Daily Mashriq


فاٹا اور پاٹا کی نئی حیثیت

فاٹا اور پاٹا کی نئی حیثیت

گزشتہ دنوں ملک کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ نے دو تہائی اکثریت سے فاٹا انضمام بل منظور کر کے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔اس تاریخی عمل کو تمام سیاسی پارٹیوں سمیت ملک کے تمام حلقوں میں سراہا گیا۔ماسوائے جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے جنہوں نے فاٹا کے انضمام کے طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔وہ بھی بنیادی طور پر انضمام کے حق میں ہیں ۔لیکن طریقہ کار سے اختلاف رکھتے ہیں۔ایک دلچسپ بات یہ ہے 1947 ء میں جب پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تو قوم پرست سیاسی پارٹیوں نے پختونوں کی پانچ حصوں میں تقسیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھااور یہ نعرہ بلند کیاتھا کہ پختون سب ایک ہیں ۔لیکن جب موجودہ حکومت نے پختونوںکے دو بڑے حصوں کو اکٹھا کیا تو وہی قوم پرست جماعت خصوصی طور پر پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس کی بھر پور مخالفت شروع کی۔اس مخالفت کی وجہ سمجھ نہیںآ تی۔صوبائی اسمبلی میں بھی جمعیت علماء اسلام (ف) کے احتجاج کے باوجود قبائلی علاقے کے انضمام کا بل منظور ہوگیا ہے قبائلی علاقے آئین پاکستان کی رو سے پاکستان کا حصہ ہیں۔لیکن صدر پاکستان کے خصوصی اختیارات آرٹیکلز 51 ،59 اور247 قومی اسمبلی کے نافذ کردہ سارے قوانین کا اطلاق علاقے پر نہیں ہوتا تھا۔لیکن مئی 2018 ء میں 31ویں ترمیم کے بعد ان آرٹیکلز کو حذف کردیا ہے اور قبائلی علاقہ جات اب صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک حصہ ہے۔جہاں پر سارے قوانین لاگو ہوںگے۔ جو صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں لاگو ہیں۔ماضی میں وہ سیاسی پارٹیاںجو اس مطالبے کی حمایت کررہی تھیں۔آج وہ اس مطالبے کی مخالفت کررہی ہیں۔البتہ خیبر پختونخواکی قوم پرست جماعتیں اس انضمام پر جشن منا رہی ہیں۔لیکن بلوچستان کی ایک سیاسی جماعت اس کی مخالفت پر تلی ہوئی ہے۔جس کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نظر نہیں آرہی ہے۔جو اصل بات ہے اورجسکی وجہ سے مخالفت کی جارہی ہے وہ سامنے لانے سے مکمل تصویر واضح ہونے کے امکانات ہیں۔ لیکن درپردہ ایسی بات ضرور ہے جس کو سامنے نہیں لایا جاسکتا۔بہر حال وقت خودبخود ثابت کردیگا کہ مخالفت کی وجوہات کیا تھیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد سے لیکر کئی سال تک قبائلی علاقوں کو بفرزون کی حیثیت سے الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔لیکن پچھلے چند سالوں سے یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ فاٹا کی جداگانہ حیثیت ختم کر کے اس کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔سیاسی پارٹیوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ سرحدات کی حفاظت کے لئے عسکری قوتوں نے افغانستان اور پاکستان کی سرحدات پر باڑ لگانے اور بارڈر کو مضبوط کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔آج کی ترجیحات اور ضروریات کے مطابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کو ضروری سمجھاگیا جس کے لئے اتنا بڑا قدام اُٹھانا پڑا۔اس فیصلے کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے بڑے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔فاٹا کے انضمام کے بعد فاٹا میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ اور جو اہداف مقرر کئے گئے ہیںاُس کو حاصل کرنے میںکوئی رکاوٹ نہ ہو۔اس پسماندہ علاقے کو دوسرے علاقوں کے برابر لانے کے لئے شب وروز محنت کی ضرورت ہوگی اور تمام اداروں کو فعال بنایا جائیگا۔جس سے تعلیم ،صحت ،مواصلات کے شعبوں میں جو کمی ہے اُس کو پورا کیا جاسکے۔ابھی فاٹا کی قسمت بدلنے کا فیصلہ ہی ہوا تھا کہ پاٹا (صوبائی حکومت کے زیر اہتمام علاقے)میں بھی احتجاج شروع ہواکہ آئینی ترمیم میں پاٹا کو بھی فاٹا کے ساتھ حذف کردیا گیا۔تاکہ قومی دھارے میںشامل کیا جاسکے۔حالیہ مردم شماری کے مطابق سے پاٹا کی آبادی تقریباً 76لاکھ ہے۔پاٹا میں ضلع چترال،ضلع اپر دیر،ضلع لوئر دیر، ضلع سوات ،ضلع بونیر ،ضلع شانگلہ ،ضلع کوہستان،ضلع کالا ڈھاکہ،ملاکنڈ اور ضلع مانسہرہ کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقہ جات ضلع بٹگرام،الائی اور اپر تناولو میر شامل ہیں۔31 ویں ترمیم نے نہ صرف فاٹا کی حیثیت تبدیل کی بلکہ صوبے کے زیر اہتمام قبائلی علاقہ جات (پاٹا) کی حیثیت بھی تبدیل ہوگئی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا میں کل اضلاع کی تعداد 26ہے۔ان 26اضلاع میں پانچ اضلاع پاٹا میں شامل ہیں۔ملاکنڈ کو سر کرنے کے لئے اور افغانستان تک براستہ چترال پہنچنے کے لئے انگریزوں کے دور 1895 ء میں ملاکنڈ کو قبائلی علاقوں میں تقسیم کیا گیا ۔1969 ء میں سابقہ ریاست سوات ،سابقہ ریاست دیر ،سابقہ ریاست چترال اور سابقہ ریاست باجوڑ کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا ۔1973 ء کے آئین میں ملاکنڈ کو پاٹا میں تبدیل کیا گیا ۔پاٹا کے سارے انتظامی اختیارات گورنر صوبہ خیبر پختونخوا کو منتقل کئے گئے۔پاٹا اور فاٹا میں رائج قوانین میں نمایاں فرق ہے۔پاٹا میں خاص طور پر ٹیکسوں کے نظام ،ٹیکسوں کے نفاذ اور ادائیگی کے علاوہ عدالتی نظام بھی مختلف ہے۔پاٹا کے عوام نے خصوصی طور پر ٹیکسوںکی مد میں خصوصی مراعات کا مطالبہ کیا ہے۔اُن کی دلیل یہ ہے کہ پاٹا بھی فاٹا کی طرح پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقہ ہے۔لہٰذا پاٹا کو یکسر اُن رعایتوں سے اور مراعات سے نہ نکالا جائے۔پاٹا والوںکا اس کے علاوہ کوئی خاص مطالبہ نہیںہے۔مرکزی اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ جو اتنا بڑا اور تاریخی کام سرانجام دیا ہے۔ تو یہ اتنا بڑا کام نہیں ہے۔پاٹا کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کی ضرورت ہے۔

گزشتہ کئی سالوں میں اس علاقے پر فاٹا کے عوام کی طرح جو مصیبتیں آئیںاُن پر مرہم لگانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انکے زخم مندمل ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں