Daily Mashriq


دیر کس بات کی؟

دیر کس بات کی؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے وزیرستان میں پی ٹی ایم کی جانب سے پاک فوج پر حملے میں زخمیوں کی عیادت کے موقع پر کہا کہ ریاست مخالف عناصر کو آئندہ مکمل کنٹرول کیا جائے گا۔ قبائلی علاقے کے عوام کی محرومیاں دور کریں گے جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو کہاں سے کتنا فنڈ مل رہا ہے ان کے ثبوت موجود ہیں، پی ٹی ایم بیرونی ایجنڈے پر کام کرکے قبائلی عوام اور پختونوں کو ریاستی اداروں کیخلاف بندوق اُٹھانے پر اکسا رہی ہے، ریاست اب ایسے عناصر کو پنپنے نہیں دے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر اطلاعات کا کافی خاموشی کے بعد وزیرستان کے افسوسناک واقعے کے حوالے سے جو بیانات سامنے آئے ہیں اس کے مطابق وزیراعلیٰ وہاں کے مسائل اور معاملات بارے ان سے رابطہ کرنے اور ان کے علم میں لانے کے متمنی ہیں جبکہ وزیر اطلاعات نے پی ٹی ایم کی قیادت پر جو الزامات دہرائے ہیں ان دونوں کے اپنے موقف اور بیانات کی روشنی میں اب صوبائی حکومت کو تاخیر ہی سے سہی اپنے ایک ضلع میں حالات کو سدھارنے کیلئے خود کو عملی اقدامات کا مکلف اور عملی صلاحیت کا حامل ثابت کر کے آگے آنے کی ضرورت ہے، اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ شمالی وزیرستان میں حالات بارے فیصلہ کرنے اور تمام معاملات نمٹانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے لیکن تاایندم ایسی کوئی پیشرفت اور اقدامات نظر نہیں آئے جس سے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی ہوتی نظر آئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بجاطور پر پی ٹی ایم کے حملے کو شرمناک ٹھہرایا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف شرمناک ہی نہیں تھا بلکہ کسی ریاست کی فوج پر حملہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور ایسا کرنے والے عناصر باغی گردانے جاتے ہیں مگر ابھی تک سوائے ایک گرفتاری کے اس ضمن میں کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔ ریاست مخالف عناصر کے معروضات اور مسائل بارے وزیراعلیٰ کا ان سے رجوع کی دعوت بالکل اصولی ہے البتہ اس ضمن میں اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ شمالی وزیرستان کے واقعے میں ملوث تنظیم کے مطالبات نئے نہیں اور نہ ہی انہوں نے اچانک اپنے تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے، خود صوبائی حکومت اور پی ٹی ایم کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ہوتی رہیں۔ وزیراعلیٰ ان کے معاملات اور حالات سے لاعلم نہیں اور ان کے مطالبات بھی پوشیدہ اور خفیہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بات مطالبات اور تحفظات سے آگاہی کی نہیں ان کو دور کرنے کی ہے جس کی سنجیدہ مساعی نہ ہونے سے ہی معاملات کا رخ خرابی کی طرف ہوچکا ہے لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تازہ دعوت کا جلد سے جلد مثبت جواب کی صورت میں ان سے رابطہ کرنا چاہئے، اس ضمن میں عیدالفطر کا بھی انتظار نہ کیا جائے تاکہ جتنا جلد ممکن ہو سکے اس کشیدہ صورتحال کو موضوع بحث لایا جائے جس سے جلد سے جلد حالات کو معمول پر لایا جا سکے، فی الوقت شمالی وزیرستان میں دفعہ144 کے نفاذ ہی کی حد تک مستند معلومات ہیں، اس انتظامی ضرورت پر معترض ہونے کی گنجائش نہیں، البتہ علاوہ ازیں کوئی ایسی صورتحال نہیں ہونی چاہئے جو رمضان المبارک کی ان مقدس ساعتوں اور عیدالفطر کی خوشیوں میں مخل ہو۔ جہاں تک صوبائی وزیراطلاعات کے فرمودات کا تعلق ہے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ حکومت کو پی ٹی ایم کے حوالے سے مستند معلومات تھیں، ٹھوس شواہد کا علم ہے، رابطوں اور رقوم پوشیدہ نہیں لیکن اس کے باوجود پی ٹی ایم کی قیادت کیخلاف کسی عدالت میں کوئی مقدمہ دائر نہیں، کوئی گرفتاریاں نہیں اور کوئی عملی کارروائی نہیں۔ کیا اس قسم کے سنگین الزامات کے باوجود صوبائی حکومت کی طرف سے عملی اقدامات نہ اُٹھانا اپنی جگہ خود ایک سوال نہیں جسے ارتکاب غفلت اور صرف نظر کی پالیسی قرار دینے کی پوری گنجائش ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب حالات اس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ صوبائی حکومت محض الفاظ کی حد تک خود کو محدود نہ کرے بلکہ ان عناصر کیخلاف ٹھوس قانونی راستہ اختیار کیا جائے جو بیرون ملک سے رقم کی وصولی اور دشمنوں سے رابطے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس معاملے کے طشت ازبام ہونے کے بعد صوبائی حکومت عملی اقدامات سے گریزاں کیوں ہے؟ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے بھی انہی معاملات کے پیش نظر پی ٹی ایم کیلئے مہلت ختم ہونے اور سخت اقدامات کا عندیہ دیا تھا لیکن چونکہ یہ ذمہ داری پاک فوج کی نہیں حکومت کی ہے اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پی ٹی ایم کیخلاف ان الزامات کے تحت کارروائی کرے، گرفتاریاں کی جائیں اور الزامات کو عدالت میں ثابت کر کے ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ معاملہ اب کافی حد تک گمبھیر، پیچیدہ اور خطرناک ہوچکا ہے اس لئے اس ضمن میں یا تو سنجیدہ قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور اگر مصلحت مطلوب ہے تو اس کا نتیجہ مصالحت اور حالات کو معمول پر لاتے ہوئے اس صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہئے جو حالات کی خرابی کا باعث بن رہا ہے۔

متعلقہ خبریں