ئی جائے کیونکہ نشے کے استعمال میں سگریٹ کا کلیدی کردار ہو تا ہے۔ پہلے لڑکے سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں اور اس کے بعد بات چرس، ہیروئن اور افیون کے استعمال تک پہنچ جاتی ہے۔پہلے ایک نو جوان کسی بھی نشے کو سکون اور آرام کے لئے استعمال کرتا ہے اور بعد میں اس کی نیندیں اور آرام ختم ہوجاتا ہے۔ ملک کے ماہر نفسیات فرید منہاس کا کہنا ہے کہ نشہ آور اشیا کسی نشہ کرنے والے کو ایک ایسے مقام پر لے جاتا ہے جہاں سے پھر اس کی واپسی مشکل ہے۔اس سلسلے میں میری والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سر گر میوں کو صحیح طریقے سے مانیٹر کریں بصورت دیگرغلط راستے پر پڑ کراسکو واپس اپنی حالت پر لانا مشکل ہوتا ہے۔ارباب اختیار سے بھی گزارش کر تا ہوں کہ جس طرح سعودی عرب اور ایران میں نشہ آور اشیاء بیچنے والوں کے لئے سزائے موت مقرر ہے اسی طرح پاکستان میں بھی اس قسم کی سزائیں ہونی چاہئے تاکہ نشہ آور اشیا کا روک تھام ہو جائے۔علاوہ ازیں ملک اور خا ص طور پر ملک کے با ہر لوگوں کے لئے خا ص کائو نٹر ہونا چاہئے تاکہ نشہ آور اشیاء کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔علاوہ ازیں ملک میں صنعتی زون قائم کرنا چاہئے تاکہ ہماری جوان نسل ان صنعتی علاقوں سے فائدہ اُٹھاسکے۔ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے اہل قیادت مُنتخب کریں تاکہ وہ ملک اور قوم کے لئے صحیح پالیسیاں بنائیں ۔ جب تک نوجوانوں کو روزگار نہیں دیں گے صنعتی علاقے قائم نہیں کریں گے تو مسائل حل نہیں ہونگے۔ 

متعلقہ خبریں