Daily Mashriq


مولوی جی سرکار اور مشکوٰۃ شریف

مولوی جی سرکار اور مشکوٰۃ شریف

اللہ مغفرت کرے لکھتے رہنے اور لکھ کر منصہ شہود پر لانے والوں میں کمال کے آدمی تھے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان ،بسیار نویس ،کالم نگار درجنوں کتابوں کے مصنف نجانے رخش قلم کے اس شاہسوار کے دل میں کیا بات سمائی کہ وہ راقم السطور کے پاس ’’اردو رپورتاژنگاری ‘‘کے موضوع پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل اپنی ایک بھاری بھرکم نو تصنیف کتاب لے کر آگئے اور کہنے لگے کہ’’ اسے پڑھو بھی اوراس پر تبصرہ بھی کرو‘‘۔ بڑے عجیب امتحان میں مبتلا کردیا ڈاکٹر صاحب نے ، سو میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ان کی اس بھاری بھرکم کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھدیا کہ ’’ ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کے امریکہ میں مقیم دوست ڈاکٹر سید امجد حسین رات کو سوتے وقت اپنے سرہانے بندوق یا ڈنڈا رکھنا چھوڑ دیں اور یہ بھاری بھرکم کتاب رکھنا شروع کردیں‘‘ بھلا ہو ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کا اپنی بہترین کتاب پر مجھ جیسے جاہل مطلق کا یہ تبصرہ پڑھ کر ناراض نہ ہوئے لیکن ناراض ناراض سے ضرور رہنے لگے ، قارئین کرام اس وقت میرے سامنے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر 1حیات آباد کا سال 2018ء کے دوران شائع ہونے والا اولین کالج میگزین ’’ مشکوٰۃ ‘‘پڑا ہوا ہے ۔ نہایت دیدہ زیب سرورق،اعلیٰ ترین اوراق، جن پر کالج کی خواتین طالبات و اساتذہ کے رشحات قلم یا ان کا حاصل مطالعہ اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی زبان میں شائع ہوکر منصہ شہود پر آ یا ہے ، بڑی اچھی ، ہلکی پھلکی اور اپنی گرفت میں لینے والی تحریریں ذوق والوں کی تواضع کرنے کے لئے موجود ہیں اس میگزین میں ، لیکن اسے راقم السطورکی کم فہمی کہئے یا اس کی تنگ نظری کہ اس کو اس میگزین کا عنوان ’’ مشکوٰۃ‘‘ عجیب سا لگ رہا ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ لفظ پڑھ کر ہم نے یہ میگزین ایک طرف رکھ دیا کہ ایسے میں ہمیںحضرت علامہ سیدمحمد امیر شاہ قادری مولوی جی سرکار یاد آنے لگے تھے ، وہ تیرہ رمضان المبارک25 14 ہجری بمطابق 27 اکتوبر 2004ء تھی، ہم افطار اور صلوٰۃ التراویح سے فارغ ہونے کے بعد اپنے آبائی مکان میں بیٹھے یکہ توت منڈی بیری کی مسجد میں لگے لاؤڈ سپیکر سے آتی محفل درودو سلام کی روح پرور آواز سننے کی سعادت حاصل کر رہے تھے کہ ایسے میں مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر یہ افسوس ناک اعلان سننے کو ملا کہ حضرت سید علامہ محمد امیر شاہ قادری مولوی جی سرکار اس جہان فانی سے پردہ فرما گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بڑی اذیت ناک خبر تھی۔ جن کی چوکھٹ پہ بچپن گزرا، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا اور پھر

اب کے جو بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

کے مصداق ہم عہد جوانی کو بہت پیچھے چھوڑ کر عہد پیرانہ سالی تک جاپہنچے ۔ میں تو میں، میرے والد مرحوم امام مسجد، حافظ نور محمد اور حرمین شریفین کا پیدل سفر کرکے چار بار حج کی سعادت حاصل کرنے والے دادا بزرگوار حاجی فضل محمود ا ور اللہ سلامت رکھے متعدد کتابوں کے مصنف اورتصوف کی منزلیں طے کرنے اور خلیفہ طریقت کا رتبہ حاصل کرنے والے میرے ضعیف العمر چچا الحاج علاء الدین عدیم الغرض یہ کہ میرے آباء اور ان کے خانوادے کا ہر ہر فرد جس آستانے سے دینی اور،ر روحانی اکتساب فیض کرتا رہا آج وہ آستانہ عالیہ اپنے وارث حضرت مولوی جی سرکار کے سایہ عافیت سے محروم ہوا چاہتا ہے ۔ آپ کی گفتار اور کردار میں تضاد نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ آپ مولانا روم کے اس پیغام کا مرقع تھے جس میں انہوں نے زندگی کا مقصد بندگی کو قرار دیا ہے

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

ہم اور ہمارے بہت سے ساتھی مولوی جی سرکار ؒکے ہاں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد درس قرآن مجید پڑھنے بیٹھ جاتے ، آپ ہمیں کلام مجید فرقان حمید کا ترجمہ اور تفسیر سے روشناس فرماتے بعد ازاں ہم مشکوٰۃ شریف کا درس دیتے ، احادیث قدسیہ کی تلاوت کرتے اور ان کا دل پذیر اردو ترجمہ اور اس کی شرح سے واقفیت حاصل کرتے۔ حیات آباد گرلز کالج کے میگزین کے عنوان کو دیکھ کر مشکوٰۃ شریف کے درس کا یاد آجانا فطری سی بات تھی، جس کے فوراً بعد احساس ہونے لگا کہ غم حیات نے ہمیں یکہ توت شریف کے آستانہ عالیہ سے دور پھینک دیا ہے ، کم از کم حضور مولوی جی سرکارؒ کے عرس مبارک پر تو حاضری کا شرف حاصل کر نے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے ، اس غرض سے ان کے مصاحب خاص جناب انور شاہ قادری سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ہر سال رمضان المبارک کی تیرہ تاریخ کو ہونے والے عرس کی تفصیلات طلب کیں تو معلوم ہوا کہ اب کے برس عرس مبارک رمضان المبارک کی بجائے اکتوبر کے مہینے میں ہونا قرار پایا ہے ۔ وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ ان کے معتقدین روزے کی حالت میں دور دور سے تشریف لاتے ہیں ، سو ان کی تکلیف کے پیش نظر مولوی جی سرکار کا عرس مبارک اکتوبر کے مہینے میںہونا قرار پایا ہے ، یہ بات سن کر اس موضوع پر لب کشائی کرنے کو جی چاہا اور یوں کالج میگزین پر تبصرہ اس فرض کے قرض کو چکانے کا ایک بہانہ بن گیا، لیکن میں میگزین والوں سے اتنا بھی نہ پوچھ سکا کہ کیا اسطرح کسی کالج میگزین کو مشکوٰۃ کا نام دینا چاہئے؟

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی

پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

متعلقہ خبریں