Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مشہور محدث عبداللہ بن مبارک ایک مرتبہ کسی سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے ، وہاں ان کی مجلس میںایک بہت خوبصورت نوجوان بھی بیٹھاہوا تھا ، انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا : یہ ایک عیسائی لڑکا ہے اور اس کانام حسن بن عیسیٰ ہے ۔ انہوںنے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی : ’’اے اللہ ! اس نوجوان کو اسلام کی دولت نصیب فرما‘‘وہ لڑکا چند روز تک عبداللہ بن مبارک ؒ کی مجلس میں آتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرمالیا ۔ وہ نوجوان کلمہ شہادت پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوگیا ۔

(بحوالہ : سیراعلام النبیلاء : 12/29)

مشہور عباسی خلیفہ مہدی کے دور کی بات ہے کہ ایک دن بہت تیز آندھی اور طوفان آیا ۔ آسمان کالا ہوگیا ، لوگوں نے سمجھا : قیامت برپا ہوگئی ، اس واقعہ کے راوی دائود بن رشید کہتے ہیں : خلیفہ کے معتمد خاص سلمان نے ایوان خلافت میں دیکھا کہ مہدی نظر نہیں آرہا ۔ اس نے ادھر اُدھر تلاش شروع کردی ۔ ایک طر ف اس نے دیکھا تو خلیفہ نے مٹی پر سر سجدہ میں رکھا ہوا تھا اور بارگاہ الٰہی میں دعا کر رہا تھا : ’’اے اللہ ہمیں ہلاک کرکے ہمارے دشمنوں کو خوش اور ہمارے نبی ؐ کو پریشان نہ کر ۔ اللہ ! اگر میرے گناہوں کے باعث عام لوگوں کو تونے پکڑنے کا ارادہ کر لیا ہے تو میری یہ خطا کار پیشانی تیرے سامنے حاضر ہے ‘‘۔ سلمان کہتا ہے کہ خلیفہ نے جیسے ہی دعا ختم کی ، آندھی اور طوفان تھم گیا اور ہر چیز پہلے کی طرح اپنی جگہ پر آگئی ۔

(بحوالہ : سیراعلام النبلا ء 7/402)

ایک بزرگ ولی اللہ نے شیخ بو علی سینا ؒ سے فرمایا کہ تونے علوم عقلیہ اور فلسفہ میں اپنی ساری عمر برباد کی ،آخر کس مرتبہ تک پہنچا ؟شیخ بوعلی سیناؒ نے فرمایا کہ دن میں مجھے ایک ایسی گھڑی اورساعت کا علم ہے کہ اس گھڑی میں لوہا آٹے کی طرح نرم ہوجاتا ہے بزرگ نے فرمایا جب وہ وقت اور گھڑی آئے تو مجھے بتانا چنانچہ شیخ بو علی سینا ؒ نے وہ گھڑی بتادی اور ہاتھ میں لوہا لے کر اس میں انگلی داخل کر دی تو انگلی اس کے اندر دھنس گئی وہ وقت اور گھڑی گزر جانے پر اس بزرگ نے شیخ بوعلی سیناؒ سے فرمایا کہ اب پھر اسی طرح لوہے کے اندر انگلی داخل کرو شیخ بو علی سیناؒ نے کہا وہ گھڑ ی گزر چکی ہے ، اب ممکن نہیں ، تو اس بزرگ نے لوہا ہاتھ میں لے کر کرامت سے اپنی انگلی اس میں داخل کردی اور فرمایا کہ عقلمند کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی عمر عزیز ایسی بے کار چیزوں میں تباہ کردے ، یہ کوئی کمال نہیں کمال یہ ہے کہ آخرت کے لیے بندہ محنت کرے اور اپنے اللہ کو راضی کر لے شیخ بو علی سینا ؒ اس سے بہت متاثر ہوئے اور ان کی زندگی میں تبدیلی آگئی مرض الموت میں دل سے توبہ کی ، اپنا مال فقراء پر صدقہ کیا ، اپنے تمام حقوق ادا کر دیئے اور کثرت کے ساتھ تلاوت کرنے لگے چنانچہ ہر تیسرے دن ایک قرآن کریم ختم کرتے تھے اور جب ان کاانتقال ہو اتو صحیح بخاری شریف ان کے سینے پر پڑی تھی ۔ (ظفرالمحصلین )

متعلقہ خبریں